ہومتازہ ترینمنشور کا فریب، پاکستان کی اشرافیہ چھوٹے صوبوں کی راہ میں کیوں رکاوٹ ہے؟

منشور کا فریب، پاکستان کی اشرافیہ چھوٹے صوبوں کی راہ میں کیوں رکاوٹ ہے؟

تحریر: جاوید اقبال
پاکستان اپنے ہی بوجھ تلے دب رہا ہے۔ 24 کروڑ سے تجاوز کرتی آبادی کے ساتھ پورے پنجاب کو ایک ہی انتظامی مرکز لاہور سے چلانا یا تقریبا پانچ کروڑ آبادی کے حامل کراچی جیسے تیزی سے ناقابلِ رہائش بنتے شہر کا انتظام ایک ہی مرکزی ڈھانچے کے ذریعے کرنا اب عملی طور پر ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔حالیہ عرصے میں وفاقی ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دینے اور صوبائی حدود میں تبدیلی کے ذریعے نئے صوبے بنانے کی بحث ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔ اعلی حکومتی شخصیات اور ریاستی اداروں کی جانب سے پاکستان کو 12 سے 15 نئے صوبوں میں تقسیم کرنے یا موجودہ ڈویژنوں کو 32 یا 33 خودمختار انتظامی اکائیوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔ لیکن جیسے ہی کوئی ٹھوس تجویز سامنے آتی ہے، پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں حسبِ معمول اس کی شدید مخالفت شروع کر دیتی ہیں۔یہ رویہ ایک بڑے سیاسی تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر تقریبا تمام بڑی سیاسی جماعتوں، جن میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان شامل ہیں، کے انتخابی منشور دیکھے جائیں تو ان میں بہتر حکمرانی اور انتظامی کارکردگی کے لیے چھوٹی انتظامی اکائیوں کے قیام کا وعدہ موجود ہے۔

سوال یہ ہے کہ پھر یہی جماعتیں اپنے ہی سوچے سمجھے منصوبوں سے عملی طور پر پیچھے کیوں ہٹ جاتی ہیں؟حقیقت بہت سادہ ہے: پاکستان میں انتخابی منشور ووٹ حاصل کرنے کے لیے لکھے جاتے ہیں، جبکہ عملی فیصلوں میں اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ایسے وفاق میں جہاں آبادی اور سیاسی وزن انتہائی غیر متوازن ہو، پنجاب تنہا باقی ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ وزیراعظم کے منصب تک پہنچنے کی سیاسی راہ بڑی حد تک وسطی اور بالائی پنجاب سے ہو کر گزرتی ہے، جس کے باعث اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان سیاسی فاصلہ بڑھتا گیا ہے۔ یہی صورتحال بلوچستان، خیبر پختونخوا اور دیہی سندھ میں احساسِ محرومی اور بیگانگی کو تقویت دیتی ہے۔منطقی طور پر دیکھا جائے تو پنجاب کے موجودہ وسیع انتظامی ڈھانچے کو تقسیم کرنے سے ان احساسات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس سے لاہور کی غیر معمولی بالادستی کم ہوگی اور ملتان یا بہاولپور جیسے علاقوں کو قومی وسائل اور انتظامی اختیار براہِ راست حاصل ہو سکے گا۔ لیکن ایسا کرنے سے موروثی سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری متاثر ہوگی۔

سیاسی اشرافیہ کے لیے چھوٹی انتظامی اکائی کا مطلب ایک چھوٹی سیاسی سلطنت ہے۔ اگر پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم پر رضامند ہوتی ہے تو اسے کراچی جیسے معاشی مرکز پر اپنی گرفت کم ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح اگر مسلم لیگ (ن)پنجاب کی تقسیم قبول کرتی ہے تو اس کا وہ انتخابی قلعہ کمزور ہو سکتا ہے جو اسے وفاقی سطح پر غیر معمولی سیاسی طاقت فراہم کرتا ہے۔یہ جماعتیں وفاق سے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کا مطالبہ تو زوروشور سے کرتی ہیں، لیکن صوبائی سطح سے مزید نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ تاہم صرف سیاسی اشرافیہ کو موردِ الزام ٹھہرانا مسئلے کا نصف پہلو ہے۔ پاکستان کے عوام موجودہ انتظامی تقسیم کی بحث کو جس قدر شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے ایک گہری اور قابلِ فہم وجہ بھی موجود ہے۔عوام کا ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے موجودہ انتظامی تقسیم کی جو بحث زور پکڑ رہی ہے، اس کا مقصد ملک کو بہتر حکمرانی کی طرف لے جانا نہیں بلکہ مستقل اور مرکزی کنٹرول کا ایک نیا نظام قائم کرنا ہو سکتا ہے۔ تاریخ بھی اس خدشے کو تقویت دیتی ہے۔ ایوب خان کے دور کی بنیادی جمہوریتوں سے لے کر جنرل پرویز مشرف کے 2001 کے بلدیاتی نظام تک، غیر منتخب حکومتوں نے ماضی میں انتظامی اصلاحات کو مرکزی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے اور اپنے لیے زیادہ قابلِ قبول سیاسی طبقہ تشکیل دینے کے لیے استعمال کیا۔

اگر چار بڑے اور سیاسی طور پر طاقتور صوبوں کو 32 چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کر دیا جائے تو مضبوط سیاسی صوبائی حکومتوں کا اثر کم ہو سکتا ہے۔ 32 کمزور اور مالی طور پر مرکز یا صوبے پر انحصار کرنے والے انتظامی سربراہوں کے ساتھ معاملات طے کرنا ایک طاقتور صوبائی وزیراعلی کے مقابلے میں کہیں آسان ہوگا۔ اسی لیے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ چھوٹے صوبوں کا تصور کہیں ایک ایسے ٹروجن ہارس میں تبدیل نہ ہو جائے جس کے ذریعے 18ویں آئینی ترمیم سے حاصل صوبائی خودمختاری کو محدود کیا جائے اور قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو ملنے والے مالی وسائل دوبارہ اسلام آباد کے مرکز میں مرتکز کر دیے جائیں۔یوں پاکستان ایک ایسے مشکل دائرے میں پھنس گیا ہے جہاں ایک طرف زوال پذیر نظامِ حکمرانی کو فوری طور پر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی ضرورت ہے، دوسری طرف سیاسی اشرافیہ اختیارات اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، جبکہ عوام ان قوتوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اصلاحات پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں جو ماضی میں ایسے اقدامات کر چکی ہیں۔

پاکستان ایک حد سے زیادہ مرکزی اور نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کے تحت زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ ضروری ساختی تبدیلیاں لانے کے لیے ایسا شفاف اور جمہوری طریقہ اختیار کرنا ہوگا جو نہ نسلی و لسانی تنازعات کو جنم دے اور نہ ہی سیاسی انجینئرنگ کا ذریعہ بنے۔ نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کا عمل بیوروکریسی کے فیصلوں یا پسِ پردہ کسی ریاستی منصوبے سے شروع نہیں ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ کو ایک بااختیار، کثیر الجماعتی کمیشن تشکیل دینا چاہیے جو انتظامی، معاشی اور جغرافیائی ضروریات کی بنیاد پر نئی حدود کا تعین کرے۔ اس عمل میں نسلی بنیادوں یا سیاسی مفادات کے بجائے انتظامی اور معاشی قابلِ عمل ہونے کو بنیادی معیار بنایا جائے۔عوام کے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے نئی انتظامی اکائیوں کے قیام سے متعلق کسی بھی آئینی ترمیم میں یہ ضمانت شامل ہونی چاہیے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے حاصل صوبائی خودمختاری اور مالیاتی حصے کو اسلام آباد واپس نہیں لے سکے گا۔

اختیارات کا بہا موجودہ صوبائی دارالحکومتوں سے نئی انتظامی اکائیوں کی طرف ہونا چاہیے، وفاقی دارالحکومت کی طرف نہیں۔اگر صوبائی نقشے کو ازسرِنو ترتیب دینا سیاسی طور پر بہت حساس ثابت ہوتا ہے تو چھوٹی انتظامی اکائیوں کی ضرورت پوری کرنے کا ایک راستہ خود آئین میں موجود ہے: بااختیار بلدیاتی حکومتیں۔ ریاست کو چاہیے کہ آئینی تقاضوں کے مطابق بلدیاتی نظام کو قانونی تحفظ فراہم کرے اور ضلعی سطح کے منتخب نمائندوں، خصوصا میئرز، کو براہِ راست مالی وسائل اور انتظامی اختیارات فراہم کرے۔ اگر بجٹ براہِ راست مقامی حکومتوں تک پہنچے اور ہر معاملے کے لیے صوبائی سیکریٹریٹ پر انحصار ختم ہو تو لاہور اور کراچی جیسے بڑے مراکز کی مرکزی اجارہ داری خود بخود کم ہونا شروع ہو جائے گی۔جب تک سیاسی جماعتیں اپنے تحریری وعدوں پر حقیقی، شفاف اور جمہوری اتفاقِ رائے کے ساتھ عمل درآمد نہیں کرتیں، ان کے منشور محض ووٹ حاصل کرنے والے اشتہاری کتابچوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو چند بڑے صوبوں کی ایک سلطنت کی طرح چلانے کے بجائے اس کے تمام شہریوں کی حقیقی وفاقی ریاست کے طور پر منظم کیا جائے، جہاں اختیار چند مراکز تک محدود نہ رہے بلکہ عوام سے منتخب اداروں اور وہاں سے مقامی سطح تک منتقل ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔