Wednesday, May 20, 2026
ہومپاکستانپاکستان،آئی ایم ایف بجٹ مذاکرات،پیٹرولیم لیوی 100روپے فی لیٹر تک جانے کا امکان

پاکستان،آئی ایم ایف بجٹ مذاکرات،پیٹرولیم لیوی 100روپے فی لیٹر تک جانے کا امکان

اسلام آباد (سب نیوز)بجٹ مذاکرات کے سلسلے میں موجودہ آئی ایم ایف مشن نے پاکستان میں اپنے قیام کو مزید دو روز کے لیے بڑھا دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہوچکا ہے، تاہم چند اہم معاملات پر مزید بات چیت جاری ہے جس کے باعث مذاکرات کو حتمی شکل دینے میں تاخیر ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فیصد اضافے کی سفارش کی ہے، جس کے تحت لیوی 100 روپے فی لیٹر تک جا سکتی ہے۔ مجموعی طور پر پٹرولیم لیوی کا ہدف 1730 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اسی طرح صوبوں کو اضافی 430 ارب روپے ریونیو جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے اور وفاق کو تقریبا 2 ٹریلین روپے سرپلس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایف بی آر کے لیے آئندہ مالی سال کا ٹیکس وصولی ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ دسمبر 2026 تک ششماہی ہدف 7022 ارب روپے ہوگا۔ ٹیکس آڈٹ کے ذریعے 95 ارب روپے اضافی آمدن حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جبکہ چینی، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد کے شعبوں سے مزید 50 ارب روپے ریکوری کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔دفاعی بجٹ میں بھی اضافہ متوقع ہے جو 2564 ارب روپے سے بڑھ کر 2665 ارب روپے تک جا سکتا ہے۔وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 986 ارب روپے اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کے لیے 2 اعشاریہ5ٹریلین روپے تک مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ سود کی ادائیگیاں آئندہ مالی سال میں 7اعشاریہ8ٹریلین روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے جبکہ بیرونی مالی ضروریات 21اعشاریہ2 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات کی تجویز دی ہے۔آئندہ مالی سال میں معاشی شرح نمو 3اعشاریہ5فیصد اور اوسط مہنگائی 8اعشاریہ4فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ بی آئی ایس پی کی رقم 14 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 18000روپے کرنے پر عارضی اتفاق ہوا ہے جبکہ صوبائی آمدن 1950 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف نے بجٹ تجاویز میں یہ شرط بھی برقرار رکھی ہے کہ گیس اور بجلی کے نرخوں میں سال میں دو مرتبہ اضافہ کیا جائے۔ اسپیشل اکنامک زونز کے لیے نئی ٹیکس چھوٹ نہ دینے کی سفارش کی گئی ہے اور خصوصی اقتصادی و ٹیکنالوجی زونز کی مراعات کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔دوسری طرف وفاقی حکومت نے 2026سے 2031تک کی نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کا مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کر دیا، پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کو ترجیح دی گئی ہے۔حکومت نے آٹو سیکٹر پر ٹیرف کی شرح 2030 تک کم کرکے 6 فیصد تک لانے کی تجویز بھی دی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت مقامی صنعت، برآمدات اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت آٹو سیکٹر کو ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مبنی صنعت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، نئی آٹو پالیسی میں پرانی پالیسیوں کی خامیاں دور کرنے اور نئے قوانین متعارف کروانے کی تیاری بھی کی گئی ہے۔سال 2022 سے 2024 کے دوران معاشی بحران، مہنگائی اور درآمدی پابندیوں کے باعث آٹو صنعت شدید متاثر رہی اور گاڑیوں کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔