اسلام آباد (سب نیوز)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)پاکستان نے آئندہ مالی سال میں کراچی اور حیدرآباد کا ترقیاتی بجٹ کم مختص کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی و حیدرآباد کے لیے اربن ڈیولپمنٹ پیکج 25 ارب روپے کرنے کا مطالبہ کر دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 20 مئی کی میٹنگ میں 25 ارب روپے پر اتفاق کیا تھا، بجٹ میں کراچی کے لیے صرف 10 ارب روپے رکھے گئے جو شہر کے ساتھ ناانصافی ہے جبکہ کراچی ہزاروں ارب روپے کا ریونیو دیتا ہے اور اتنا کم ترقیاتی پیکج ناکافی ہے۔فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کے لیے 10ارب روپے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں۔
ایم کیو ایم نے گورنر سندھ کا عہدہ واپس دینے کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ گورنر شپ ایم کیو ایم کا حق ہے، جس پر حکومت نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 140 اے میں ایم کیو ایم کی مجوزہ ترمیم پر بھی کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی، حکومت کی یقین دہانیاں ناکافی ہیں صرف جوابات پر انحصار نہیں کرسکتے، موجودہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا۔فاروق ستار نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، بجٹ کو عوام دوست بنایا جانا چاہیے تھا، مگر ایسا نظر نہیں آ رہا، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا لیکن ٹیکسوں کا بوجھ بدستور موجود ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے، سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کی شرح کم کی جائے، بالواسطہ ٹیکس کم ہوں تو بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ توانائی کی قیمتیں کم ہونے سے عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا، کاروبار اور سرمایہ کاری کی لاگت کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی سے معیشت اور صنعتوں کو فروغ ملے گا، زیادہ ٹیکس والی معیشت ترقی کی رفتار برقرار نہیں رکھ سکتی۔
ٹیکسوں کا بوجھ بدستور موجود ،بجٹ عوام دوست نہیں، حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کا تحفظات کا اظہار
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

