جاپان میں پاکستانی سفارتخانے میں تعینات ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ قونصلر طاہر حبیب چیمہ کے خلاف کرپشن ، کک بیکس اور اختیارارت کے ناجائز استعمال کے خلاف نیب نے تحقیقات کا آغاز کردیا، طاہر چیمہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور پر پرائم منسٹر ہاوس سے براہ راست جاپان میں تعینات ہوئے،
طاہر چیمہ نے گزشتہ برس اپنے خلاف کرپشن کے الزامات پر وزارت کامرس کی شروع ہونے والی انکوائری بھی وزیر اعظم ہاوس کی سفارش پر رکوادی تھی طاہر حبیب چیمہ کے خلاف قانونی کاموں کے لیے جاپانی کاروباری اداروں سے رشوت طلب کرنے کے الزامات ہیں طاہر حبیب چیمہ نے سرکاری کاموں کے بدلے جاپانی کمپنی سے اپنے اور اہل خانہ کے لیے تفریحی دوروں کا مطالبہ کیاطاہر چیمہ نے ایک جاپانی کمپنی نے گفٹ اسکیم سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کیلئے پاکستان میں گاڑی طلب کی ، شکایت طاہر چیمہ پر الزام ہے کہ اس نے اپنے اور اہل خانہ کے نجی دوروں کے لیے سرکاری ٹی اے ڈی اے کا بے دریغ استعمال کیا طاہر چیمہ پر الزام ہے کہ اس نے جاپان میں پاکستان کے مفادات کو سنگین نقصان پہنچایا طاہر چیمہ نے خفیہ طور پر اپنی مخالف جاپانی کاروباری اداروں کے خلاف جاپانی پولیس اور ان کے پارٹنرز کو خفیہ خطوط لکھے
طاہر چیمہ کا قریبی رشتہ دار عتیق چیمہ جاپان سے دو سو گاڑیاں گاڑیاں چوری کرنے اور انھیں ایکسپورٹ کرنے کے الزام میں تاحال گرفتار ہے طاہر چیمہ نے جاپان میں اپنی ناجائز کمائی سے اپنی قریبی رشتہ داروں کے کاروبار میں بھاری سرمایہ کاری کی ہیطاہر چیمہ نے جاپان میں اہلیہ اور رشتہ داروں کے نام پر بے نامی جائداد کی خریداری بھی کی ہے طاہر چیمہ نے پاکستانی کمپنیوں کو جاپان میں پاکستان سے کاروباری ٹھیکے دلوانے کے بدلے بھاری مفادات حاصل کیے نیب نے طاہر چیمہ کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے معلومات کے حصول کے لیے جاپانی کاروباری اداروں سے رابطے شروع کردیئے ہیں ۔

