اسلام آباد: پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 2027ء کے سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کی تیاریوں کے سلسلے میں قومی کوآرڈینیٹر برائے ایس سی او امور سفیر ڈاکٹر محمد فیصل نے رکن ممالک کے سفیروں اور ناظم الامور سے ملاقات کی۔
وزارت خارجہ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان میں تعینات ایس سی او رکن ممالک کے سفیروں اور ناظم الامور سمیت وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ سفارتکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں کار ڈیسک کے سربراہ سفیر حسن علی ضیغم بھی موجود تھے۔
اجلاس میں روس، ایران، قازقستان، بیلاروس اور ازبکستان کے سفیروں جبکہ چین، بھارت، کرغزستان اور تاجکستان کے ڈپٹی ہیڈز آف مشن نے شرکت کی۔ بھارت کی جانب سے ناظم الامور ڈاکٹر ستیانجل پانڈے کی شرکت کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جو حال ہی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔
ملاقات کے دوران پاکستان کی 2027ء میں ایس سی او کی سربراہی اور سربراہانِ مملکت اجلاس کے انعقاد سے متعلق مختلف انتظامی اور تنظیمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان نے اس سے قبل اکتوبر 2024ء میں اسلام آباد میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے 23ویں اجلاس کی کامیاب میزبانی کی تھی، جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے کی۔ اجلاس میں علاقائی تجارت، اقتصادی تعاون، رابطہ کاری اور سلامتی سے متعلق امور زیر بحث آئے تھے۔
2027ء کا سربراہانِ مملکت اجلاس ایس سی او کا اعلیٰ ترین اجلاس ہوگا، جس میں تنظیم کے تمام رکن ممالک کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ اکتوبر 2024ء میں بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے ایس سی او حکومتوں کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا، جو تقریباً ایک دہائی بعد کسی بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان کا اعلیٰ سطحی دورہ تھا۔
پاکستان نے ایس سی او پلیٹ فارم کو علاقائی رابطہ کاری، اقتصادی تعاون، تجارتی راہداریوں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
دریں اثنا، پاکستان نے 2025-26ء کے لیے ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر (ایس سی او-ریٹس) کی سربراہی بھی سنبھالی ہے۔ پاکستان نے اس ذمہ داری کو رکن ممالک کے اعتماد کا مظہر قرار دیتے ہوئے علاقائی امن و سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
