اسلام آباد (سب نیوز)ترکیہ کے ایک اعلی سطحی تکنیکی وفد نے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال سے ملاقات کی ، دورہ کا مقصد پاکستان میں صحت کے شعبے میں باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے، وفد پاکستان میں ویکسین کی مقامی پیداوار کی صلاحیتوں اور امکانات کا جائزہ لے گااور صحت کے شعبے میں موجود تجربات، صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تعاون کے نئے امکانات تلاش کرے گا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ترکیہ کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات دیرینہ اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، پاکستان شعبہ صحت میں ترکیہ کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، پاکستان صحت کے شعبے میں خود انحصاری اور نظام کی پائیداری کے وسیع ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، پاکستان میں ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے حوالے موثر پیش رفت جاری ہے ، پاکستان میں پہلی بار نیشنل ویکسین پالیسی تشکیل دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں کی جاتی اور تمام ویکسین بیرونِ ملک سے درآمد کی جارہی ہیں،حکومت پاکستان یہ ویکسین عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کرتی ہے ،پاکستان 51 فیصد لاگت خود برداشت کرتا ہے 49 فی صد انٹر نیشنل ادارے برداشت کرتے ہیںجبکہ سال 2030 تک بیرونی سپورٹ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی ۔
وزیر صحت نے کہا کہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کا بندوبست ناگزیر ہو چکا ہے تاہم 2031 تک یہ عالمی معاونت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی ،پاکستان کو ویکسین کی مکمل لاگت خود برداشت کرنا ہو گی جس کا تخمینہ سالانہ 1.2 بلین امریکی ڈالر ہے ،انڈونیشیا کی بائیو فارما کمپنی سے ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کیلئے معاہدے کیے ہیں ،ڈریپ میں 90 فی صد ڈیجیٹائز یشن کا عمل مکمل کر دیا ہے، آئندہ سال اپریل 2027 میں ڈریپ ڈبلیو ایچ او لیول تھری حاصل کر لے گا،پاکستان میں کسی بھی مریض کا یونیورسل میڈیکل ریکارڈ نہیں ہے ، پاکستان میں ایسا منصوبہ لانچ کیا جارہا ہے جس میں ہر شہری کا شناختی کارڈ اس کا ایم آر نمبر ہو گا۔
پاکستان، ترکیہ کے درمیان شعبہ صحت میں تکنیکی تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
