واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے سخت اقتصادی کارروائی کا اعلان کر دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو مالی یا تجارتی سہولت فراہم کرنے کی صورت میں متعلقہ ملک کو بھی سخت معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو معاہدے کیلئے مجھ سے زیادہ بڑا موقع کسی اور نے نہیں دیا لیکن ایران نے قبول نہیں کیا، امریکا اب ایران کے خلاف کسی بھی ملک کے خلاف کی جانے والی سب سے تباہ کن اقتصادی کارروائی شروع کر رہا ہے جس میں غیر معمولی پیمانے پر اقتصادی جنگ اور ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنا شامل ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی بحریہ ختم ہو چکی، فضائیہ تباہ ہوچکی، فوجی فیکٹریاں ملبے میں تبدیل ہوچکی ہیں اور ایرانی کرنسی بے وقعت ہوچکی ہے، جو ملک یا ادارہ ایران کو مالی یا تجارتی سہارا فراہم کرے گا، اسے بھی امریکی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے تیل کی سمگلنگ، مالیاتی تبادلے اور سواپ لائنز، نقد رقم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، بحری جہازوں کی رجسٹری، فرنٹ کمپنیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا اور اس کارروائی کو “اقتصادی ڈی ڈے” قرار دیتے ہوئے امریکی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ ایران کو تنہا کرنے کیلئے امریکا کا ساتھ دیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ تاریخی اقدامات ایران کو عالمی سطح پر طاقت کے استعمال اور دہشت گردی کی مبینہ معاونت سے روکنے کی اس کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچائیں گے، ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
