اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ جدید تدریسی مہارتوں سے اساتذہ کو بااختیار بنانا دراصل پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے کیونکہ اساتذہ ہی آنے والی نسلوں کے معمار ہیں۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار آئی سی سی آئی، ایس او ایس فاؤنڈیشن اور ایجو ٹرانسفارم کے اشتراک سے منعقدہ “اکیسویں صدی کی تدریسی مہارتیں” کے موضوع پر اساتذہ کی تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی اور عالمی روابط کے اس دور میں ایسا جدید تعلیمی نظام ناگزیر ہو چکا ہے جو عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی اور تعلیمی بہتری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اسی لیے آئی سی سی آئی نے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ کاروباری و تجارتی امور سے آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، اختراع، کاروباری صلاحیتوں، ٹیکنالوجی اور صنعت و تعلیمی اداروں کے مابین تعاون کے فروغ تک وسیع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ چیمبر کی بڑھتی ہوئی شراکت داری، مہارتوں کے فروغ اور ڈیجیٹل معیشت پر خصوصی توجہ علم پر مبنی خوشحال پاکستان کی تعمیر کے عزم کا مظہر ہے۔
روانڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر نعیم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ معیاری تعلیم کی بنیاد تخلیقی سوچ، جدت پسندی اور مؤثر ابلاغ پر استوار ہونی چاہیے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ میں تخلیقی اندازِ فکر، اصل تحقیق اور عملی سیکھنے کے رجحان کو فروغ دیں اور انہیں رٹے پر مبنی نظامِ تعلیم سے نکال کر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔
انہوں نے اپنے بین الاقوامی تدریسی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے براہِ راست تدریسی طریقوں کی افادیت پر روشنی ڈالی اور پاکستانی جامعات کو روانڈا کے تعلیمی اداروں کے ساتھ طلبہ و اساتذہ کے تبادلہ پروگراموں کے ذریعے روابط مستحکم کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے اکیڈمیا، حکومت اور صنعت کے درمیان اختراع، کاروباری سرگرمیوں اور تحقیق کو تجارتی بنیادوں پر فروغ دینے کے لیے پبلک پرائیویٹ اکیڈمک پارٹنرشپ (PPAP) ماڈل کی بھی تجویز پیش کی۔آئی سی سی آئی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے کنوینر اور ایس او ایس فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد اساتذہ کو جدید تدریسی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کلاس رومز میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی کے تعاون سے آئندہ بھی اساتذہ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اس نوعیت کی اہم ورکشاپس کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔
ایجو ٹرانسفارم کی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور آئی سی سی آئی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کی وائس چیئرپرسن ڈاکٹر انیلہ ملک نے جدید تدریسی حکمت عملیوں اور تعلیمی قیادت کے حوالے سے مفید اور عملی رہنمائی فراہم کی۔
سرکاری اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے اس بامقصد ورکشاپ کے انعقاد پر آئی سی سی آئی، ایس او ایس فاؤنڈیشن اور ایجو ٹرانسفارم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور تعلیم کے میدان میں صنعت اور تعلیمی اداروں کے مابین مؤثر تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
تقریب میں آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری، ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری، ذوالقرنین عباسی، عمران منہاس سمیت چیمبر کے ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اساتذہ کو اکیسویں صدی کی مہارتوں سے آراستہ کرنا پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے: صدر آئی سی سی آئی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

