ہومبریکنگ نیوزخیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی تینوں انتخابی فتوحات انجینیئرڈ تھیں، ثمر بلور

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی تینوں انتخابی فتوحات انجینیئرڈ تھیں، ثمر بلور

پشاور (آئی پی ایس )ممتاز خاتون سیاسی رہنما اور مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیانیے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی پارٹی نے خیبر پختونخوا میں جو تینوں الیکشن جیتے، وہ انجینئرڈ تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بیانیہ ہے کہ پی ٹی آئی باقی ملک کے انتخابی نظام کو کرپٹ کہتی ہے لیکن خیبرپختونخوا میں اپنی جیت پر خاموش ہو جاتی ہے۔

ثمر بلور نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے جوانوں کو تعلیم، روزگار یا انفراسٹرکچر نہیں چاہیے بلکہ صرف ایک مخصوص لیڈر کی رہائی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو بیوقوف بنایا گیا اور ان کے ذہنوں میں زہر گھولا گیا جس کے تدارک کے لیے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔صوبے میں تعلیم اور گورننس کی تباہی پر بات کرتے ہوئے ثمر بلور نے کہا کہ ماضی میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے بدترین دہشتگردی کا سامنا کرنے کے باوجود صوبے میں 13 یونیورسٹیاں قائم کیں جبکہ آج تعلیمی سونامی کا دعوی کرنے والوں کے دور میں پشاور یونیورسٹی اور گومل یونیورسٹی کے پاس اساتذہ کو دینے کے لیے تنخواہیں اور پینشن تک موجود نہیں ہیں اور پروفیسرز لاٹھی چارج کا سامنا کر رہے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) میں انٹرنیٹ تک موجود نہیں ہے تو وہاں کے بچے کیسے مقابلہ کریں گے؟

پشاور میں جس 36 بیڈز کے اسپتال کو یہ اپنی کارکردگی بتاتے ہیں اس کا سنگ بنیاد بھی ماضی کی مخلوط حکومت نے رکھا تھا۔خیبر پختونخوا کے عوام مریم نواز کا پنجاب ترقیاتی ماڈل صوبے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یہ ان کی زندگی کا ذاتی فیصلہ تھا کیونکہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کی محنت، جذبے اور میرٹ پسندی سے شدید متاثر ہوئیں۔ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مارشل لا کے دور میں جب میاں نواز شریف اور مہتاب عباسی قید تھے تب بھی ان کے شوہر بحیثیت وکیل ان کی لیگل ٹیم کا حصہ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب خیبر پختونخوا کے عوام بھی مریم نواز کا پنجاب والا ترقیاتی ماڈل اپنے صوبے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، ماضی کے سانحات اور صوبے کی سیاسی و اقتصادی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک دہشتگرد عناصر کے خلاف سخت ترین ریاستی رویہ (ہارڈ اسٹیٹ) اختیار نہیں کیا جاتا تب تک صوبے میں امن اور ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔اپنے خاندان پر گزرنے والے مظالم اور سیاسی سفر پر گفتگو کرتے ہوئے ثمر بلور نے بتایا کہب سنہ 2018 کے عام انتخابات کی مہم کے دوران 10 جولائی کو ایک بزدلانہ حملے میں ان کے شوہر ہارون بلور سمیت خاندان کے 7 افراد اور مجموعی طور پر 25 لوگ ایک کارنر میٹنگ کے دوران شہید ہو گئے تھے۔

اس سے 5 سال قبل ان کے سسر اور صوبے کے سینیئر وزیر بشیر احمد بلور کو بھی 5ویں قاتلانہ حملے میں شہید کیا گیا تھا۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ 2 بیواں اور 2 یتیم بچوں نے جس کٹھن وقت اور ذہنی کرب میں یہ سال گزارے ہیں اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتے ہیں۔ان کا سیاست میں آنے کا مقصد ہی اپنے بچوں میں پیدا ہونے والے شدید غصے اور فرسٹریشن کو ایک مثبت اور تعمیری رخ دینا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سوات کے لوگ ماضی میں چوکوں پر سر لٹکانے اور اسکول جانے پر سزائیں بھگت چکے ہیں۔ جب دہشتگردوں کو واپس لایا جا رہا تھا تو مقامی عوام چیخ رہے تھے کہ انہیں مت لائیں، لیکن عوام کی مرضی کے بغیر فیصلے کیے گئے جن کا خمیازہ صوبہ پچھلے 15 سال سے بھگت رہا ہے۔ ثمر بلور نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح وہ اپنی مراعات کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اسی طرح انہیں صوبے کے امن اور سیکیورٹی کے لیے بھی ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس، فوج اور ایف سی کے جوان سرحد پار سے آنے والے جدید بھارتی اسلحے کے باوجود بہادری سے لڑ رہے ہیں اور اپنی جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں۔افغانستان سے متعلق سیاسی بیانیے پر بات کرتے ہوئے ثمر بلور نے واضح کیا کہ بجٹ اجلاس کے دوران انہوں نے اس سویپنگ اسٹیٹمنٹ کو کانٹر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ تمام پختون افغانستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پختون بھی ہوں اور پاکستانی بھی، یہ میرا بیانیہ ہے اور میرا پورا خاندان یہی سوچتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے بڑے لکی مروت کی مٹی میں پیدا ہوئے اور یہیں سے پڑھ کر میجر جنرل، ڈاکٹر اور صدر پاکستان بنے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔