ہومتازہ ترینپاکستان اور یورپی یونین کے درمیان الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق فنی مہارتوں کی ترقی میں تعاون پر تبادلہ خیال

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق فنی مہارتوں کی ترقی میں تعاون پر تبادلہ خیال

اسلام آباد(سب نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے یورپی یونین کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں پائیدار نقل و حمل کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق فنی مہارتوں کی ترقی، تکنیکی تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران ہارون اختر خان نے اس بات پر زور دیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور اس ابھرتے ہوئے شعبے کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت کی تیاری وزیراعظم محمد شہباز شریف کے جدید، مسابقتی اور پائیدار صنعتی معیشت کے وژن کے اہم اجزا ہیں۔مشیر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے محض نئی گاڑیاں متعارف کرانا کافی نہیں بلکہ ہنرمند افرادی قوت، تکنیکی مہارت اور معاون صنعتی نظام کی ترقی بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ متعدد کمپنیاں پاکستان کی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں داخل ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں جدید الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق مہارتوں کے حامل تربیت یافتہ ٹیکنیشنز، انجینئرز اور دیگر ماہرین کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ فنی مہارتوں کی ترقی میں بروقت سرمایہ کاری سے پاکستانی نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع کے لیے تیار کرنے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اور مقامی سطح پر تیار کرنے کی صلاحیت بھی مضبوط ہوگی۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان عالمی آٹو موبائل انقلاب کے ابتدائی مراحل میں اہم مواقع سے فائدہ اٹھانے میں پیچھے رہ گیا تھا، تاہم الیکٹرک گاڑیوں کے انقلاب کو نظرانداز کرنے کی گنجائش نہیں۔ ہمارا مقصد مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینا، تکنیکی مہارت پیدا کرنا اور اس تبدیلی کو پاکستان کے لیے روزگار اور صنعتی مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔مشیر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی آئندہ آٹو پالیسی، جسے آنے والے ہفتوں میں متعارف کرائے جانے کی توقع ہے، میں الیکٹرک گاڑیوں اور آٹو موٹو شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم پالیسی پر بھی کام جاری ہے، جس سے صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز کی جانب وسیع تر منتقلی میں مدد ملے گی اور ابھرتی ہوئی صنعتوں کے لیے سازگار ماحول مضبوط ہوگا۔الیکٹرک موبیلیٹی کی معاشی اور ماحولیاتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس شعبے کی ترقی سے ملک کے تیل کے درآمدی بل میں کمی، توانائی کے پائیدار استعمال اور مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کے ساتھ فنی مہارتوں، مقامی سپلائی چینز اور صنعتی استعداد کی ترقی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ہارون اختر خان نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ یورپی یونین کے وفد کے ساتھ رابطہ کرکے الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق فنی مہارتوں کی ترقی، تکنیکی تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے عملی تعاون کے شعبوں کا جائزہ لے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ابھرتی ہوئی آٹو موٹو صنعت کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت اور تکنیکی صلاحیتوں کی ترقی کے لیے یورپ کی مہارت اور تجربے سے استفادہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔سیکرٹری صنعت و پیداوار احسان علی منگی نے کہا کہ فنی مہارتوں کی ترقی کے اقدامات کو آٹو موٹو صنعت کی ابھرتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں، صنعت اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان مثر رابطہ کاری سے مہارتوں میں موجود خلا کی نشاندہی، تکنیکی تربیت کے نظام کو مضبوط بنانے اور افرادی قوت کو نئی ٹیکنالوجیز کے لیے تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ تعاون سے تکنیکی معلومات کے تبادلے، تربیت کے معیار میں بہتری اور صنعت کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی ترقی کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے پاکستانی کارکنان اور ٹیکنیشنز الیکٹرک گاڑیوں کے بدلتے ہوئے صنعتی نظام کی ضروریات سے زیادہ مثر انداز میں ہم آہنگ ہو سکیں گے۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل نے ملک کے نوجوانوں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مستقبل کے روزگار کے مواقع کے لیے تیار کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک موبیلیٹی کی جانب منتقلی کو محض ایک تکنیکی تبدیلی کے طور پر نہیں بلکہ ہنرمند افرادی قوت کی تیاری، جدت کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں شمولیت کے نئے مواقع پیدا کرنے کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔رانا احسان افضل نے مزید زور دیا کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے فنی مہارتوں کی ترقی کو صنعت کی عملی ضروریات سے منسلک کیا جا سکتا ہے، تاکہ پاکستانی نوجوان آٹو موٹو اور صاف توانائی کے ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے موزوں مہارتیں حاصل کر سکیں۔یورپی یونین کے وفد نے پاکستان کے ساتھ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق فنی مہارتوں کی ترقی کے شعبے میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات میں ممکنہ مشترکہ اقدامات کی نشاندہی کے لیے ادارہ جاتی رابطہ کاری اور صنعتی شعبے کی شمولیت کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں سیکرٹری صنعت و پیداوار احسان علی منگی، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ، وزارتِ صنعت و پیداوار کے سینئر افسران، بشمول ایڈیشنل سیکرٹریز اور جوائنٹ سیکرٹریز، اور یورپی یونین کے وفد کے نمائندگان نے شرکت کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔