ہومپاکستانآئی ایس ایس آئی کے زیر اہتمام پاکستان اِن اے ٹرانسفارمنگ جیو پولیٹیکل انوائرمنٹ کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

آئی ایس ایس آئی کے زیر اہتمام پاکستان اِن اے ٹرانسفارمنگ جیو پولیٹیکل انوائرمنٹ کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

اسلام آباد(راجہ برھان سے )انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد(آئی ایس ایس آئی )کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ نے جرمن ادارے فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ پاکستان کے تعاون سے “پاکستان اِن اے ٹرانسفارمنگ جیو پولیٹیکل انوائرمنٹ” کے عنوان سے ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، سفارتکاروں اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔افتتاحی اجلاس کے مہمانِ خصوصی صدرِ پاکستان کے ترجمان مرتضی سولنگی تھے، جبکہ دیگر مقررین میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود، سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر آمنہ خان، فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر فیلکس کولبٹز اور جرمنی کے سفارت خانے کے ناظم الامور آرنو کرخوف شامل تھے۔

سفیر خالد محمود نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک ایسے علاقائی اور عالمی ماحول میں موجود ہے جہاں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اسٹریٹجک مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے اور علاقائی اتحاد نئی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی اور غیر روایتی سیکیورٹی چیلنجز کے درمیان فرق بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے اور ان تبدیلیوں کے براہِ راست اثرات پاکستان کی سلامتی، معیشت، سفارت کاری اور علاقائی پالیسی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ڈاکٹر آمنہ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جسے طویل عرصے سے ایک “مشکل ہمسایگی” قرار دیا جاتا ہے، جہاں جغرافیائی سیاسی رقابتیں، عالمی طاقتوں کی کشمکش اور طویل تنازعات خطے کو درپیش چیلنجز میں اضافہ کر رہے ہیں۔ تاہم خطے میں اقتصادی انضمام، علاقائی رابطہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے وسیع امکانات بھی موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے مستقل مکالمہ اور علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔مہمانِ خصوصی مرتضی سولنگی نے کہا کہ دنیا اس وقت یک قطبی نظام سے کثیر قطبی عالمی نظام کی طرف منتقل ہو رہی ہے اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت متعدد اہم تبدیلیوں کے سنگم پر کھڑا ہے، جن میں پاکستان افغانستان تعلقات، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور تیزی سے بدلتا عالمی منظرنامہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور تعمیری سفارت کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے اور افغانستان کے ساتھ پرامن اور مستحکم تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستان نہیں چاہتا کہ افغانستان دوبارہ عالمی دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہ بنے۔ انہوں نے چین، ترکی اور قطر کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ثالثی کی کوششوں کا خیر مقدم بھی کیا۔جرمنی کے ناظم الامور آرنو کرخوف نے یورپی یونین کو قانون پر مبنی عالمی نظام کی کامیاب مثال قرار دیتے ہوئے پاکستان اور یورپی ممالک خصوصا جرمنی کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر فیلکس کولبٹز نے پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں ایک مثر اور ذمہ دار سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے پانی اور موسمیاتی تحفظ سمیت سرحد پار دہشت گردی کو مشترکہ عالمی چیلنجز قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کی جانب سے مشترکہ حکمت عملی اور اجتماعی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔کانفرنس کے دوران افغانستان اور وسط ایشیا میں علاقائی استحکام کے مستقبل، مشرق وسطی میں پاکستان کے کردار اور بدلتے ہوئے علاقائی منظرنامے میں غیر روایتی سیکیورٹی چیلنجز سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی ورکنگ سیشنز بھی منعقد کیے گئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔