ہومتازہ ترینشمالی کوریا کا ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، علاقائی ممالک کا اظہارِ تشویش

شمالی کوریا کا ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، علاقائی ممالک کا اظہارِ تشویش

پیانگ یانگ (آئی پی ایس )شمالی کوریا نے کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد مشرقی ساحل کی جانب مختصر فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل داغ دیا، جس کے بعد خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے۔ جنوبی کوریا نے اضافی فوجی نگرانی بڑھاتے ہوئے امریکا اور جاپان کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق جمعرات کی شام تقریبا 5:00 بجے شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی شہر وونسان سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل داغا گیا۔جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اپنے بیان میں کہا کہ میزائل لانچ کے بعد ممکنہ مزید سرگرمیوں کے پیش نظر نگرانی اور دفاعی تیاریوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکا اور جاپان کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔جاپان کی وزارت دفاع نے بھی شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ بیلسٹک میزائل داغے جانے کی تصدیق کی، تاہم کہا کہ جاپان یا اس کے اطراف کے علاقوں پر اس کا کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔
حالیہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے ہتھیاروں کے مسلسل تجربات کی تازہ کڑی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیانگ یانگ نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو تیزی سے وسعت دی ہے۔واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان عالمی سطح پر اپنے ملک کو ایک جوہری طاقت کے طور پر تسلیم کرانا چاہتے ہیں تاکہ اس بنیاد پر بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں ختم کرانے کے لیے دبا بڑھایا جا سکے۔رواں عرصے میں کم جونگ ان نے نئے 5,000 ٹن وزنی جنگی بحری جہاز پر نصب جوہری صلاحیت کے حامل میزائل سمیت مختلف ہتھیاروں کے تجربات کا بھی جائزہ لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا اب بیلسٹک میزائل پروگرام کے ساتھ ساتھ اپنی بحری عسکری قوت بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جس میں جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز کی تیاری بھی شامل ہے۔شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان تعلقات 2019 میں اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب کم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اعلی سطح کے سفارتی مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس کے بعد پیانگ یانگ نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام میں نمایاں تیزی لائی۔حالیہ برسوں میں شمالی کوریا نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات بھی مزید مضبوط کیے ہیں۔ مغربی ممالک کے مطابق پیانگ یانگ روس کو روایتی ہتھیار اور فوجی افرادی قوت فراہم کر چکا ہے، جس کے باعث خطے اور عالمی سطح پر سکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔