اسلام آباد(سب نیوز) انٹرنیشنل بزنس ویمنز ایسوسی ایشن ازبکستان کی چیئرپرسن محترمہ گلنورا محمودوا کی قیادت میں ایک اعلی سطحی وفد نے جمعرات کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)کا دورہ کیا اور پاکستان و ازبکستان کے درمیان خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری سرگرمیوں، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وفد میں محترمہ نودیرا بیگم محمدالیوا، ہیڈ آف انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ، محترمہ دلیافروز تاشمخمدووا، چیئرپرسن تاشقند سٹی برانچ، محترمہ انجلیکا اوگے، پراجیکٹ مینیجر، اور حبیب رفیق انجینئرنگ گروپ کے چیئرمین کے مشیر خالد تیمور اکرم شامل تھے۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر محمد ذکریا اکبر ضیا نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا پائیدار اقتصادی ترقی، خوشحالی اور جامع معاشی ترقی کے حصول کیلئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان خواتین کاروباری افراد کے حوالے سے کاروباری روابط کو وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی خواتین کاروباری افراد کے درمیان بی 2 بی ملاقاتوں کے انعقاد کیلئے آئی سی سی آئی کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کاروباری وفود کے باقاعدہ تبادلے اور خواتین کے مابین براہِ راست روابط کو فروغ دے کر دوطرفہ تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔انٹرنیشنل بزنس ویمنز ایسوسی ایشن ازبکستان کی چیئرپرسن محترمہ گلنورا محمودوا نے خواتین کی معاشی خودمختاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے ازبک حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ازبکستان میں خواتین ملک کے مجموعی کاروباری افراد کا تقریبا 40 فیصد ہیں اور خواتین کاروباری افراد کو مختلف معاون پروگرامز اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے پاکستانی خواتین کاروباری افراد کو آئندہ سال اپریل میں تاشقند میں آئی بی ڈبلیو اے ازبکستان کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی بی 2 بی ویمن کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ یہ کانفرنس نیٹ ورکنگ، کاروباری روابط، مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کیلئے اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر محمد اشفاق حسین چٹھہ اور نائب صدر محمد وقاص خان نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان کاروباری تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایگزیکٹو ممبران محترمہ نگینہ خلیق، ابرار الحق اور آئی سی سی آئی ممبر پروفیسر ڈاکٹر جوریہ اظہر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کی خواتین کاروباری افراد کے درمیان تعاون کے متعدد نئے اور غیر دریافت شدہ شعبوں کی نشاندہی کی۔ اس موقع پر باہمی روابط کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے، کاروباری مواقع کی نشاندہی اور بی 2 بی روابط کو عملی شکل دینے کیلئے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔حبیب رفیق انجینئرنگ گروپ کے چیئرمین کے مشیر خالد تیمور اکرم نے گروپ کی جانب سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان کاروباری و معاشی روابط کے فروغ کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی اور دونوں ممالک کی خواتین کاروباری افراد کو قریب لانے کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ منظم بی 2 بی روابط، کاروباری وفود کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔اجلاس میں آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران شاہد عباسی، میاں کامران علی شاہ کاکاخیل، سید عمران بخاری، سابق ایگزیکٹو ممبر وسیم چوہدری اور دیگر ممبرانِ بزنس کمیونٹی نے بھی شرکت کی۔
