شنگھائی(سب نیوز)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے چین کا دورہ مکمل کرنے کے بعد کہا ہے کہ شنگھائی میں ہونے والی ملاقاتیں انتہائی نتیجہ خیز رہیں، جن میں پاکستان اور چین نے سی پیک 2.0، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور دیگر ترجیحی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے چین کی حکومت اور قیادت کی جانب سے پرتپاک میزبانی اور بہترین انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کی افتتاحی تقریب سے صدر شی جن پنگ کے خطاب کو بصیرت افروز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کی اجتماعی دانش کا قیمتی سرمایہ ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ملاقات کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماں نے پاک چین ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں سی پیک 2کے تحت اعلی معیار کی ترقی، مائننگ منصوبہ، قراقرم ہائی وے ری الائنمنٹ منصوبہ اور وزیراعظم شہباز شریف کے مئی 2025 کے دور چین کے دوران طے پانے والے دیگر اہم منصوبوں پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اسحاق ڈار نے اپنے ہمراہ وفد میں شامل وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعلی پنجاب کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت علی مصطفی ڈار، پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب اور وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری (ایشیا پیسفک)ڈاکٹر سید اسد علی گیلانی کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں سے یہ دورہ کامیاب اور نتیجہ خیز ثابت ہوا۔انہوں نے چین میں پاکستانی سفارتخانے اور شنگھائی قونصل خانے کے حکام کا بھی تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ آئندہ ہفتے اہم سفارتی مصروفیات اور سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے اسلام آباد واپس روانہ ہو رہے ہیں۔
