کراچی(آئی پی ایس )ایم کیو ایم پاکستان نے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور پی پی کی اعلی قیادت کے استعفوں کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے حکمراں جماعت پیپلز پارٹی پر تنقید کے نشتر چلا دیے اور کہا کہ بجلی ہے، نہ گیس، اور نہ ہی پانی۔ سندھ والوں کا حق مارا جا رہا ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے خلاف تقریر کی اور وزارتوں سے استعفی دینے کا کہا۔
سندھ سے ہونے والی زیادتیوں پر آپ صدر زرداری کا استعفی لائیں اور پی پی قیادت مستعفی ہو تو بدلے میں ایم کیو ایم اپنی دونوں وزارتوں سے استعفی دیدے گی۔ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت نہیں، کارکردگی کی بنیاد پر عوام پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیتی۔ پی پی کو الیکٹ ایبلز کی وجہ سے حکومت ملی۔ مخصوص شخصیات کو ہٹا دیں تو پیپلز پارٹی بعض علاقوں سے نہیں جیت سکتی۔ بجارانی، مہر اور شیخ جیسے افراد آزاد الیکشن لڑیں تو پیپلز پارٹی کی اکثریت ختم ہو جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے اصل مسائل پر پیپلز پارٹی لب کشائی نہیں کرتی۔ پی پی سندھ کے مسائل پر لڑے، اس کو کس نے روکا ہے۔ ارسا کے مسئلے پر پیپلز پارٹی میدان میں نکلے، ایم کیو ایم ساتھ ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پیپلز پارٹی دودھ کی دھلی نہیں، اس کے خلاف بھی پٹیشن موجود ہے۔
سندھ حکومت مسائل کے حل کے لیے پالیسی نہیں دیتی، اختیارات کی منتقلی کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔علی خورشیدی نے بجٹ پر کہا کہ بجٹ منظور ہوگیا، لیکن بجٹ پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ یہ بجٹ سندھ کے عوام کو خسارے میں لے کر جا رہا ہے، اگر یہ بہترین بجٹ ہے تو خراب بجٹ کیا ہوگا۔ سندھ کا پیسہ دیگر صوبوں میں لگ رہا ہے۔ حکومتی بصیرت غائب نظر آرہی ہے۔ خزانے خالی ہوں کوئی بات نہیں، حکومتی بصیرت خالی نہیں ہونی چاہیے۔وفاقی حکومت سے ایم کیو ایم نے 15 ارب روپے لیے، جو دو سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت روک کر رکھے ہوے ہیں۔ سندھ حکومت 674 ارب روپے اپنے میئر کو دے دے، تو کراچی کے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ لیکن سندھ میں دھندا لگایا ہوا ہے، پیسے دیے بنا کوئی کام نہیں ہوگا۔ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی وفاق سے تو تنخواہ میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ کرتی ہے، مگر اس نے خود سندھ کے بجٹ میں کتنی تنخواہ بڑھائی ہے۔
