اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ممکنہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سرکاری اسپتالوں میں ہنگامی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، پمز اور پولی کلینک اسپتالوں میں 30 ستمبر تک ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے جب کہ دونوں اسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈکس اور دیگر ضروری عملے کی 24 گھنٹے دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ طبی عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)اور پولی کلینک اسپتالوں میں ہائی الرٹ کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے سرکلرز جاری کردیے گئے ہیں جب کہ میڈیکل اور نان میڈیکل شعبوں کے سربراہان کی چھٹیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
سرکلرز کے مطابق دونوں اسپتالوں کے میڈیکل اور نان میڈیکل شعبوں کے سربراہان کو ہنگامی صورت حال کی صورت میں فوری دستیابی یقینی بنانے اور ضروری عملے کو 24 گھنٹے تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ہائی الرٹ کے دوران ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس اور معاون عملے کی دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ ڈیوٹی روسٹرز کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ طبی رخصت کے سوا عملے کی تمام چھٹیاں محدود کردی گئی ہیں۔پمز اسپتال میں ایمرجنسی، آئی سی یو، ٹراما سینٹر، آپریشن تھیٹر، نرسنگ اور ڈائیگناسٹک سروسز کو مکمل فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ بلڈ بینک اور فارمیسی سروسز بھی بلا تعطل فعال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔سرکلر کے مطابق ہنگامی صورتحال یا بڑی تعداد میں مریضوں کی آمد کی صورت میں اضافی بیڈز، اسٹریچرز اور وہیل چیئرز دستیاب رکھی جائیں گی جب کہ آکسیجن، خون، ادویات، ضروری طبی آلات اور دیگر سامان کا وافر اسٹاک یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔پمز ایمرجنسی کے لیے 20 مخصوص بیڈز دستیاب رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام ایمبولینسز کو 24 گھنٹے تیار رکھنے اور ایمرجنسی و ایمبولینس کے راستے ہر وقت کلیئر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈائریکٹر ایمرجنسی پمز ڈاکٹر شرجیل ظہیر کو ہنگامی صورت حال کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ نیورو سرجری، آرتھوپیڈک، جنرل سرجری اور اورل اینڈ میکسیلو فیشل سرجری سمیت متعلقہ شعبوں کے زیادہ سے زیادہ عملے کو آن کال رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
پمز انتظامیہ نے ایمرجنسی، مرکزی داخلی راستوں اور دیگر حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت رکھنے کا حکم دیا ہے۔دوسری جانب پولی کلینک اسپتال میں بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے خصوصی ڈیوٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس اور دیگر ضروری عملے کو دستیاب رہنے اور شہر سے باہر نہ جانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔پولی کلینک کے ڈاکٹر تنویر ملک کو ہنگامی صورت حال کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے جب کہ متعلقہ افسران کو ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پولی کلینک کے بلڈ بینک میں کم از کم 100 بیگز خون کا ذخیرہ رکھنے، ادویات اور دیگر ضروری طبی سامان وافر مقدار میں دستیاب رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسپتال کی تمام ایمبولینسز اور ڈرائیورز کو بھی ہر وقت تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پولی کلینک کی ایمرجنسی میں مردوں اور خواتین کے لیے مجموعی طور پر 20 بیڈز مختص رکھنے جبکہ آکسیجن گیس کا وافر ذخیرہ یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہنگامی صورت حال کی صورت میں استعمال کے لیے پولی کلینک آفیسر وارڈ میں دو کمرے بھی مختص کیے گئے ہیں۔دونوں اسپتالوں کی انتظامیہ نے تمام متعلقہ افسران اور عملے کو ہنگامی صورت حال میں فوری دستیابی اور بروقت ردعمل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔سرکلرز کے مطابق پمز اور پولی کلینک میں ہائی الرٹ 30 ستمبر 2026 تک برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
