ہومپاکستانعامر لیاقت کے لواحقین نے پوسٹ مارٹم سے انکار کیوں کیا؟تفصیلات سامنے آ گئیں

عامر لیاقت کے لواحقین نے پوسٹ مارٹم سے انکار کیوں کیا؟تفصیلات سامنے آ گئیں

معروف ٹی وی اینکر اور سیاست دان عامر لیاقت حسین 9 جون کو اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔

چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق ایک شخص نے مریض کو نجی اسپتال لے جانے کے لئے ہیلپ لائن پر رابطہ کیا۔

نجی اسپتال کے ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد عامر لیاقت کو مردہ قرار دے دیا۔ جس کے بعد عامر لیاقت کا جسد خاکی پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال لایا گیا۔

سہہ پہر سوا 3 بجے کے قریب جناح اسپتال کے شعبہ ہنگامی حالات میں عامر لیاقت کا جسد خاکی لایا گیا جہاں ان کا ای سی جی کیا گیا۔ جس کے بعد لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال کے مردہ خانے میں لائی گئی۔

عامر لیاقت کی موت کی وجوہات کا تعین پوسٹ مارٹم سے ہی ہوسکتا تھا، اس لئے میڈیکو لیگل آفیسرز (ایم ایل او ) کی ٹیم مردہ خانے پہنچ گئی تاہم پوسٹ مارٹم شروع ہونے سے پہلے ہی عامر لیاقت کی سابق اہلیہ بشریٰ اقبال وہاں پہنچیں اور انہوں نے پوسٹ مارٹم رکوا دیا۔

ڈاکٹروں اور پولیس اہلکاروں نے بشریٰ اقبال کو سمجھانے کی کوشش کی کہ پوسٹ مارٹم قانونی طریقہ کار ہے اور موت کی وجہ معلوم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔

عامر لیاقت کی سابق اہلیہ پوسٹ مارٹم سے مسلسل انکاری رہیں اور پولیس سرجن سے ضمانت مانگی کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کو ہر حال میں خفیہ رکھا جائے گا۔

پولیس سرجن نے بشریٰ اقبال کو ایم ایل اوز کی جانب سے یقین دہانی کرائی کہ رپورٹ افشا نہیں کی جائے گی لیکن یہ رپورٹ پولیس کو ضرور دی جائے گی، وہ پولیس حکام کی ضمانت نہیں لے سکتے۔

پولیس اور ایم ایل او کی جانب سے ضمانت نہ ملنے پر بشریٰ اقبال نے عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کردیا۔ ان کے اہل خانہ نے کہا کہ عامر لیاقت کا اکلوتا بیٹا احمد اس وقت لندن میں ہے اور وہ جلد واپس آرہا ہے۔

عامر لیاقت کے اہل خانہ نے کہا کہ احمد کی وطن واپسی پر اس حوالے سے مشاورت کی جائے گی اور فیصلے سے پولیس کو آگاہ کردیا جائے گا۔ جس کے بعد اہل خانہ شام سوا 4 بجے کے قریب عامر لیاقت کا جسد خاکی لے گئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔