کراچی (آئی پی ایس ) نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے تحقیقات کے لیے نئی پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جب کہ دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں فیروز آباد تھانے میں درج مقدمے میں قتل کی دفعہ بھی شامل کرلی گئی ہے۔کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہونے والے نوجوان میر رضا علی کی موت کی تفتیش کے لیے سندھ پولیس نے نئی پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق نئی پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی ہوں گے۔تحقیقاتی ٹیم میں ایس ایس پی ریپڈ رسپانس فورس (آر آر ایف)سید علی رضا، ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی قیس خان، ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل انعم تجمل اور ایس آئی او زمان ٹان انسپکٹر چوہدری غضنفر کو شامل کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق نئی تحقیقاتی ٹیم کو میر رضا علی قتل کیس کے تمام پہلووں کا جامع اور غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ٹیم کو شواہد جمع کرنے اور انہیں محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ فرانزک شواہد کا ازسرِنو تجزیہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔آئی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے نئی تحقیقاتی ٹیم کو روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت سے اعلی حکام کو آگاہ کرنے کا حکم دیا ہے جب کہ تفتیش مکمل کرکے مقررہ مدت میں عدالت میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔میر رضا علی کی موت کے بعد فیروز آباد تھانے میں مقدمہ اغوا کی دفعہ 365 کے تحت درج کیا گیا تھا، تاہم اب ایف آئی آر میں قتلِ عمد کی دفعہ 302 بھی شامل کر لی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں قتل کی دفعہ قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں شامل کی گئی ہے۔ اس سے قبل میر رضا علی کیس کی ابتدائی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ سمیع اللہ سومرو کی سربراہی میں تین رکنی اعلی سطح کی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ جس میں ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر احمد شیخ اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی شامل تھے۔ ہفتے کے روز کیس کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد میر رضا علی کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل بیرسٹر جبران ناصر نے موجودہ تحقیقاتی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ہفتے کے روز 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی قبرستان میں میر رضا کی قبر کشائی کی تھی۔ اس دوران بورڈ نے میر رضا کے جسدِ خاکی کا دوبارہ معائنہ کیا تھا اور کیمیکل تجزیے کے لیے ضروری شواہد اور مختلف نمونے بھی حاصل کیے تھے۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کی سربراہی میں قائم میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات اور کھوپڑی، دانت اور پسلیاں ٹوٹنے کی تصدیق کی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی ثابت ہوا تھا کہ میر رضا کو گولی پیچھے کی جانب سے لگی، جس سے پولیس کے دعوے اور پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے معاملے پر اہلِ خانہ کا دعوی درست ثابت ہوا تھا۔میر رضا کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ پوسٹ مارٹم سے قبل انہوں نے جو کچھ دیکھا تھا، اسی بنیاد پر وہ کہہ رہی تھیں کہ یہ قتل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سامنے آنے والے طبی شواہد نے ان کے مقف کو تقویت دی ہے۔اہلِ خانہ اور وکیل جبران ناصر نے مطالبہ کیا تھا کہ میر رضا کی موت کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تفتیش کے لیے موجودہ تفتیشی ٹیم تبدیل کی جائے۔ انہوں نے کیس کی تحقیقات سے اے آئی جی کراچی کو بھی دور رکھنے اور ان کا کراچی سے باہر تبادلہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
میر رضا کے والد میر حسین نے بھی موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس میں سب ایک جیسے نہیں ہوتے اور اگر آئی جی سندھ یا وزیراعلی سندھ نئی تفتیشی ٹیم بناتے ہیں تو وہ اسے تسلیم کریں گے۔میر حسین کا کہنا تھا کہ پولیس ان سے خودکشی سے متعلق باتیں کرتی رہی، جب کہ وہ پہلے روز سے یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا اور قاتلوں کو سامنے لایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں کیا ہو رہا ہے، اس بارے میں اہلِ خانہ کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا اور موجودہ پولیس ٹیم پر انہیں اعتماد نہیں۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ کسی دباو میں نہیں آئیں گے اور تفتیشی ٹیم تبدیل نہ کی گئی تو عدالت سے رجوع کریں گے۔اس سے قبل وکیل جبران ناصر نے بھی دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد موجودہ تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی شواہد سے میر رضا کو گولی لگنے اور جسم پر تشدد کے شواہد سامنے آئے ہیں، جب کہ پولیس تفتیش کرنے کے بجائے اہلِ خانہ کو ہراساں کر رہی ہے۔جبران ناصر نے بتایا تھا کہ دوسرے پوسٹ مارٹم کے لیے 17 سیمپلز بھیجے گئے ہیں۔ ان کا دعوی تھا کہ طبی شواہد نے ان کے اس مقف کی تائید کی ہے کہ میر رضا نے خودکشی نہیں کی بل کہ انہیں قتل کیا گیا۔میر رضا کی قبر کشائی کے بعد کیے گئے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں جسم پر مزید زخموں اور چوٹوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جسم پر کالے دھبے، پاں پر زخم، جبڑے کے نیچے گہری چوٹ اور ماتھے پر بھی چوٹ کے نشانات پائے گئے۔رپورٹ میں میر رضا کی چند پسلیاں ٹوٹنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جب کہ جسم پر موجود زخموں کو موت سے قبل لگنے والی چوٹوں کے زمرے میں قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کمر پر لگنے والی گولی کے باعث پھیپھڑوں میں خون بھی جمع ہوا۔پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق میر رضا کو کمر پر گولی لگی، جس کے نتیجے میں پھیپھڑوں میں خون جمع ہوا۔ گولی کے داخلی زخم کا سائز 0.8 سینٹی میٹر تھا، جب کہ زخم کے اطراف سیاہ نشانات بھی موجود تھے۔ رپورٹ میں گولی کے خارجی زخم کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
