اسلام آباد (سب نیوز)الیکشن کمیشن نے دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق اہم اجلاس میں متعدد فیصلے کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں الیکشن کمیشن کے اراکین، سیکریٹری الیکشن کمیشن اور دیگر سینیئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تیاریوں اور درپیش رکاوٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے مطلوبہ نقشہ جات اور دیگر ضروری ڈیٹا فراہم نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت چیف سیکریٹری اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔کمیشن نے ہدایت کی کہ 15 اضلاع کے مطلوبہ نقشہ جات اور دیگر ڈیٹا یکم جولائی 2026 سے قبل الیکشن کمیشن کو فراہم کیا جائے۔اس معاملے کی سماعت یکم جولائی کو ہوگی، جس کے لیے دونوں افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے۔اجلاس میں اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات اور حلقہ بندیوں سے متعلق پیش رفت کے جائزہ میں الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ ٹاون کارپوریشنز کی حدود اور یونین کونسلوں کی تعداد سے متعلق نوٹیفکیشن وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے بھجوایا جا چکا ہے۔
تاہم تاحال نہ نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں اور نہ ہی متعلقہ نقشہ جات الیکشن کمیشن کو فراہم کیے گئے ہیں۔اس صورتحال پر کمیشن نے معاملہ یکم جولائی کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اپنے دفتر کو ہدایت کی ہے کہ پنجاب میں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہوتے ہی بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے لیے تمام ضروری انتظامات اور تیاریاں بروقت مکمل کی جائیں تاکہ انتخابات کے انعقاد میں مزید تاخیر نہ ہو۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور حکام سے مکمل تعاون کی توقع کی جا رہی ہے۔

