تحریر۔۔۔اویس۔۔۔انقلابی۔۔۔
نوجوان صرف گھروں کے کفیل یا خاندانوں کا سہارا نہیں ہوتے بلکہ نوجوان قوموں کے وہ بازو ہوتے ہیں جن کے بھروسے قومیں ستاروں پر کمند ڈالتی ہیں جنکی صلاحیتوں کی بدولت قومیں غلبے اور فتوحات کے خوابوں کو تعبیریں بخشتی ہیں
کسی بھی قوم کا عروج و زوال اس قوم کے نوجوانوں کے منفی یا مثبت ہونے پر ہے کسی قوم کے نوجوان اپنے اخلاق و کردار کی تعمیر میں محو ہو جائیں تو زمانہ اس قوم کا معترف ہو جاتا ہے
وہ مٹی کو ہاتھ لگا لیں تو سونا بنا دیں وہ تعمیر وترقی کی طرف سوچیں تو چائنا جیسی ناقابلِ شکست امپائر کھڑی کر دیں
جین ذی نوجوانوں کا وہ طبقہ ہے جنکی برتھ 1997 سے 2012 کے درمیان ہے جنکی عمریں 14 سے 29 سال کے درمیان بنتی ہیں سوشل میڈیا کی آمد نے نہ صرف ان نوجوانوں کے اظہارِ خیال کو آسان کر دیا بلکہ انکی آواز کو تواناء اور مؤثر کر دیا ہے
گزشتہ تین سالوں میں ان نوجوانوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر کئی ممالک میں موئثر اور جاندار احتجاج کیے جنکی بدولت نہ صرف انکے مطالبات مانے گئے بلکہ فرانس ،،نیپال،،اور بنگلہ دیش میں حکومتی تحت بھی الٹ دئیے گئے
انڈونیشیا،،کینیا،،سری لنکا،،فلپائن،،مراکش،،ایران اور انڈیا سمیت کئی ممالک میں ان نوجوانوں کے جاندار احتجاج کی بدولت کرپشن ،،اشرفیہ کی مراعات،،طبقاتی نظام سمیت،،کئی بل ایوانوں سے واپس ہوئے
اسی سال انھی نوجوانوں کے حوالے سے انڈین چیف جسٹس نے کاکروچ جیسا غیر مہذب لفظ استعمال کیا تو سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کے خلاف مہم شروع ہوئی اور نوجوانوں نے ایک فرضی کاکروچ جنتا پارٹی بنا ڈالی جسکے فالورز چند مہینوں میں 6 کروڑ سے زائد ہو گئے
گزشتہ ماہ پیپر لیک ہونے پر انڈیا میں طلباء تنظیموں،،اور سماجی کارکنان نے احتجاج شروع کیا جسے کاکروچ جنتا پارٹی نے فُل سپورٹ کیا تو بات مرکزی وزیر تعلیم دھر میندر پردھان کے استعفے پر جا رُکی یہ احتجاج دہلی کی سڑکوں تک پہنچا پولیس نے شَل پھینکے اور لاٹھی چارج کیا لیکن تمام رکاوٹوں کے باوجود طلباء تنظیمیں اور کاکروچ جنتا پارٹی اپنے مطالبے پر ڈٹے رہے بلآخر مرکزی وزیر تعلیم دھر میندر پردھان نے استعفیٰ دیا تو احتجاج ختم ہوا
ساری دنیا کی جین ذی اور نوجوان تنظیموں کے مطالبات اپنے اپنے تھے اور اپنی اپنی حکومتوں سے تھے مگر دو قدریں ان سب میں مشترک تھی ایک یہ کہ ان سب کا گلہ تھا کہ ہمارے لیے بنایا گیا نظام ہماری ہی بات نہیں سنتا اور دوسرا یہ کہ
یہ سب مزاحمت کار تھے
یہ جانتے تھے کہ گھر بیٹھے مسائل حل نہیں ہوں گے
پہلا اور مہذب طریقہ آسان رسائی پلیٹ فارم،،سوشل میڈیا ہے اور اگر نہ سنی جائے تو پرامن احتجاج ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور یہ نوجوان جب اقتدار کے ایوانوں کا رخ کرتے ہیں تو پھر مقتدرہ کی کانپنیں ٹانگتی ہیں کیونکہ یہ مزاحمت جانتے ہیں اور دنیا ہمیشہ مزاحمت کاروں نے جیتی ہے مصالحت کاروں کو کچھ نہیں ملا اگر ملا بھی تو بہت کم
جین ذی وہ تواناء نوجوان قوت ہے جو مثبت سوچ سے دنیا پلٹ دے
بدقسمتی سے پاکستان میں ہر سکالر،،خطیب،،سپیکر،،اور لیڈر کی جانب سے شعور اور آگاہی کے نام پر طوفان بدتمیزی سیکھایا جاتا ہے،،یہاں کوئی نظام کو غلط نہیں کہتا،،
پارٹی پارٹی بانٹی،،کھیلی،،اور بولی جاتی ہے،،جس پارٹی سے تعلق اور وابستگی ہو اسکے سیاہ کو بھی سفید کر کے پیش کیا جاتا ہے حقائق مسخ کر کے بیان کیے جاتے ہیں بحیثیت قوم ترجیحات بہت بیہودہ ہیں،، ایکس،،انسٹاگرام،،فیس بک،،کوئی بھی سوشل پلیٹ فارم دیکھ لیں سب سے زیادہ بیہودگی بَکنے والا،،سب سے زیادہ فحش بولنے والا سب سے بڑا ویلاگر اور بلاگر ہو گا سب سے زیادہ فالورز اسی کے ہوں گے اگر یقین نہیں آزمایا لیں اپنے اکاؤنٹ سے بہترین بات شئیر کریں دس لائک نہیں ملیں گے اور اسی اکاؤنٹ سے ننگا ناچ کریں بیہودگی کو فروغ دیں دس دن میں لاکھوں فالورز مل جائیں گے،،
ہمارے نوجوان غلط نہیں ہیں کمزور نہیں ہیں،،مگر ان میں ترجیحات کے تعین کا فقدان ہے
سسٹم نے انھیں اس جانب موڑ دیا ہے جہاں انکی توانائیاں ریت کے ذروں اور بہتے پانیوں کی مانند ضائع ہو رہی ہیں اور نظام پوری طرح ننگا ہونے کے باوجود انھیں ڈھانپا ہوا نظر آ رہا ہے
قائرین محترم خدا راہ اپنی نوجوان نسل کو مضبوط فولادی کردار کا مالک بنائیں
انھیں بتائیں کہ
جنت مرزا،،کنول آفتاب،،رجب بٹ،، ندیم نانی والا،،نیشاپومی،،فاخرہ تنویر،،یہ اور ان جیسے ہزاروں مسخرے آپکے ہیروز نہیں ہو سکتے،،
انھیں بتائیں کہ عارضی کیا ہے اور دائمی کیا ہے انھیں بتائیں کہ ضرورت کیا ہے اور ضروری کیا ہے انھیں بتائیں کہ مقصد کیا ہے اور جستجو مقصد کیا ہے،،انھیں یہ باور کروائیں کہ سچ انکی پسند ناپسند سے بلند ہے،،حق بولنا ایک فرض ہے،،حقائق تک رسائی اور اسکی فرض ہے،،انھیں بتائیں کہ وہ کوئی کھانے پینے،،سانس لینے کے لیے نہیں بلکہ نظام میں روح ڈالنے کے لیے پیداء ہوئے ہیں گو گندے نظام کو ننگا کرنا مشکل ہوتا ہے مگر اپنی آنکھیں بند کر کے پہلے سے ننگے نظام کو ڈھانپ دینا بھی غلط شرافت ہے
ہمارے نوجوان ہمارا سرمایہ افتخار ہیں خدا کرے کہ انکی صلاحیتوں سے پھوٹنے والی صبح بہت روشن اور شاندار ہو۔۔۔۔۔۔
