Saturday, May 9, 2026
ہومپاکستانصدر مملکت کی خاتون ٹیکس گزارکو ہراساں کرنے پر ایف بی آر کی سرزنش

صدر مملکت کی خاتون ٹیکس گزارکو ہراساں کرنے پر ایف بی آر کی سرزنش

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خاتون ٹیکس گزارکو ٹیکس محتسب کو شکایت درج کرانے پر ہراساں کرنے پر ایف بی آر کی سرزنش کی ہے ، ٹیکس گزار نے ٹیکس ریفنڈ نہ ملنے پر ایف بی آر کے خلاف وفاقی ٹیکس محتسب میں شکایت درج کرائی تھی ۔
صدر مملکت نے کہا کہ کیس کو بار بار غلط طریقے سے نمٹا یا گیا ، ایف بی آر کے افسران کا رویہ شکایت کنندہ کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے، افسوس کہ 2015 میں دائر کی گئی درخواست جسے قانونا 60 میں نمٹانا تھا، تقریبا 5 سال تک زیر التوا رہی ، وفاقی محتسب کے پاس شکایت درج ہونے کے بعد درخواست پر انتقامی انداز میں کارروائی کی گئی ، ایف بی آر نے دو مرتبہ شکایت کنندہ سے انکم ٹیکس آرڈیننس کی مختلف شقوں کے تحت ٹیکس چارج کیا، محتسب کے فیصلے پر عمل درآمد کی بجائے، ایف بی آر نے دوبارہ صدر مملکت کو درخواست دائر کی، ایف بی آر کے افسران کا طرز عمل بدانتظامی کے مترادف ہے، فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی، عدم توجہی، نااہلی ، من مانی اور انتظامی زیادتیاں بھی بدانتظامی کے زمرے میں آتی ہیں ، ایف بی آر معاملے کو قانون کے مطابق نمٹائے ، تعصب اور ذاتی رنجش کے بغیر قانونی نقطہ نظر اپنائے۔
واضح رہے کہ رخسانہ کنول (شکایت کنندہ)نے ٹیکس ریفنڈ جاری نہ کرنے پر ٹیکس محتسب کے پاس شکایات درج کرائی تھیں، محتسب نے اپنے حکم کے ذریعے شکایت کنندہ کو سماعت کا موقع فراہم کرنے کے بعد قانون کے مطابق رقم کی واپسی کی درخواستوں کو نمٹانے کی سفارش کی تھی، ٹیکس افسران نے ٹیکس ریفنڈ جاری کرنے کے بجائے، سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر ٹیکس چارج کیا، کمشنر ان لینڈ ریونیونے ٹیکس منسوخی کا حکم جاری کیا، جسے افسر نے نظر انداز کر دیا، مجاز افسر نے بغیر بینکنگ چینل کے ذریعے تحفہ موصول ہونے کا الزام لگا کر خاتون پر دوبارہ ٹیکس چارج کیا ۔ صدر مملکت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایف بی آر انصاف کے متلاشی افراد کے لیے مسائل پیدا کرنے پر متعلقہ افسران کی بدانتظامی کے خلاف انکوائری کرے ، ایف بی آر معاملے پر تعاون یقینی بنائے ، افسران کی جانب سے ایسے انتقامی ردعمل کی حوصلہ شکنی کرے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔