اسلام آباد(سب نیوز)قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث آج بھی ہو رہی ہے، ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کریڈٹ کاردڑ ہولڈرز، فرسٹ کلاس سفر کرنے والوں کو ریلیف دیا گیا، 2050میں 390ملین ابادی ہو جائے گی، یہ سوشو اکنامک ڈیزاسٹر ہے، ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی اور پٹرول کی قیمتیں پورے خطے سے زیادہ ہیں، وزرا کو میڈل دیے جارہے ہیں، کیا 8000 روپے کمانے والا شخص گھر چلا سکتا ہے، خط غربت کی تعریف کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہئے، 8000 روپے والی خط غربت کی تعریف تبدیل ہونی چاہئے، نوجوان کی قیمت 32 روپے لگا دی ہے جبکہ اسلام آباد میں سموسہ چالیس روپے کا ملتا ہے۔
رکن اسمبلی جمال خان کاکڑ نے کہا کہ موجودہ حالات میں بہترین بجٹ ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جو بڑی کامیابی ہے، بجٹ میں بلوچستان کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں، کوئٹہ میں پینے کے پانی کا مسئلہ ہے اسے فوری حل کیا جانا چاہئے۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے کہا کہ بجلی اور گیس کے بلز زیادہ آرہے ہیں، پٹرول 450 روپے لیٹر عوام کو مل رہا ہے، تبدیلی کا ڈرامہ رچایا گیا، پی ٹی آئی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بانی پی ٹی آئی کو قید کر کے حکومت کی تسلی نہیں ہوئی، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا جارہا ہے، بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالج فراہم کیا جائے۔پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی حسین طارق نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں بی بی فریال تالپور کو گرفتار کیا گیا، پی ٹی آئی کے شکوے نہیں بنتے، ہر دفعہ ایف بی آر ٹارگٹ پورے نہیں کرتا، ٹیکس کلیکشن کا ٹارگٹ صوبوں کو دے دیا جائے، لگتا ہے ایف بی آر اب بھی ٹیکس کلیکشن ٹارگٹ پورا نہیں کر سکے گا۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑ سکتے، بجٹ میں صرف اخراجات ہی اخراجات نظر آ رہے ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں، لوگوں کو نوکریاں کیسے دیں گے؟وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ 50 ہزار سے ایک لاکھ تنخواہ پر صرف ایک فیصد ٹیکس ہے، مسلم لیگ ن نے مشکل معاشی حالات میں اقتدار سنبھالا ، پی ٹی آئی دور میں مہنگائی 38 فیصد پر تھی، ج سفارشاتی کلچر ختم کر دیا گیاہے،کوئی سفارش کرتا ہے تو معطل کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی کوششوں سے مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آئی، معاشی استحکام میں فیلڈ مارشل سمیت اداروں کا بھی کردار ہے، ماضی میں دوپہر،شام اور رات میں ڈالرکا ریٹ مختلف ہوتا تھا، مڈل کلاس کیلئے پراپرٹی خریدوفروخت پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔
اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف نے آزاد عدلیہ، قانون کی حکمرانی کی بات کی، آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا کہا گیا، کیا اپ نے وہ خط پڑھا، اس میں کوئی ایسا لفظ ہے جس میں پاکستان کے نقصان کی بات ہو، ہمارے وقت میں اکانومی کیا تھی اج کیا ہے، ٹیکس کلیکشن تب کیا تھی اور اج کیا حالات ہیں، اس پر بحث کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ حکومت کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، ملک میں بے روزگاری ہے، اس الیکشن کمیشن کو ایک دن بھی نہیں رہنا چاہئے، ٹیکس چوری پر موثر اقدام ہونا چاہئے، بانی پی ٹی آئی سے جیل مینول کے مطابق ملاقاتیں بند ہیں، علاج نہیں ہو رہا، عدالتوں کے دروازے بند ہوں گے تو ایک ہی راستہ ہوتا ہے وہ سڑکوں پر ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ 9ماہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل نہیں کیا گیا، یہ اب فسطائیت کی بات کرتے ہیں،ہم نے جیلیں دیکھیں، خواجہ آصف، شہباز شریف، نواز شریف، مریم نواز نے جیل دیکھی، حمزہ شہباز، سعد رفیق، رانا ثنا اللہ نے بھی جیل دیکھی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں اپوزیشن کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا، ان کی فسطائیت اور جمہوریت کا چہرہ پوری قوم نے دیکھا، ہم بجٹ پر تقریر کر رہے ہیں بات حقائق پر ہونی چاہئے، ایک وہ وقت تھا جب یہ آپ کی سیٹ پر بیٹھے ہوتے تھے، ہم ان کے پاس پروڈکشن آرڈر کے لئے جاتے تھے، پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوتے تھے۔اس پر اسد قیصر نے کہا کہ میں نے آپ کا بھی پروڈکشن آرڈر جاری کیا ، خواجہ آصف کا بھی کیا، کسی سے ڈکٹیشن نہیں لی۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ ہم مانتے ہیں ہر دور میں مداخلت ہوتی رہی ہے ، اب وقت آگیا ہم اپنی سپیس واپس لیں اور آگے بڑھیں، ہمارے دور میں کتنے پروڈکشن ارڈر جاری ہوئے اور اس دور میں کتنے پروڈکشن ارڈر جاری ہوئے، اس کی وضاحت ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم کی حالیہ قیمتوں سے ایک غریب ادمی ذہنی مریض بن گیا ہے، 4365 ارب کی لیوی عوام کی جیبوں سے ڈاکا ڈال کر لیا گیا ہے، سیاسی استحکام سے معاشی استحکام اتا ہے پھر سرمایہ کاری آتی ہے، زراعت کو تباہی سے بچانے کے لیے حکومت سولر ٹیوب ویل لائے۔عامر ڈوگر نے جنوبی پنجاب کے منصوبوں کے حوالے سے گلے شکوے کیے جس پر احسن اقبال نے جنوبی پنجاب کے منصوبے گنوا دیئے۔
سموسہ 40روپے کا ، نوجوان کی قیمت 32روپے لگا دی گئی، قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

