تحریر: محمد محسن اقبال
انسانی تاریخ کا ہر دور ایسے امتحانات سے عبارت رہا ہے جنہوں نے حق اور باطل کے درمیان لکیر کھینچی ہے۔ ان گنت شخصیات میں اگر کوئی ہستی اس امتیاز کو سب سے زیادہ وضاحت، جرا?ت اور دوام کے ساتھ نمایاں کرتی ہے تو وہ نواس? رسول حضرت امام حسین کی ذاتِ گرامی ہے۔ میدانِ کربلا میں اُن کا موقف محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا ابدی پیغام ہے جو ہر نسل کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ آج کا زمانہ، جو ٹیکنالوجی کی برق رفتاری، عالمی کشمکشوں، اخلاقی ابہام اور بڑھتی ہوئی ناانصافیوں سے عبارت ہے، حضرت امام حسین کی قربانی کو ایک روشن مینارِ نور کی حیثیت عطا کرتا ہے۔ یہ قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق اور باطل محض آراء کا اختلاف نہیں بلکہ وہ بنیادی حقیقتیں ہیں جن پر مہذب معاشروں کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔
حضرت امام حسین کا سامنا ایک ایسے حکمران سے تھا جو جائز اقتدار کے بجائے جبر، خوف اور بدعنوانی کے ذریعے اطاعت چاہتا تھا۔ یزید کی حکومت اسلام کی ان عظیم اخلاقی قدروں—عدل، رحمت، صداقت اور کمزوروں کے تحفظ—کو ملوکیت کے آلے میں تبدیل کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ ایسے میں حضرت امام حسین نے اپنی جان، خاندان اور آسائشوں کی پروا کیے بغیر اصولوں کا راستہ اختیار کیا۔ آپ مدینہ سے اپنے اہلِ خانہ اور جاں نثار ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوئے، حالانکہ آپ بخوبی جانتے تھے کہ ظاہری اسباب اور مادی قوتیں آپ کے خلاف ہیں۔ کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں، جہاں پانی تک بند کر دیا گیا اور چاروں طرف دشمنوں کا سمندر موجزن تھا، آپ اور آپ کے عزیزوں نے حق کا سودا کرنے کے بجائے اپنی جانیں قربان کر دیں۔
یہ کوئی بے سوچ بغاوت یا اقتدار کے حصول کی جدوجہد نہ تھی، بلکہ حق کے دفاع اور باطل کے انکار کا ایک شعوری، باوقار اور مقدس فیصلہ تھا۔ قرآنِ مجید شہدائے حق کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔” (آلِ عمران: 169)
اس آیت کی روشنی میں شہادت شکست نہیں بلکہ روح کی فتح کا دوسرا نام ہے۔ رسولِ اکرم ۖ نے فرمایا
”حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔”
یہ ارشاد اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ حضرت امام حسین کی سیرت اور کردار نبوی مشن سے جدا نہیں۔ لہٰذا جو ہاتھ اس چراغِ ہدایت کو بجھانے کے لیے اٹھا، اس نے درحقیقت اخلاقی اقدار کی بنیادوں کو نشانہ بنایا۔
حق اور باطل کوئی فرسودہ فلسفیانہ تصورات نہیں، بلکہ آج بھی اتنے ہی زندہ اور اہم ہیں جتنے چودہ سو برس پہلے تھے۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں معلومات کا سیلاب ہے مگر اخلاقی بصیرت کی پیاس بڑھتی جا رہی ہے۔ آمرانہ نظام اختلافِ رائے کو کچلتے ہیں، طاقتور کمزوروں کا استحصال کرتے ہیں اور ڈیجیٹل دنیا سچ اور جھوٹ دونوں کو یکساں رفتار سے پھیلاتی ہے۔ ایسے حالات میں غیر جانبداری اکثر خاموش حمایت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جب جنگوں میں معصوم بچے مارے جائیں، پوری قوموں کو عزت و وقار سے محروم کیا جائے اور سچائی کو طاقت کے قدموں میں قربان کر دیا جائے تو یزیدیت نئے روپ دھار کر سامنے آتی ہے۔ کربلا کا پیغام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب ایک فریق کھلے عام انسانیت کی بنیادی اقدار کو پامال کر رہا ہو تو ”دونوں طرف غلطی ہے” جیسی باتیں ضمیر کی تسکین تو ہو سکتی ہیں، حق کا ساتھ نہیں۔
کربلا میں بہایا جانے والا خون رائیگاں نہیں گیا۔ وہ ظلم کے خلاف ایک دائمی احتجاج اور اخلاقی جرا?ت کی لازوال صدا بن گیا۔ نبی کریم ۖ نے فرمایا:
”سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے۔”
حضرت امام حسین نے اس تعلیم کو اپنی زندگی اور شہادت کے ذریعے کامل ترین شکل میں عملی جامہ پہنایا۔ آپ نے ثابت کر دیا کہ حق کا معیار تعداد، ہتھیار یا وقتی غلبہ نہیں ہوتا۔ اخلاقی سچائی اپنی ایک مستقل قوت اور دائمی اقتدار رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں بعد بھی کربلا کا پیغام صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کو حوصلہ دیتا ہے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کی ہمت رکھتا ہے۔
حسینیت—یعنی اصولوں پر ڈٹ جانے کی روح—نسل، فرقے اور جغرافیے کی قید سے آزاد ہے۔ یہ فلسطین کے اُس باپ میں زندہ ہے جو اپنے بچوں کی تدفین کے بعد بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔ یہ کشمیر کی اُس آواز میں بولتی ہے جو عزت و وقار کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ ہر اُس فرد میں جلوہ گر ہوتی ہے جو ذاتی مفاد کو قربان کر کے بدعنوانی، ظلم اور بے رحمی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ حسینیت عالمگیر ہے کیونکہ حق اور باطل کی جنگ بھی عالمگیر ہے۔ ظلم اپنے چہرے بدلتا رہتا ہے، مگر اس کے سامنے سر نہ جھکانے والے بھی ہر دور میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
دوسری طرف یزید کا نام تاریخ کے اوراق میں ایک تنبیہ بن کر محفوظ ہے۔ اس کا جرم صرف فوجی فتح نہ تھا بلکہ ظلم کو معمول بنانا، رشتوں کی حرمت پامال کرنا اور مقدس اقدار کی توہین کرنا تھا۔ جو لوگ واضح برائی کے سامنے خاموش رہتے ہیں، اجتماعی مظالم پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں یا سچائی کو کچلتے دیکھ کر بے حسی اختیار کرتے ہیں، وہ دانستہ یا نادانستہ اسی روایت کو تقویت دیتے ہیں۔ جس طرح فطرت خلا کو برداشت نہیں کرتی، اسی طرح اخلاقیات میں بھی خاموشی کسی نہ کسی قوت کو مضبوط کرتی ہے۔ سنگین ناانصافی کے سامنے خاموش رہنا بے گناہی نہیں بلکہ ایک انتخاب ہے، اور یہ انتخاب اکثر باطل کے حق میں جاتا ہے۔
آج اس پیغام کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ انسانیت موسمیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی کی اخلاقیات، معاشی ناہمواری اور ہائبرڈ جنگوں جیسے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے۔ اخلاقی نسبیت ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہے کہ ہر چیز مبہم اور دھندلی ہے، مگر کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات بدل سکتے ہیں، اصول نہیں۔ معصوموں کا قتل آج بھی غلط ہے۔ جبر کو حکمرانی کا نام دینا آج بھی غلط ہے۔ وقتی فائدے کے لیے سچائی کا سودا کرنا آج بھی غلط ہے۔ اگر معاشرے اس بنیادی تمیز کو کھو دیں تو ان کا مقدر بداعتمادی، بے حسی اور بالآخر زوال بن جاتا ہے۔
ہر سال محرم الحرام اور یومِ عاشور ہمیں محض غم منانے کے لیے نہیں آتے، بلکہ عدل و انصاف سے اپنی وابستگی کی تجدید کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ کربلا پر بہائے جانے والے آنسو دراصل ایک عہد ہیں؛ یہ وعدہ کہ جب کبھی ظلم ہماری اطاعت طلب کرے گا تو ہمیں فرات کے کنارے آباد وہ مختصر سا قافلہ یاد آئے گا جس نے بقا پر عزت کو ترجیح دی تھی۔ یہ پیغام تشدد کی تمجید نہیں کرتا بلکہ یہ باور کراتا ہے کہ بعض اقدار زندگی سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی ہیں—سچائی، انسانی وقار اور بے گناہوں کا تحفظ۔
حسینیت اور یزیدیت کی اس دائمی کشمکش میں کوئی غیر جانبدار مقام موجود نہیں۔ یا تو انسان اپنے قول، عمل، علم، خیرات اور کردار کے ذریعے انصاف کو تقویت دیتا ہے، یا پھر ناانصافی کے پھیلاؤ میں خاموش کردار ادا کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک فرد کا اصولی انکار بھی نسلوں کے لیے امید کا چراغ بن سکتا ہے۔ حضرت امام حسین بظاہر اُس دن میدانِ جنگ نہ جیت سکے، مگر ان کی اخلاقی فتح نے اُن تمام سلطنتوں کو مات دے دی جو بعد میں آئیں اور مٹ گئیں۔
کربلا کی روح آج بھی ایک ابدی اور نہایت عصری پیغام دیتی ہے: حق کا انتخاب کرو، خواہ اس کی قیمت کتنی ہی بھاری کیوں نہ ہو۔ باطل کو رد کر دو، چاہے وہ اقتدار کے شاہانہ لباس میں ملبوس ہو۔ اصولوں کی روشنی میں جینا سیکھو، سمجھوتوں کے اندھیروں میں دھیرے دھیرے مرنے کے بجائے۔ ایسا کر کے ہم صرف ماضی کا احترام نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں جو انسانیت کی بلند ترین اقدار کے شایانِ شان ہو۔
حضرت امام حسین صرف ساتویں صدی کے عرب کے نہیں، بلکہ ہر اُس زمانے کے امام ہیں جو تاریکی کو اپنی تقدیر ماننے سے انکار کرتا ہے۔ اُن کا نام محض غم کی ایک یادگار نہیں بلکہ باطل کے خلاف مزاحمت کا زندہ پرچم اور اس یقین کی علامت ہے کہ جب حق کا دامن جرا?ت کے ہاتھ میں ہو تو فتح بالآخر اسی کا مقدر بنتی ہے۔
آج کے پُرآشوب دور میں ہمیں اس پیغام کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے: عزت یا مصلحت، حق یا باطل، حسین یا یزید۔ تاریخ بھی دیکھ رہی ہے اور ہمارا ضمیر بھی۔
حسینیت کا چراغ اور ظلمتِ یزیدیت
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

