تحریر: ما رُوئی چیان
بیجنگ(27 جون 2026)
جب مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ حال ہی میں چین میں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہے، تو میرے ایک پاکستانی دوست نے پُرجوش انداز میں اسے دیکھنے کی سفارش کی۔ بیجنگ کے شی دان علاقے میں واقع ایک سنیما میں اپنی نشست سنبھالتے وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان کی یہ بلاک بسٹر فلم میرے دل و دماغ پر اتنا گہرا اثر چھوڑے گی اور مجھے بیک وقت اجنبیت اور قربت دونوں کا احساس دلائے گی۔
فلم کی کہانی پنجاب میں دو خاندانوں کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط دشمنی کے گرد گھومتی ہے۔ اس کا مرکزی کردار مولا جٹ ایک طاقتور پہلوان ہے جو بچپن میں اپنے خاندان کے قتلِ عام کے صدمے سے نجات نہیں پا سکا۔ جب اسے اپنی اصل شناخت اور خاندانی ورثے کی حقیقت معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے آبائی ہتھیار پر دوبارہ قبضہ حاصل کرتا ہے، تو وہ اپنے خاندان کے دشمن قبیلے کے خوفناک جنگجو نوری ناٹ سے انتقام لینے کے سفر پر نکل پڑتا ہے۔ یہ سفر بالآخر ایک خونریز اور فیصلہ کن معرکے پر ختم ہوتا ہے۔
اسکرین پر پنجاب کے وسیع میدانوں میں عزت، انتقام اور غیرت کی داستان ایک شاندار مگر پُراسرار موسیقی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ پنجابی زبان کے مکالمے، شاعرانہ انداز میں کہی گئی باتیں، روایتی لباس اور مضبوط خاندانی اقدار مجھے ایک ایسی دنیا میں لے گئیں جو ایک طرف اجنبی تھی اور دوسری طرف انتہائی حقیقی محسوس ہوتی تھی۔
کہانی کے عروج پر مولا جٹ اپنے والد کے استعمال کردہ روایتی گنڈاسے کے ساتھ اپنے ازلی دشمن کا سامنا کرتا ہے۔ فلم کے شدید اور پُرجوش ایکشن مناظر طاقت کا بھرپور احساس دلاتے ہیں اور ساتھ ہی مجھے چینی مارشل آرٹس فلموں کی یاد بھی دلاتے ہیں جن سے میں بخوبی واقف ہوں۔
خاندانی تقدیر، بھائی چارے اور ایک ہیرو کی شخصیت کی نشوونما جیسے موضوعات مشرقی داستانوں میں پائی جانے والی جوانمردی اور بہادری کی روایات کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ دو گھنٹے سے زائد دورانیے کے دوران میں مسلسل تجسس اور سنسنی میں مبتلا رہا کیونکہ فلم میں ہیرو اور ولن دونوں کو غیر معمولی گہرائی اور دلکشی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
جب فلم ختم ہوئی اور سنیما ہال کی روشنیاں دوبارہ جلیں، تو میں نے اپنے قریب بیٹھے دو طلبہ کی گفتگو سنی۔ ایک نے کہا:
“لڑائی کے مناظر شاندار تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی چینی مارشل آرٹس فلم دیکھ رہا ہوں۔”
دوسرے نے جواب دیا:
“پاکستانی ثقافت کو اس انداز میں دیکھنا میرے لیے پہلا تجربہ تھا۔ اب میں پاکستان کی تاریخ اور روایات کے بارے میں مزید جاننا چاہتا ہوں۔”
ان کی گفتگو نے مجھے یہ احساس دلایا کہ ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کی چینی سینما گھروں تک رسائی کی اہمیت محض ایک فلم کی نمائش تک محدود نہیں۔ یہ ایک نئی کھڑکی بن چکی ہے جس کے ذریعے چینی عوام پاکستان کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں، اور یہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے ثقافتی تبادلوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
طویل عرصے تک جب چینی عوام پاکستان کے بارے میں سوچتے تھے تو ان کے ذہن میں سب سے پہلے دونوں ممالک کی ’’آہنی دوستی‘‘ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا تصور آتا تھا۔ اگرچہ یہ تعلقات آج بھی انتہائی اہم ہیں، لیکن فلم پاکستان کا ایک اور رخ سامنے لاتی ہے جو زیادہ جاندار، حقیقی اور انسانی ہے۔
فلم کے ذریعے چینی ناظرین کو پنجاب کی منفرد زبان و ثقافت، مضبوط خاندانی روایات، روایتی لباس، عوامی رسم و رواج اور عام لوگوں کے عزت، ذمہ داری اور وقار کے تصورات کو براہِ راست دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
درحقیقت، فلم کی ریکارڈ ساز کامیابی صرف اس کی اعلیٰ فنی اور تکنیکی معیار کی وجہ سے نہیں۔ خاندان کی عزت، بھائیوں کے درمیان وفاداری، ظلم کے خلاف مزاحمت اور زمین و روایت کے تحفظ جیسے موضوعات پاکستانی ثقافتی اقدار میں گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی اقدار چینی ناظرین کے لیے بھی اجنبی نہیں، کیونکہ وہ وفاداری، راست بازی اور خاندان و وطن سے محبت جیسے تصورات سے بخوبی واقف ہیں۔
فلم کا ایک مکالمہ خاص طور پر یاد رہ جاتا ہے:
“بھیک اور بزدلی انسان کو سر بلند نہیں کر سکتیں۔ عزت صرف اپنی قابلیت ثابت کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔”
دلچسپ بات یہ ہے کہ اقدار کی یہی مشترکہ ہم آہنگی چینی اینی میشن فلم نی ژا 2 کی یاد بھی دلاتی ہے، جو گزشتہ سال اکتوبر کے آخر میں پاکستان میں ریلیز ہوئی تھی۔ اگرچہ دونوں فلمیں مختلف ثقافتی روایات اور تاریخی پس منظر رکھتی ہیں، لیکن نی ژا 2 میں تقدیر سے بغاوت، اپنے پیاروں کا تحفظ اور خود شناسی جیسے موضوعات نے بھی پاکستانی ناظرین کو متاثر کیا۔
یہ دونوں فلمیں ایک سادہ مگر اہم حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں: قومی سرحدوں سے ماورا وہ اقدار ہیں جو انسانوں کو جوڑتی ہیں، جیسے بہادری، ذمہ داری، انصاف اور عزتِ نفس۔
چین اور پاکستان کے درمیان فلمی تعاون اب ثقافتی تبادلوں کا ایک نیا اور اہم شعبہ بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے فلمی صنعت میں تعاون کو فروغ دیا ہے۔ پاکستانی بلاک بسٹر ’’پرواز ہے جنون‘‘ اور پہلی مشترکہ چین-پاکستان فلم ’’باتیے گرل‘‘ سمیت کئی فلمیں چینی سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئیں اور انہیں ناظرین کی جانب سے مثبت پذیرائی حاصل ہوئی۔
مستقبل میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی فلمی منڈی چینی فلموں کے لیے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے، جبکہ مزید پاکستانی فلموں کا چین میں تعارف چینی ناظرین کی متنوع بین الاقوامی مواد اور مختلف ثقافتوں کو سمجھنے کی بڑھتی ہوئی خواہش کو پورا کرے گا۔
جیسے جیسے دونوں ممالک کے درمیان فلمی تعاون کے نظام میں بہتری آتی جائے گی، توقع ہے کہ اشتراک صرف فلموں کی تقسیم اور نمائش تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مشترکہ پروڈکشنز، تکنیکی تبادلوں اور افرادی قوت کی تربیت تک بھی پھیل جائے گا۔ اس سے نہ صرف فلمی صنعت کو نئے مواقع حاصل ہوں گے بلکہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے، اور چین-پاکستان ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون میں ایک نئی ثقافتی جہت کا اضافہ ہوگا۔
’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ سے لے کر ’’نی ژا 2‘‘ تک، سرحدیں صرف فلمیں یا باکس آفس کے اعداد و شمار عبور نہیں کرتے بلکہ عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی باہمی سمجھ بوجھ اور احترام بھی ان کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ جیسے جیسے مزید بہترین فلمیں دونوں سمتوں میں سفر کریں گی، چین اور پاکستان کی دوستی کا ایک نیا باب نہ صرف پردۂ سیمیں پر بلکہ اس سے آگے بھی رقم ہوتا رہے گا۔
(مصنف گلوبل ٹائمز کے شعبۂ آراء کے رپورٹر ہیں۔)

