اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ صحافی عوام اور پارلیمان کے درمیان پل ہیں ،میڈیا ریاست کا اہم ستون ہے ،متحرک میڈیا کی موجودگی میں معاشرے سے منفی باتیں کم ہوں گی ۔
پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نیوز کا خاتمہ ضروری ہے،میڈیا پارلیمان کا اہم جزو ہے،میری ہمیشہ پارلیمان کی پریس گیلری پر نظر ہوتی ہے ۔ یوم آزادء پر قومی اسمبلی میں اہم تقریبات ہوئیں ۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یوم آزادی پر قومی اسمبلی ہال کو عام عوام کے لیے کھولا گیا ،عام خواتین ، بچوں اور اقلیتوں کو قومی اسمبلی ہال میں پہلی مرتبہ اپنء آواز بلند کرنے کا موقع دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اٹھنے والی غلط آوازوں سے تکرار کی بجائے اپنا مثبت کام جاری رکھیں گے ،پارلیمنٹ کی عزت و توقیر پر کبھی سمجھوتہ نہیں کروں گا نہ کسی اور کو کرنا چاہیے ۔ میڈیا پارلیمنٹ کا ایک اہم حصہ ہے ،میں نے سپیکر بننے کے بعد پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے تمام پابندیاں ختم کیں ،پارلیمنٹ کے کام اور کردار سے متعلق منفی خبریں پارلیمنٹ پر حملہ ہیں ۔ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ نیاگرا فال دیکھنا کیا کوئی گناہ ہے ؟
سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے اعزاز میں ظہرانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کا پارلیمنٹ میں ایک مقام ہے ،پی آر اے سب سے فعال ترین ادارہ اور ایک پل کا کردار ادا کررہا ہے ،ایک ایسا وقت آگیا ہے کہ بغیر دیکھے سنے رپورٹنگ کی جاتی ہے جن کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر ،پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن اور اس کے ممبران مستند رپورٹنگ کررہے ہیں جو لائق تحسین ہے ،پارلیمنٹ کی کوریج کی ذمہ داری اور بہتر رپورٹنگ آپ کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ صحافی جب پریس گیلری میں بیٹھے ہوتے ہیں تو اس سے پارلیمان کی عزت و وقار میں اضافہ ہوتا ہے ،آزادی کی تین روز تک تقاریب پارلیمنٹ ہاس میں منعقد ہوئیں، عوام کے لیے اس کو کھول دیا گیا ،ہم نے تمام شعبہ ہائے زندگی کے لیے پارلیمان کو کھولا تاکہ وہ اپنا مطمع نظر بیان کیا ،ہم نے خواتین، بچوں اور خواجہ سراوں کو بھی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ان کے لئے کھولا گیا ،اس منتخب ایوان کو عوامی پارلیمنٹ بنانے کی یہ ایک کوشش تھی ،آپ جتنا اچھا کام کریں مگر کوئی نہ کوئی اعتراض لگانے کی کوشش کی جاتی ہے ،قابل اعتراض لوگوں کو جواب دینے کی بجائے ہم مثبت کام کی طرف متوجہ رہتے ہیں ،میری ذات پر کوئی تنقید کرتا ہے تو بے شک کرے مگر ادارے کا احترام ہم سب کی ذمہ داری ہے ،افسوس کی بات ہے کہ جو اپنا تعارف نہیں کرسکتا مگر وہ پارلیمنٹ کو ہدف تنقید بناتا ہے ۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہم سی پی اے کانفرنس کینیڈا گئے، رومینہ خورشید ہمارے ساتھ تھیں ،اس وفد میں مجھ سمیت قومی اسمبلی سے دو اور سینیٹ سے دو ممبران تھے ،سولہ لاکھ ڈالر کی بات کی گئی جو بے بنیاد ہے ہمارا بجٹ ہی چند ہزار ڈالر تھا،ہم نے یہاں تمام شعبہ ہائے زندگی کو بولنے کا موقع دیا مگر اس پر تنقید کی گئی ،سچی بات ڈنکے کی چوٹ پر کریں کوئی نہیں روکے گا ،پارلیمنٹ میں تمام پارلیمانی رپورٹرز پر سابق دور میں لگائی گئی ہر قسم کی پابندی ختم کردی ۔انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کا آفس آپ کے لئے حاضر ہے اگر کوئی تصدیق چاہیئے تو ہم دینگے،ہم نے کینیڈا میں طلبا کے ویزوں اور سکالرز شپ کا مسئلہ بھی اٹھایا ،اس وقت کینیڈا میں صرف 5 ہزار طلبا زیر تعلیم ہیں یہ تعداد 5 لاکھ تک کم از کم ہونی چاہیئے ،روانڈا میں ہونے والی آئی پی یو کانفرنس کا اجلاس انتہائی اہم ہونے جارہا ہے ،ہم اس وقت موسمیاتی تبدیلی کا سامنا کررہے ہیں ہم اس وقت اس معاملے پر مظلوم ملک ہیں ،ہماری موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے حصہ ایک فیصد نہیں مگر 100 فیصد تباہی کا سامنا کررہے ہیں ،آئی پی یو صدر نے ہماری اس استدعا کو تسلیم کیا ہے، اس فورم کے 178 ممالک ہیں ،ہندوستان سے کینیڈا کانفرنسز میں 100 ممبران سے بڑا وفد تھا جن کے مقابلے میں ہم چار تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کینیڈا میں طلبا کے ویزوں اور سکالرز شپ کا مسئلہ بھی اٹھایا ،اس وقت کینیڈا میں صرف 5 ہزار طلبا زیر تعلیم ہیں یہ تعداد 5 لاکھ تک کم از کم ہونی چاہیئے ،روانڈا میں ہونے والی آئی پی یو کانفرنس کا اجلاس انتہائی اہم ہونے جارہا ہے ،ہم اس وقت موسمیاتی تبدیلی کا سامنا کررہے ہیں ہم اس وقت اس معاملے پر مظلوم ملک ہیں ،ہماری موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے حصہ ایک فیصد نہیں مگر 100 فیصد تباہی کا سامنا کررہے ہیں ،آئی پی یو صدر نے ہماری اس استدعا کو تسلیم کیا ہے، اس فورم کے 178 ممالک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں ہونے والی کانفرنس میں بھارت سے 100 ممبران سے بڑا وفد تھا جن کے مقابلے میں ہم چار تھے،میری ذات پر کوئی بات کرتا ہے تو بے شک کرے پہلے بھی جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا ،پارلیمنٹ پر ہونے والا حملہ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے ۔ ہم نے پارلیمنٹ کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنی ہے ۔ 3اکتوبر کو مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز زیر غور ہے ۔
