چراغِ راہ
وقت کی قدر: ہمارے پاس وقت کم نہیں، بکھرا ہوا ہے
ہم مصروف کیوں رہتے ہیں مگر مطمئن نہیں ہوتے؟
شاہد زمان کے قلم سے
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ دن ختم ہونے پر تھکے ہوئے ہوتے ہیں، لیکن جب اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ آج کیا حاصل کیا، تو جواب واضح نہیں ہوتا؟
صبح آنکھ کھلتے ہی دن شروع ہو جاتا ہے۔ موبائل دیکھ لیا، چند پیغامات کا جواب دیا، کوئی فون آ گیا، کسی کام کے لیے گھر سے نکلنا پڑا، راستے میں کسی سے ملاقات ہو گئی، واپس آئے تو کوئی اور کام منتظر تھا۔ درمیان میں سوشل میڈیا، خبریں، ٹیلی فون اور مختلف چھوٹے چھوٹے کام ہماری توجہ تقسیم کرتے رہے۔ شام ہوئی تو جسم تھکا ہوا تھا اور ذہن بھی۔
پھر ہم نے کہا:
“آج وقت ہی نہیں ملا۔”
لیکن ذرا رک کر سوچیں۔ کیا واقعی وقت نہیں ملا تھا؟
یا وقت ہمارے پاس تھا، مگر ہم نے اسے بہت سی جگہوں پر تھوڑا تھوڑا کرکے خرچ کر دیا؟
یہ سوال شاید ہمارے روزمرہ زندگی کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقت سامنے لاتا ہے: اکثر مسئلہ وقت کی کمی نہیں ہوتا، توجہ کے بکھرنے کا ہوتا ہے۔
ہم سب کے پاس دن کے چوبیس گھنٹے ہیں۔ کسی کامیاب انسان کو بھی یہی چوبیس گھنٹے ملتے ہیں اور ایک عام آدمی کو بھی۔ فرق شاید یہ نہیں کہ کس کے پاس زیادہ وقت ہے؛ فرق یہ ہے کہ کون اپنے وقت کو کس چیز کے لیے استعمال کرتا ہے۔
ایک صاحب سے کسی نے پوچھا، “آپ اتنے کام کیسے کر لیتے ہیں؟”
انہوں نے شاید کوئی پیچیدہ راز نہیں بتایا ہوگا۔ ممکن ہے راز صرف یہ ہو کہ وہ جانتے ہوں کہ کون سا کام پہلے کرنا ہے اور کون سا بعد میں۔
یہ معمولی سی بات ہے، لیکن ہماری زندگی میں اکثر سب سے زیادہ نظر انداز بھی یہی ہوتی ہے۔
ہم دن بھر بہت سے کام کرتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ ہم وہ کام کر رہے ہوں جو واقعی ضروری ہیں۔
ہم فوری کام کو اہم سمجھ لیتے ہیں۔
جو شخص فون کرتا ہے، وہ ہمیں اپنا کام فوراً اہم محسوس کرا دیتا ہے۔ جو پیغام آتا ہے، ہم فوراً دیکھ لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے تو ہماری توجہ وہاں چلی جاتی ہے۔ کسی نے کوئی چھوٹا سا کام کہا، ہم اسے بھی اپنی فہرست میں شامل کر لیتے ہیں۔
یوں دن بھر ہماری مصروفیت بڑھتی رہتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہماری زندگی آگے بڑھ رہی ہو۔
مصروف ہونا اور بامقصد ہونا ایک چیز نہیں۔
ایک شخص پورا دن مصروف رہ سکتا ہے اور پھر بھی شام کو محسوس کر سکتا ہے کہ آج کا دن اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔
دوسرا شخص شاید اتنے ہی گھنٹوں میں صرف تین اہم کام کرے، لیکن رات کو اسے اطمینان ہو کہ آج واقعی کچھ مکمل ہوا۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر آج میرے پاس صرف تین اہم کام کرنے کا وقت ہو تو وہ کون سے ہوں گے؟
شاید یہ سوال ہماری پوری روزمرہ زندگی بدل سکتا ہے۔
میں نے محسوس کیا ہے کہ انسان جب ہر کام کو اہم سمجھ لیتا ہے تو آخرکار کسی بھی کام کو اس کی پوری توجہ نہیں دے پاتا۔ ذہن ایک کام سے دوسرے کام کی طرف جاتا رہتا ہے۔ جسم ایک جگہ ہوتا ہے، توجہ دوسری جگہ۔
ہم کسی سے بات کر رہے ہوتے ہیں اور ساتھ موبائل دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
ہم بچوں کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں مگر ذہن کسی اور مسئلے میں الجھا ہوتا ہے۔
ہم نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں مگر خیالات کاروبار، گھر، فون اور آنے والے کاموں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔
ہم آرام کرنا چاہتے ہیں لیکن آرام کے وقت بھی اپنے ذہن کو آرام نہیں دیتے۔
شاید ہمیں وقت سے پہلے توجہ کی حفاظت کرنا سیکھنا ہوگا۔
وقت تو ہر حال میں گزر جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس گزرتے ہوئے وقت میں ہماری توجہ کہاں تھی؟
قرآن مجید ہمیں وقت کی اہمیت کا احساس ایک نہایت جامع انداز میں دلاتا ہے:
وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ
“زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔”
(سورۃ العصر)
یہ چند مختصر آیات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ وقت محض گھڑی کی سوئیاں نہیں۔ ہماری زندگی دراصل وقت ہی کی شکل میں ہمارے ہاتھ سے گزر رہی ہے۔
اس لیے شاید وقت کی قدر کا پہلا قدم یہ نہیں کہ ہم اپنے دن میں مزید کام بھر دیں۔
بلکہ پہلا قدم یہ ہے کہ ہم غیر ضروری کام کم کریں۔
کبھی کبھی ہمیں اپنے آپ سے یہ پوچھنا چاہیے:
کیا یہ کام واقعی ضروری ہے؟
کیا یہ کام آج ہی کرنا ضروری ہے؟
کیا یہ کام مجھے خود کرنا ہے؟
اور سب سے اہم:
کیا یہ کام میری زندگی کے اصل مقصد سے جڑا ہوا ہے؟
ان سوالات کے جواب بہت سے ایسے کاموں کو ہماری فہرست سے نکال سکتے ہیں جنہیں ہم برسوں سے ضروری سمجھتے آئے ہیں۔
ہمیں یہ بھی قبول کرنا چاہیے کہ ہر کام ہم نہیں کر سکتے۔ ہر دعوت میں شرکت، ہر فون کا جواب، ہر بحث میں حصہ، ہر خبر پر رائے، ہر مسئلے میں مداخلت—یہ سب ہماری ذمہ داری نہیں۔
کبھی کبھی “نہیں” کہنا بھی وقت کی حفاظت ہے۔
اور کبھی کسی کام کو مؤخر کرنا سستی نہیں بلکہ ترجیح کا حصہ ہوتا ہے۔
میرے خیال میں دن کو منظم کرنے کا ایک نہایت سادہ طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ صبح اپنے آپ سے صرف ایک سوال پوچھا جائے:
“اگر آج میں صرف تین اہم کام مکمل کر سکوں تو وہ کون سے ہوں گے؟”
پھر ان تین کاموں کو لکھ لیا جائے۔
بس تین۔
دس نہیں۔ پندرہ نہیں۔
صرف تین۔
یہ تین کام ملازمت، کاروبار، گھر، صحت، عبادت، مطالعہ یا کسی ذاتی مقصد سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ مقصد یہ نہیں کہ دن میں صرف تین کام کیے جائیں۔ مقصد یہ ہے کہ دن کے تین اہم کام واضح ہوں۔
اس کے بعد جو وقت بچے، اس میں دوسرے کام کیے جا سکتے ہیں۔
عملی منصوبہ: روزانہ کی تین اہم ترجیحات
اگلے سات دن صرف ایک چھوٹا سا تجربہ کیجیے۔
ہر صبح ایک کاغذ پر لکھیں:
آج کے میرے تین اہم کام:
- —
- —
- —
پھر کوشش کریں کہ دن کے پہلے نسبتاً پُرسکون وقت میں ان میں سے کم از کم ایک اہم کام مکمل کر لیں۔
رات کو صرف دو سوال لکھیں:
کیا میں نے اپنی تین ترجیحات میں سے اہم ترین کام مکمل کیا؟
اور:
آج میرا وقت سب سے زیادہ کہاں بکھرا؟
سات دن بعد اپنے جوابات دیکھیں۔
ممکن ہے آپ کو معلوم ہو کہ آپ کے پاس وقت پہلے بھی اتنا ہی تھا۔ فرق صرف یہ آیا کہ اب آپ نے اسے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔
شاید وقت کو منظم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی زندگی کو مزید مصروف بنا دیں۔
شاید اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں موجود ضروری چیزوں کے لیے جگہ پیدا کریں۔
گھر والوں کے لیے وقت۔
اپنے رب کے لیے وقت۔
اپنی صحت کے لیے وقت۔
مطالعے اور سیکھنے کے لیے وقت۔
کسی ضرورت مند کے لیے وقت۔
اور کبھی کبھی صرف اپنے آپ کے ساتھ خاموش بیٹھنے کے لیے بھی وقت۔
آخرکار زندگی کی کامیابی کا حساب شاید اس بات سے نہیں ہوگا کہ ہم نے کتنے کام کیے، بلکہ اس بات سے ہوگا کہ ہم نے اپنے وقت کا بہترین حصہ کن کاموں کو دیا۔
دن ختم ہونے پر گھڑی ہمیشہ یہی بتائے گی کہ چوبیس گھنٹے گزر گئے۔
لیکن دل شاید ایک مختلف سوال پوچھے:
“آج گزرنے والے وقت میں میں نے اپنی زندگی کو کیا دیا؟”
اگر اس سوال کا جواب ہمارے پاس موجود ہو تو شاید دن صرف گزرا نہیں ہوگا۔
ہم نے اسے جیا ہوگا۔
