اسلام آباد(آئی پی ایس )چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی اسلام آباد میں جمہوریہ آذربائیجان کے سفیر، خضر فرہادوف سے الوداعی ملاقات اور پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں ان کی غیرمعمولی خدمات کو سراہا۔
چیئرمین سینیٹ نے سفیر آذربائیجان کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، پارلیمانی، اقتصادی اور عوامی روابط کو فروغ دینے کے لیے ان کی انتھک کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سفیر خضر فرہادوف کی فعال سفارتی کوششوں نے باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور اہم قومی معاملات پر ایک دوسرے کی غیرمتزلزل حمایت پر مبنی پاکآذربائیجان دوستی کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان اعلی سطحی روابط میں غیرمعمولی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صدر الہام علییف کے تاریخی دور پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کے بعد ازاں باکو کے دوروں کو دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اعلی سطحی ملاقاتوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے اپنے باکو کے دوروں کو یاد کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون میں نمایاں پیش رفت کا ذکر کیا۔ انہوں نے پارلیمانی کمیٹیوں اور پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے درمیان روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری دوطرفہ تعلقات کا ایک بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے آذربائیجان کی پارلیمان (ملی مجلس) کی اسپیکر، محترمہ صاحبہ غفاروا کے لیے بھی نیک تمناں کا اظہار کیا۔
چیئرمین سینیٹ نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان متفقہ 2 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے ہدف کو عملی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے آذربائیجان کی جانب سے پاکستانی چاول پر درآمدی ڈیوٹی کو 2027 تک صفر کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، صحت، مصنوعی ذہانت، اختراع (انوویشن) اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
چیئرمین سینیٹ نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کے آغاز اور آسان (ASAN) ویزا پروگرام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات سیاحت، تجارت اور عوامی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے آذربائیجان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے مقف کی مسلسل حمایت پر آذربائیجان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف مشترکہ اسٹریٹجک مفادات تک محدود نہیں بلکہ گہرے تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی روابط پر بھی استوار ہیں، جن کی ایک نمایاں علامت باکو میں واقع تاریخی ملتانی کاروان سرائے ہے۔
