ہومتازہ تریننوجوانوں کی فنی تربیت پائیدار توانائی کے حل کیلئے اہم قرار

نوجوانوں کی فنی تربیت پائیدار توانائی کے حل کیلئے اہم قرار

اسلام آباد،: او آئی سی۔کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ’’نوجوانوں کی فنی مہارتوں کا فروغ: تقسیم شدہ بجلی کی پیداوار کیلئے شمسی توانائی کے حل‘‘ کے موضوع پر چار روزہ تربیتی پروگرام شروع ہوگیا، جس میں پاکستان سمیت او آئی سی کے رکن اور مبصر ممالک کے نوجوان شرکاء، ماہرین اور ریسورس پرسنز شریک ہیں۔

تربیتی پروگرام کا انعقاد COMSTECH Forum on Environment and Ecosystem Restoration (CFEER) کے تحت کیا جارہا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی، تقسیم شدہ بجلی کی پیداوار، نظام کی تیاری و ڈیزائن، تنصیب، آپریشن اور دیکھ بھال کے حوالے سے عملی علم اور فنی مہارتیں فراہم کرنا ہے۔

افتتاحی تقریب میں نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (NUTECH) کے ریکٹر اور نیشنل ٹیکنالوجی کونسل پاکستان کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) معظم اعجاز، ہلال امتیاز نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ او آئی سی۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری، بین الاقوامی ریسورس پرسنز، ماہرین تعلیم اور صنعتی شعبے کے نمائندگان بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) معظم اعجاز نے کہا کہ نوجوانوں کی فنی مہارتوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مسلم امہ کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جاسکے۔ انہوں نے توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے او آئی سی ممالک کے درمیان اجتماعی کوششوں، مقامی صلاحیتوں کے فروغ، انسانی وسائل کی مضبوطی اور قدرتی ذرائع توانائی کے مؤثر استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے نوجوانوں کی فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کیلئے او آئی سی۔کامسٹیک کی جاری کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تکنیکی مہارتوں کو مضبوط بنا کر ممالک توانائی کے شعبے میں پائیدار اور مقامی سطح پر قابل عمل حل تیار کرسکتے ہیں۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری نے شرکاء اور بین الاقوامی ماہرین کا خیرمقدم کیا۔ ان میں ملائیشیا کی Universiti Kebangsaan Malaysia کے Solar Energy Research Institute (SERI) سے ایسوسی ایٹ پروفیسر انجینئر ڈاکٹر عدنان بن ابراہیم اور بنگلہ دیش کی Infrastructure Development Company Limited (IDCOL) کے سربراہ برائے Renewable Energy ایم ڈی انعام الحق کریم پاول شامل ہیں۔

انہوں نے شمسی توانائی اور تقسیم شدہ بجلی کی پیداوار کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسے ممالک جہاں دھوپ کی وافر دستیابی اور نوجوان آبادی موجود ہے، وہاں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں نوجوانوں کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرام کا مقصد نوجوانوں، قابل تجدید توانائی کے مواقع اور عملی فنی مہارتوں کو باہم مربوط کرنا ہے۔

تربیتی پروگرام میں برکینا فاسو، بینن، کیمرون، مصر، فلسطین، ایران، سعودی عرب، نائجیریا، سوڈان، صومالیہ، انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، دی گیمبیا اور موریطانیہ سمیت مختلف ممالک کے نمائندگان براہ راست اور آن لائن شریک ہیں۔

او آئی سی۔کامسٹیک، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ساتھ بھی مہارتوں کے فروغ اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کے حوالے سے فعال تعاون کررہا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کی تکنیکی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں ان کی شمولیت کے مواقع کو وسعت دینا ہے۔

تربیتی پروگرام کے دوران سولر پی وی کے بنیادی اصول، سولر سسٹم کے اجزا، حفاظتی اقدامات، شمسی وسائل کا جائزہ، آف گرڈ، آن گرڈ اور ہائبرڈ سسٹمز، سسٹم سائزنگ و ڈیزائن، نیٹ میٹرنگ، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ انضمام، تنصیب، کمیشننگ، خرابیوں کی نشاندہی اور آپریشن و مینٹیننس سمیت مختلف موضوعات پر عملی تربیت دی جائے گی۔

پروگرام 8 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا، جس کے دوران تکنیکی سیشنز، عملی تربیت، فیلڈ ایکسپوژر اور گروپ پراجیکٹ پریزنٹیشنز کا انعقاد ہوگا۔ تربیت کا مقصد قابل تجدید توانائی کے شعبے میں کردار ادا کرنے اور پائیدار توانائی کے حل کی تیاری کیلئے ہنرمند نوجوان افرادی قوت تیار کرنا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔