تحریر: محمد محسن اقبال
سات دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے فلسطین کے عوام ایک ایسے کرب کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں جسے کسی بھی قوم کے نصیب میں نہیں ہونا چاہیے۔ غزہ کی تنگ و تاریک گلیوں سے لے کر مغربی کنارے کی اُن پہاڑیوں تک، جہاں صدیوں پرانے زیتون کے درخت روزانہ کی بنیاد پر جڑوں سمیت اکھاڑ دیے جاتے ہیں، ایک پوری قوم محرومی، بے وطنی اور ذلت کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ وہاں مائیں اپنے جوان بیٹوں کو شعلوں سے روشن آسمان تلے سپردِ خاک کرتی ہیں، اور باپ ملبے کے ڈھیروں میں گزشتہ زندگی کی کوئی نشانی تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ دنیا نے یہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں؛ یہ تصویریں براعظموں سے ہوتے ہوئے ہر گھر تک پہنچی ہیں، مگر عالمی ردِعمل اکثر رسمی بیانات اور وقتی احتجاج تک محدود رہا۔ ایوانوں میں مذمت کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، مگر جب عملی اقدام کا وقت آتا ہے تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ جن قوتوں کے پاس اس ظلم کو روکنے کی طاقت ہے، وہ یا تو اپنے مفادات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں یا مصلحت کی آسائشوں میں بے حسی کا شکار ہو چکی ہیں۔ انسانی حقوق کے بڑے بڑے دعوے دار بھی اس معاملے میں انصاف کے جذبے سے محروم نظر آتے ہیں۔
ایسے اخلاقی انتشار کے دور میں پاکستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ ایک ثابت قدم رفیق کا کردار ادا کیا ہے۔ قیامِ پاکستان کے ابتدائی لمحوں ہی سے اس سرزمین کے دل کی دھڑکن فلسطینیوں کی آزادی کی آرزو کے ساتھ ہم آہنگ رہی ہے۔ یہ محض سیاسی ہمدردی نہ تھی بلکہ ایک گہرا انسانی رشتہ تھا، جس کی بنیاد مشترکہ ایمان، مشترکہ تاریخ اور ظلم سے فطری نفرت پر استوار تھی۔ 1947ء میں پاکستان کے وجود میں آنے سے قبل ہی برصغیر کے مسلم رہنماؤں نے فلسطین کی تقسیم کی تجویز کے خلاف آواز بلند کی۔ بعد ازاں 1967ء اور 1973ء کی جنگوں میں پاکستانی ہوا باز عرب بھائیوں کے شانہ بشانہ میدان میں اترے اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔ اسی جذبے کی معراج 1974ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس تھی، جہاں پاکستان نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو فلسطینی عوام کی حقیقی نمائندہ تنظیم کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستان کا یہ اصولی مؤقف ہر دور اور ہر آزمائش میں برقرار رہا۔ خواہ جمہوری حکومتیں آئیں یا فوجی انتظامیہ، سب نے ایک ہی مؤقف اپنایا: 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو—وہ مقدس شہر جو ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن میں بستا ہے۔ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور فلسطین کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے۔ اسلام آباد میں قائم فلسطینی سفارت خانہ اس دائمی دوستی کی خاموش مگر مضبوط علامت ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ایوانوں سے لے کر اسلامی تعاون تنظیم کے فورمز تک، پاکستانی سفارت کار مسلسل، واضح اور بے خوف انداز میں فلسطینی مؤقف کی وکالت کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی زمینوں پر غیر قانونی بستیوں کی توسیع، الحاق کی پالیسیوں اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کی دوٹوک مذمت کی ہے۔
تاہم پاکستان کا کردار صرف الفاظ تک محدود نہیں رہا۔ 2023ء کے بعد جب غزہ کا المیہ مزید سنگین ہوا تو پاکستانی عوام نے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیے۔ سولہ سو ٹن سے زائد امدادی سامان—خوراک، جان بچانے والی ادویات، سردی سے بچاؤ کے لیے کمبل، بے گھر خاندانوں کے لیے خیمے اور طبی آلات—فلسطینی بھائیوں تک پہنچائے گئے۔ یہ محض امدادی کھیپیں نہ تھیں بلکہ ایک ایسے قوم کے جذبات تھے جو خود بھی دکھ اور آزمائش کا مفہوم جانتی ہے۔ پاکستانی اسپتالوں نے زخمی فلسطینیوں کے علاج کی پیشکش کی، جبکہ جامعات نے اُن نوجوان طلبہ کے لیے اپنے دروازے کھول دیے جن کے تعلیمی ادارے جنگ کی نذر ہو چکے تھے۔ انہیں وظائف دیے گئے تاکہ وہ علم حاصل کر کے ایک دن اپنے تباہ حال وطن کی تعمیرِ نو میں کردار ادا کر سکیں۔ ان تمام اقدامات میں ایک سادہ مگر عظیم انسانی جذبہ جھلکتا ہے: جب تمہارا بھائی زخمی ہو تو تم منہ موڑ کر نہیں چل سکتے۔
فلسطین کا مسئلہ اب محض زمین یا سیاست کا تنازع نہیں رہا بلکہ یہ دنیا کے ضمیر کے سامنے رکھا گیا ایک آئینہ بن چکا ہے، جو انصاف کے دوہرے معیار اور بین الاقوامی قانون کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔ ہر نئی خونریزی کے ساتھ وہی دردناک مناظر لوٹ آتے ہیں: خوفزدہ بچوں کی آنکھیں، بکھرتے خاندان اور روندی جاتی انسانی عظمت۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ فلسطینی عوام کے بنیادی زخم مندمل کیے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمند? تعبیر نہیں ہو سکتا۔ حالیہ مہینوں میں جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی نے خطے کو خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا، پاکستان نے اشتعال انگیزی کے بجائے تحمل، مذاکرات، جنگ بندی اور انسانی امداد کی راہداریوں کی حمایت کی۔ اس متوازن اور مدبرانہ آواز نے عالمِ اسلام میں پاکستان کے لیے ایک خاموش احترام پیدا کیا، جہاں اکثر ریاستیں اپنے مفادات اور داخلی تقسیم کے باعث واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔
ایک ایسے دور میں جب بہت سی اقوام اپنے اصول معاشی مفادات یا دفاعی معاہدوں کے مطابق تبدیل کر لیتی ہیں، پاکستان کا اخلاقی مؤقف غیر معمولی استقامت کے ساتھ نمایاں نظر آتا ہے۔ اس کی بنیاد نہ عسکری قوت پر ہے اور نہ ہی بے پناہ دولت پر، بلکہ اس یقین پر ہے کہ انصاف کوئی قابلِ سودا شے نہیں۔ فلسطینی جدوجہد دراصل انسانی استقامت کی داستان ہے—وہ عزم جو ظلم کو اپنی شناخت بننے سے انکار کرتا ہے۔ یہ اُس بوڑھے کسان کی کہانی ہے جو کانپتے ہاتھوں سے اپنے بچے کھچے زیتون کے درختوں کی دیکھ بھال کرتا ہے؛ اُس نوجوان طالب علم کی داستان ہے جو پناہ گزین کیمپ میں موم بتی کی روشنی میں تعلیم حاصل کرتا ہے؛ اور اُس ماں کی صدا ہے جو دھماکوں کی آوازوں میں بھی اپنے بچے کو لوریاں دیتی ہے۔ پاکستان کی حمایت دراصل اسی استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ کسی قوم سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ جھوٹے استحکام کے بدلے اپنی غلامی کو معمول سمجھ لے۔
قوموں کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب خاموشی خود ایک جرم بن جاتی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ یہ دنیا کو آزماتا ہے کہ آیا وہ اب بھی مساوی حقوق، خودمختاری کے تقدس اور عزت کے ساتھ جینے کے بنیادی انسانی حق پر یقین رکھتی ہے یا نہیں۔ پاکستان کی مسلسل سفارتی، انسانی اور اخلاقی حمایت اس امر کی یاد دہانی ہے کہ حقیقی امن صرف انصاف کی بنیاد پر قائم ہو سکتا ہے۔ اگر انصاف نہ ہو تو ہر معاہدہ محض اگلے طوفان سے پہلے کا ایک وقفہ ثابت ہوتا ہے۔ جیسے جیسے دنیا مزید تقسیم اور طاقت کے تابع ہوتی جا رہی ہے، ویسے ویسے اصولوں پر قائم آوازوں کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔
پاکستان یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اس کے پاس تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ وہ جانتا ہے، جیسا کہ ہر باشعور مبصر جانتا ہے، کہ صرف سفارت کاری کئی دہائیوں کے زخم یک دم مندمل نہیں کر سکتی۔ مگر اپنے اصولوں سے دستبردار نہ ہو کر پاکستان ایک بہتر راستے کی امید کو زندہ رکھے ہوئے ہے—ایسا راستہ جہاں تشدد کی جگہ مکالمہ لے، حقوق کا احترام ہو، اور فلسطین کے بچے ایک دن آزادی کے ساتھ اُس سرزمین پر چل سکیں جسے وہ واقعی اپنا وطن کہہ سکیں۔ سات دہائیوں پر محیط اس رفاقت میں پاکستان نے محض خارجہ پالیسی نہیں اپنائی بلکہ اُس عالمگیر انسانی آرزو کی پاسداری کی ہے جو ہر دل میں آزادی کے نام سے دھڑکتی ہے۔ اور یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصولی استقامت، خواہ کتنی ہی خاموش کیوں نہ ہو، اپنے اثر اور وقار کو کبھی نہیں کھوتی، خصوصاً ایسے زمانے میں جب دنیا اکثر ضمیر کے بجائے مصلحت کو ترجیح دیتی ہے۔
