ہومپاکستانبجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے

بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے

اسلام آباد(آئی پی ایس )پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت میں ملاقات کے بعد وفاق اورصوبوں کے ترقیاتی پروگرام میں کٹوتی پراتفاق ہوگیا ہے جس سے وفاقی بجٹ 2026-27 کی منظوری کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے مجوزہ ترقیاتی پروگرام میں126 ارب روپے کی کٹوتی کردی ہے،بلوچستان کے سوا باقی 3صوبے بھی اپنے ترقیاتی پروگراموںکے اخراجات میں کٹوتی کریں گے جس سے پید اہونے والی 500 ارب روپے کی بچت سے اسٹرٹیجک اہمیت کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال سے رابطہ کیا تو انہوں نے وفاق کی طرف سے ایک ہزار 126 ارب کے ترقیاتی پروگرام میں سے 126ارب کی کٹوتی کی تصدیق کی ۔ذرائع کے مطابق وفاق نے قابل تقسیم محاصل میں صوبوں سے تقریبا 1200ارب روپے اضافی وسائل مانگے تھے جن میں پنجاب سے 650 ارب،سندھ سے 300ارب، خیبرپختونخوا سے 180 ارب اور بلوچستان سے 110ارب روپے مانگے تھے تاہم اب بلوچستان کے ترقیاتی پرو گرام سے کوئی کٹوتی نہیں ہوگی کیونکہ بلوچستان کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 308 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جوپہلے ہی موجودہ مالی سال سے 53 ارب روپے کم ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت قابل تقسیم محاصل میں سے صوبوں کومجموعی طور پر8200ارب روپے دینے کی خواہاں ہے جبکہ موجودہ فارمولے کے تحت صوبوں کا حصہ9400 ارب روپے بنتا ہے ۔

حکومت پنجاب نے وفاق کوبتایا تھا کہ وہ اگلے مالی سال کے دوران ترقیاتی پروگرام پر ایک ہزار 450 ارب روپے خرچ کرنا چاہتی ہے تاہم اب اس میں 150ارب کی کٹوتی کی توقع ہے۔سندھ حکومت نے 816 ارب کے ترقیاتی پروگرام کا تخمینہ لگایا تھا،اب وہ بھی اسے کم کریگی ۔خیبرپختونخوا حکومت 564 ارب روپے ترقیاتی کاموں پرخرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ،وہ بھی اپنے ترقیاتی اخراجات کو فریزکرسکتی ہے۔ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ اگر صوبے اپنے بجٹ میں سے 350 ارب روپے وفاق کو دینے پر تیارہوجاتے ہیں تو وفاق کا ترقیاتی پروگرام ایک ہزار ارب روپے سے بڑھا کر ایک ہزار400 ارب روپے کیا جاسکتا ہے ۔وفاقی حکومت صوبوں سے ملنے والی اضافی رقم میں سے 335 ارب پانی کے منصوبوں جن میں دیامربھاشا ڈیم،مہمندڈیم اورداسو ڈیم شامل ہیں پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔اس میں سے بچ جانے والی رقم دفاعی اہمیت کے منصوبوں پر خرچ کی جائیگی۔آئی ایم ایف دفاع کیلئے 2 ہزار665 ارب کے اخراجات پر راضی ہے لیکن حکومت مغربی سرحدی صورتحال کو دیکھتے ہوئے دفاع کیلئے تین ہزار ارب روپے رکھنا چاہتی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔