اسلام آباد، (سب نیوز): پاکستان میں پرتگال کے سفیر ہز ایکسی لینسی پاؤلو گوئیڈیز ڈومینگوس نے کہا ہے کہ پرتگال بین الاقوامی چیلنجز کے حل، مکالمے کے فروغ اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کے بڑھتے ہوئے مثبت کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کی شب اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں یومِ پرتگال، کاموئیش اور پرتگالی کمیونٹیز کے حوالے سے منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل چوہدری سالک حسین بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر آبی وسائل میان معین وٹو، گورنر سندھ سید نہال ہاشمی، وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ، وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک اور سابق وفاقی وزیر برائے بحری امور قیصر شیخ سمیت سفیروں، ہائی کمشنرز، سفارتکاروں، کاروباری شخصیات، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی کے ارکان کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اپنے خطاب میں سفیر پرتگال نے کہا کہ پرتگال پاکستان کے اس تعمیری کردار کو سراہتا ہے جو وہ بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل اور مکالمے کے فروغ کے لیے ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر حالیہ سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک پیچیدہ علاقائی صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور امن و مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنیوا میں اس ہفتے متوقع تاریخی معاہدہ، جس کی میزبانی اور ثالثی پاکستان نے کی، اس بات کا ثبوت ہے کہ سفارتکاری اب بھی تنازعات پر غالب آ سکتی ہے اور مکالمہ ہی امن کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔ ان کے مطابق موجودہ غیر یقینی صورتحال میں وہ ممالک جو رابطے اور گفتگو کے دروازے کھلے رکھتے ہیں، عالمی امن و استحکام کے لیے اہم خدمت انجام دیتے ہیں۔
سفیر پاؤلو گوئیڈیز نے کہا کہ ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کارلا اور سفارت خانے کے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان میں پہلی بار یومِ پرتگال منا رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی عوام کی مہمان نوازی، محبت اور خلوص کو سراہتے ہوئے کہا کہ چند ہی ہفتوں میں انہیں ایسا محسوس ہونے لگا جیسے وہ اپنے گھر میں ہوں۔
انہوں نے خوشگوار انداز میں کہا کہ اسلام آباد میں ملنے والی بے مثال محبت کے بعد کبھی کبھی انہیں لگتا ہے کہ شہر کا نام “اسلام آباد” کے بجائے “اسلامابیسٹ” ہونا چاہیے۔
سفیر نے کہا کہ پرتگال آج اپنی تاریخ، ثقافت، زبان اور اقدار کا جشن منا رہا ہے۔ انہوں نے پرتگالی شاعر لوئیس دی کاموئیش کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعلیمات مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور دنیا کے لیے کشادہ نظری کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرتگال اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے 76 سال مکمل ہو چکے ہیں، جو دوستی، احترام اور باہمی اعتماد کی روشن مثال ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے دور ہیں، تاہم ان کے مفادات میں بڑھتی ہوئی ہم آہنگی اور تعلقات میں مسلسل مضبوطی آ رہی ہے۔
سفیر نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان کی سیاسی، کاروباری، تعلیمی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتوں نے ان کے اس یقین کو مزید مضبوط کیا ہے کہ پاکستان اور پرتگال کے تعلقات کے بہترین ادوار ابھی آنے باقی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی رابطے بڑھ رہے ہیں، اقتصادی تعاون میں وسعت آ رہی ہے، تعلیمی تبادلے فروغ پا رہے ہیں اور عوامی سطح پر روابط مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد میں جلد منعقد ہونے والے دوطرفہ سیاسی مشاورتی اجلاس اور رواں سال پرتگال کے سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے خارجہ امور و تعاون کے متوقع دورۂ پاکستان کو انہوں نے اسی عزم کا مظہر قرار دیا۔
سفیر نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم، روزگار اور سرمایہ کاری کے لیے پرتگال کا رخ کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 50 ہزار پاکستانی پرتگال میں مقیم ہیں اور وہ پرتگالی معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے سفیر بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے اسماعیلی برادری کے ساتھ پرتگال کے خصوصی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لزبن میں اسماعیلی امامت کا مرکز قائم ہونا پرتگال کے لیے باعثِ اعزاز ہے، جبکہ مرحوم پرنس کریم آغا خان چہارم کا مکالمے، تعلیم اور انسانی ترقی کے لیے کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
سفیر پاؤلو گوئیڈیز نے کہا کہ پرتگال کو حال ہی میں 2027-2028 کی مدت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن منتخب کیا گیا ہے، جو عالمی امن، مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے پرتگال کے عزم پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پرتگال کی امیدواری کی حمایت پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے دوستی اور اعتماد کا اظہار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پرتگال اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں جب دنیا تنازعات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، سفارتکاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
سفیر نے کہا کہ پرتگال اور پاکستان اس بنیادی یقین میں شریک ہیں کہ مکالمہ ہمیشہ محاذ آرائی سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور امن صرف ایک خواہش نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تقریب کے اختتام پر انہوں نے اپنی اہلیہ کارلا، اسلام آباد میں پرتگال کے سفارت خانے کے عملے، لاہور اور کراچی میں اعزازی قونصلرز اور تقریب کے معاون اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بالخصوص EnSmile، Gerry’s Group، Paynest، Shahzad International، Saif Group، MGA Industries، The City School، Shelozon Logistics اور Nando’s کے تعاون کو سراہا۔
مہمانوں کو پرتگال کے روایتی کھانوں بکالاؤ (نمکین مچھلی)، پیری پیری چکن اور مشہور میٹھے پاستیل دی ناتا سے بھی تواضع کی گئی۔
فٹبال کے عالمی مقابلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ بعض مہمان شاید پرتگال کے سب سے معروف سفیر کرسٹیانو رونالڈو سے ملاقات کی امید لے کر آئے ہوں، تاہم آج کی تقریب میں موجود رونالڈو صرف گتے سے تیار کیا گیا ایک ماڈل ہے، البتہ پاکستان اور پرتگال کی دوستی مکمل طور پر حقیقی اور مضبوط ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر کیا:
“پرتگال اور پاکستان نقشے کے دو مختلف کناروں پر واقع ہو سکتے ہیں، لیکن دوستی کا پیمانہ فاصلے نہیں بلکہ اعتماد، خیرسگالی اور مشترکہ مستقبل کی تعمیر کا عزم ہوتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پرتگال کے تعلقات کے مضبوط ترین ابواب ابھی لکھے جانا باقی ہیں اور دونوں ممالک مل کر انہیں رقم کریں گے۔
“ویوا پرتگال! پاکستان اور پرتگال کی دوستی زندہ باد! پاکستان-پرتگال فرینڈشپ زندہ باد! شکریہ، اوبریگاڈو۔”

