اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین سے اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام(ڈبلیو ایف پی )کی نمائندہ اور کنٹری ڈائریکٹر محترمہ انیتا ہرش نے ملاقات کی، جس میں غذائی تحفظ، غذائیت، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور پائیدار زراعت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ورلڈ فوڈ پروگرام کی طویل شراکت داری کو سراہا اور غذائی تحفظ، غذائیت اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدامات میں ادارے کے اہم کردار کی تعریف کی۔رانا تنویر حسین نے وفد کو آگاہ کیا کہ حکومت نے قومی غذائی تحفظ پالیسی کی تیاری کا آغاز کر دیا ہے، جو فوڈ سسٹمز اپروچ پر مبنی ہوگی۔ انہوں نے پالیسی میں غذائیت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی بہترین تجربات کو شامل کرنے کے لیے ڈبلیو ایف پی سے تکنیکی معاونت کی درخواست کی۔محترمہ انیتا ہرش نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی غذائی تحفظ پالیسی کی تیاری میں مکمل تکنیکی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے غلہ ذخیرہ کرنے، پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ، سپلائی چین، غذائی اجزا کی افزائش(فوڈ فورٹیفیکیشن)اور غذائیت کے شعبے میں ڈبلیو ایف پی کی مہارت سے بھی آگاہ کیا۔وفاقی وزیر نے بینظیر نشوونما پروگرام، قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں اور غذائی تحفظ کے شعبے میں ڈبلیو ایف پی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ملاقات میں پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ، غلہ ذخیرہ کرنے، غذائیت پر مبنی زراعت، فوڈ فورٹیفیکیشن، ڈیجیٹل حل اور پائیدار فوڈ سسٹمز کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
اس کے علاوہ قومی غذائی تحفظ پالیسی کی تیاری اور غذائی نظام کی بہتری کے لیے ڈبلیو ایف پی، ایف اے او ، ایف اے ڈی اور دیگر شراکت دار اداروں کے درمیان قریبی رابطہ بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان قومی غذائی تحفظ، بہتر غذائیت اور پائیدار زرعی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ڈبلیو ایف پی کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی۔
پاکستان اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے درمیان قومی غذائی تحفظ پالیسی اور غذائیت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
