تحریر: صابر حسین
@SabirHussain43
ہمارے آنے والے دنوں کیلئے نشہ آور چیزیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں جو شخص نشہ کرتا ہے وہ معاشرے سے کافی حد تک کٹ جاتا ہے مگر تساہل اور سست روی کا شکار فرد معاشرے میں رہ کر معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے ہمارے دفاتر ہوں، ہمارے کاروبار ہوں یا گھریلو زندگی ہر جگہ اس تساہل والے مزاج نے مسائل پیدا کیے ہوئے ہیں مثلاً ایک شخص طاقتور ہونے کے باوجود وہ کام کل پر چھوڑ دیتا ہے جبکہ اس کے پاس طاقت بھی ہے وقت بھی ہے اور اس کام کرنے کی جسم میں قوت بھی ہے لیکن سست روی کا شکار ہونے کی وجہ سے آج والا کام کل پر ڈال دیا اور جب بوڑھا ہوجائے گا تو طاقت بھی ختم ہو گئی ہوگی اور کام کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا ہو پھر یہ وقت یاد آئے گا جب وہ طاقتور تھا ہم آج اتنے پیچھے کیوں ہیں کیا آپ کو معلوم ہے ؟ کیونکہ ہمارے اندر کا جذبہ ختم ہو گیا ہے ہمارے اندر صلاحیت تو ہے مگر تساہل اور سست روی نے ہمیں اس اتنا گھیرے میں لے لیا ہے کہ اب اس میں نکلنا بہت زیادہ مشکل ہے
تساہل یا ٹال مٹول کیا ہے اور یہ کس کو کہتے ہیں ؟ مزاج اور رویے کی وجہ سے خاص چی چیزوں کو اہم امور کے مقابلے میں کینسل کرنے کے عمل کو تساہل اور ٹال مٹول کہتے ہیں ہم بعض اہم چیزوں کو اس لئے نہیں کرتے کہ انہیں کرنے کا دل نہیں کر رہا اور بعض اوقات اس لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ انہیں کرنے کے لئے اچھا ٹائم اور راحت ہمارے پاس نہیں ہوتا اور بعض اوقات اس لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ ابھی بہت ٹائم اور عمر ہے ہم اللہ تعالیٰ کی نعمت یعنی وقت کو ضائع کر رہے ہیں ۔
عمر کے سانسوں میں ہر ایک سانس ایک نفیس جوہر ہے جس کا معاوضہ کوئی چیز نہیں ہو سکتی ہے
کل کا تصور
ہماری زندگی میں کل ( آنے والا دور ) کا لفظ بھی دھوکہ ہے جو انسان کو وقت ضائع کرنے کی شرم اور افسوس سے بچاتا رہتا ہے
داناؤں کے رجسٹروں میں کل کا لفظ کہیں نہیں ملتا البتہ بے وقوفوں کی جنتریوں میں یہ کثرت سے مل جاتا ہے یہ تو محض بچوں کا بہلاوہ ہے کہ فلاں چیز تم کو کل دے دوں گا کل کا لفظ تو ایسے لوگوں کے لئے ہے جو صبح سے شام تک خیالی دنیا میں رہتے ہیں اور ہر وقت خواب دیکھتے رہتے ہیں کامیابی کی سٹرک پر بے شمار اپاہج سسکتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنی تمام عمر کل کا تعاقب کرتے ہوئے ضائع کر دی
اور اپنی قبر اپنے ہاتھوں کھود لی ہے ہم اسی دھوکے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے کہ کل ہمارے لئے اچھی اچھی نعمتیں اور فایدہ مند اشیاء لائے گا مگر وہ تو آتا ہی نہیں ۔
اسی طرح ایک اور رویہ ،” پھر کبھی ،” کا ہے جو کام مکمل ہو سکتا ہے وہ آج کیوں کریں اور آنے والا کل خود کام کیلئے سازگار حالات پیدا کرے گا یہ رویہ یقیناً ہم لوگوں کے لیے بحیثیت فرد ، بحیثیت قوم اور بحیثیت قوم نقصان دہ ہے
اہم اور ضروری نوعیت کے کام جن کی تکمیل سے ہمارا ذاتی ، معاشی ، معاشرتی اور قومی مفاد وابستہ ہے ہم خوامخواہ ملتوی کر لیتے ہیں۔
تصویر ٹھیک کرلیجیئے۔۔۔۔ حصہ دوم
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
