اسلام آباد(آئی پی ایس ) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)کے صدر سردار طاہر محمود نے وفاقی بجٹ 2026-27 میں اعلان کردہ متعدد کاروبار دوست اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے ساختی اصلاحات، ٹیکس نظام میں بہتری اور ایک واضح معاشی روڈ میپ کی ضرورت ہے۔
چیمبر ہاوس میں منعقدہ ایک پرھجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں آئی سی سی آئی فانڈر گروپ کے چیئرمین طارق صادق، سینئر نائب صدر طاہر ایوب اور نائب صدر عرفان چوہدری بھی موجود تھے، سردار طاہر محمود نے مشکل معاشی حالات میں ملکی معیشت کو استحکام کی جانب گامزن کرنے پر حکومت کو مبارکباد دی اور اسلام آباد چیمبر کی متعدد تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کے حصول پر تحسین کی مستحق ہے، تاہم اب اگلا مرحلہ سرمایہ کاری کے فروغ، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر مرکوز ہونا چاہیے۔سردار طاہر محمود نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ودہولڈنگ ٹیکس میں 50 فیصد تک کمی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور معیشت کے ایک اہم شعبے پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔ انہوں نے بیرونِ ملک اثاثوں پر ایک فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس کے خاتمے کو بھی سراہا اور کہا کہ اس اقدام سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا۔آئی سی سی آئی کے صدر نے 2029 تک ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کے حکومتی عزم کو بھی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد آئی ٹی پروفیشنلز، ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس اور فری لانسرز کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ جس سے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور پاکستان عالمی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بن سکے گا۔
انہوں نے 50 کروڑ روپے تک آمدنی رکھنے والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس کے خاتمے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کارپوریٹ سیکٹر کو ریلیف ملے گا اور کاروباری سرگرمیوں میں وسعت آئے گی۔چھوٹے تاجروں کے لیے مجوزہ آسان ٹیکس اسکیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ مل سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ برآمد کنندگان پر عائد تمام ٹیکس ختم کیے جائیں تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ ہو اور قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکے۔سردار طاہر محمود نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی جانب سے ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور ٹیکس وصولی کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس حکام کے درمیان براہِ راست رابطے میں کمی سے شفافیت بڑھے گی، اختیارات کے ناجائز استعمال کا خاتمہ ہوگا اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا ہوگی۔انہوں نے بجٹ کے مثبت پہلوں کو سراہتے ہوئے بعض اہم شعبوں میں کاروباری برادری کی توقعات پوری نہ ہونے پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے ٹیکس شرح میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی گئی، حالانکہ کاروباری حلقے مسلسل اس مطالبے کو دہرا رہے تھے۔
انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بجٹ میں زرعی شعبے کے لیے کوئی جامع پالیسی فریم ورک پیش نہیں کیا گیا، حالانکہ زراعت روزگار، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ “طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے زرعی شعبے میں ہدفی اصلاحات اور واضح ترقیاتی حکمت عملی ناگزیر ہے۔”آئندہ مالی سال کے لیے مقرر کیے گئے محصولات کے اہداف پر سوال اٹھاتے ہوئے سردار طاہر محمود نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے کئی معاشی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے، اس کے باوجود ریونیو ہدف میں تقریبا 14 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 کھرب روپے سے زائد ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ایک شفاف اور قابلِ عمل حکمت عملی درکار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ “معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب سفر صرف ٹیکسوں میں اضافے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات، ٹیکس نیٹ میں توسیع، سرمایہ کار دوست پالیسیاں اور کاروباری لاگت میں کمی لانے والی مثر اصلاحات ضروری ہیں۔
سردار طاہر محمود نے حکومت پر زور دیا کہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق ٹیکس پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے تاکہ صاف توانائی کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔انہوں نے کاروباری ماحول میں بہتری کے لیے چیمبر کے دیرینہ مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکس نظام کو مرحلہ وار ختم کیا جانا چاہیے کیونکہ اس نے ٹیکس نظام کو پیچیدہ اور کاروباری لاگت کو زیادہ کر دیا ہے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے امید ظاہر کی کہ حکومت آئندہ بھی کاروباری برادری کے ساتھ قریبی مشاورت جاری رکھے گی اور پالیسی سازی کے عمل میں نجی شعبے کی آرا کو شامل کرے گی تاکہ سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، برآمدات، کاروباری مواقع اور روزگار کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ “کاروباری برادری ملکی معیشت کو مزید مضبوط، مسابقتی اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ درست اصلاحات اور پالیسیوں میں تسلسل کے ذریعے پاکستان اپنی بے پناہ معاشی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کر سکتا ہے۔”اس موقع پر آئی سی سی آئی کے سابق صدور زبیر احمد ملک، خالد جاوید، محمد اعجاز عباسی، ظفر بختاوری، زاہد مقبول، میاں اکرم فرید، میاں شوکت مسعود، ایگزیکٹو ممبران کی بڑی تعداد، آئی سی سی آئی کی ایف بی آر اسٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینر میاں رمضان، مختلف مارکیٹوں کے صدور اور چیمبر کے اراکین بڑی تعداد میں موجود تھے۔
معاشی ترقی کے لیے جامع ٹیکس اصلاحات ناگزیر ہیں، سردار طاہر محمود
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

