پورٹ آف سپین(آئی پی ایس )پاکستان کے ابھرتے ہوئے نوجوان اوپنر عبداللہ فضل نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے قبل شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان ٹیم کے بولرز کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔23 سالہ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے بیٹر نے وارم اپ میچ میں دونوں اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے پہلی اننگز میں 50 اور دوسری اننگز میں جارحانہ انداز سے 48 رنز بنا کر واضح پیغام دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے تیار ہیں۔
عبداللہ فضل کا قومی ٹیم تک پہنچنے کا سفر آسان نہیں رہا۔ صرف 3 برس قبل وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ ستمبر 2023 میں حنیف محمد ٹرافی کے دوران وہ 4 اننگز میں صرف 27 رنز بنا سکے تھے جس کے بعد 2 میچوں کے بعد ہی انہیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔
تاہم کراچی بلیوز کے کوچ اقبال امام نے نوجوان بیٹر میں غیرمعمولی صلاحیت دیکھی۔ ان کے مطابق اگرچہ فضل آف اسٹمپ سے باہر گیندوں پر غیر ضروری شاٹس کھیل رہے تھے لیکن ان کے بنیادی کھیل اور شاٹس میں موجود قدرتی طاقت نے انہیں متاثر کیا۔اقبال امام کے مطابق عبداللہ فضل کی سب سے نمایاں خوبی ان کی سیکھنے کی لگن تھی۔ وہ خود کم معیار کے میدانوں میں ٹرائل میچ کھیلنے پر اصرار کرتے تھے تاکہ اپنی خامیوں کو دور کر سکیں۔ کوچ کا کہنا ہے کہ یہی جذبہ انہیں دوسرے نوجوان کرکٹرز سے ممتاز بناتا ہے۔
سال2024-25 کا ڈومیسٹک سیزن عبداللہ فضل کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ قومی ٹیم میں صائم ایوب کی شمولیت کے بعد انہیں کراچی بلیوز کی نمائندگی کا موقع ملا جس سے انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔انہوں نے قائداعظم ٹرافی کے فائنل میں سیالکوٹ کے مضبوط بولنگ اٹیک جس میں حسن علی، محمد علی اور محمد حسنین جیسے تجربہ کار بولرز شامل تھے کے خلاف 88 اور 114 رنز کی شاندار اننگز کھیلیں۔ ان کی عمدہ کارکردگی پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا جبکہ کراچی بلیوز نے ٹائٹل اپنے نام کیا۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی کے بعد عبداللہ فضل کو پاکستان کے بنگلہ دیش کے دورے کے لیے قومی ٹیم میں شامل کیا گیا۔پہلے ٹیسٹ سے قبل بابر اعظم انجری کے باعث باہر ہوئے تو عبداللہ فضل کو مرپور ٹیسٹ میں ڈیبیو کا موقع ملا۔ انہوں نے دبا کے باوجود پہلی اننگز میں 60 اور دوسری اننگز میں 66 رنز بنا کر پاکستان کے سب سے کامیاب بیٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ویسٹ انڈیز سلیکٹ الیون کے خلاف پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئے چار روزہ وارم اپ میچ میں عبداللہ فضل نے ایک مرتبہ پھر اپنی کلاس دکھائی۔
