ہومبریکنگ نیوزپاکستان میں جولائی میں معمول سے کم بارشیں ریکارڈ، خشک سالی سے سندھ اور بلوچستان شدید متاثر

پاکستان میں جولائی میں معمول سے کم بارشیں ریکارڈ، خشک سالی سے سندھ اور بلوچستان شدید متاثر

اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان میں جولائی 2026 کے دوران معمول سے 6 فیصد کم بارشیں ریکارڈ کی گئیں جس کے باعث ملک بھر میں اوسط بارش 89.3 ملی میٹر رہی۔سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کی شدید کمی نے تشویش کو جنم دیا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں معمول سے 86.2 فیصد زیادہ بارشوں نے سب کو حیران کر دیا۔موسمیاتی اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں بارشوں کی سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی جہاں معمول کے مقابلے میں 74 فیصد کم بارش ہوئی۔

بلوچستان میں بھی صورتحال تشویشناک رہی جہاں بارشیں معمول سے 35 فیصد کم رہیں۔ خیبر پختونخوا میں بھی بارشوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا اور یہاں معمول سے 7.4 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔اس کے برعکس آزاد جموں کشمیر میں بارشوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا جہاں معمول سے 2.9 فیصد زیادہ بارش ہوئی، جبکہ پنجاب میں بھی 6.1 فیصد اضافے کے ساتھ بارشیں معمول سے تھوڑی زیادہ رہیں۔ سب سے نمایاں تبدیلی گلگت بلتستان میں سامنے آئی جہاں بارشوں میں 86.2 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو رواں سال کے مون سون سیزن کا سب سے زیادہ فیصد اضافہ ہے۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق جولائی کے مہینے میں بارشوں کے انداز میں سالانہ بنیادوں پر نمایاں اتار چڑھا دیکھنے میں آتا ہے۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی 2025 میں پاکستان میں معمول سے 25 فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئی تھیں، جبکہ اس کے برعکس جولائی 2024 میں بارشوں میں 9 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔اس تناظر میں جولائی 2026 کی 6 فیصد کمی کو مکمل خشک سالی قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم صوبائی سطح پر پائی جانے والی شدید کمی، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں زرعی اور آبی وسائل کے حوالے سے تشویش کا باعث ضرور ہے۔

پاکستان کا زرعی نظام بڑی حد تک مون سون کی بارشوں پر منحصر ہے، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان جیسے علاقوں میں جہاں پانی کی قلت پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں میں غیر متوازن صورت حال، یعنی ایک طرف شدید کمی اور دوسری طرف غیر معمولی اضافہ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔گلگت بلتستان میں بارشوں کے غیر معمولی اضافے سے گلیشیئرز کے پگھلا اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے خدشات بھی جنم لے سکتے ہیں، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کی کمی زرعی پیداوار اور پینے کے پانی کی فراہمی کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین موسمیات کا مشورہ ہے کہ متعلقہ حکام کو ان علاقائی سطح پر بارشوں کے فرق کے پیش نظر پانی کے ذخائر اور زرعی منصوبہ بندی میں مناسب حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔