وہ تاریخ جہاں وقت تھم جاتا ہے
تحریر: مارکیان چوچک
یوکرین کے غیر معمولی و مکمل اختیاراتی سفیر
اٹھارہ مئی وہ تاریخ ہے جب ہر کریمیا تاتار گھر میں وقت غمگین خاموشی کے ساتھ رک جاتا ہے۔ 18 مئی 1944 کی صبح، جب کریمیا تاتار مرد محاذوں پر نازی ازم کے خلاف لڑ رہے تھے، سوویت این کے وی ڈی کے 32 ہزار اہلکاروں نے ان کے گھروں پر دھاوا بول دیا۔ خاندانوں کو سامان سمیٹنے کے لیے صرف 15 سے 20 منٹ دیے گئے، انہیں رائفلوں کے بٹوں سے مارا گیا اور پانی تک سے محروم رکھا گیا۔
صرف تین دنوں میں سوویت آمرانہ حکومت نے کریمیا کے جزیرہ نما سے 193,865 افراد کو جبراً بے دخل کر دیا۔ ان میں سے تقریباً نصف یعنی 92,208 بچے تھے۔ لوگوں کو بندوق کی نوک پر 120 سے 150 افراد کی تعداد میں گھٹن زدہ مال بردار ڈبوں میں ٹھونس دیا گیا۔ ازبکستان تک 4,750 کلومیٹر کے اذیت ناک سفر میں بہت سے لوگ زندہ نہ رہ سکے؛ محافظ ان کی لاشیں پٹریوں پر پھینک دیتے تھے۔ کریمیا تاتار قومی تحریک کے مطابق، جلاوطن آبادی کا 46.2 فیصد — یعنی تقریباً ہر دوسرا فرد — جلاوطنی کے ابتدائی برسوں میں ہلاک ہو گیا۔
آج 18 مئی کو یوکرین میں کریمیا تاتار نسل کشی کے متاثرین کی یاد کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
یہ صرف سوگ کا دن نہیں بلکہ انسانیت کے بدترین جرائم میں سے ایک کے اعتراف کا دن ہے۔
سامراجی حکمتِ عملی کی جڑیں
یہ نسل کشی کوئی حادثہ نہیں تھی بلکہ 1783 سے جاری ایک سامراجی حکمتِ عملی کا ظالمانہ انجام تھی۔ کریمیا تاتار، کریمیا کے مقامی ترک النسل باشندے ہیں جو سنی اسلام کے پیروکار ہیں، اور ان کی صدیوں پر محیط موجودگی جزیرہ نما میں پہلے روسی آبادکاروں کی آمد سے کئی سو سال پہلے کی ہے۔
روسی سلطنت اور اس کے جانشینوں — سوویت یونین اور روسی فیڈریشن — نے منظم انداز میں اس مقامی آبادی کو تاریخ سے مٹانے کی کوشش کی تاکہ کریمیا کی “اصل روسی شناخت” کے جھوٹے تصور کو برقرار رکھا جا سکے۔ کریمیا تاتاروں کی زندہ یادداشت، ان کی قدیم ثقافت اور ان کا وجود ہی نوآبادیاتی منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ اسی لیے انہیں جڑ سے اکھاڑنے اور تباہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ثقافت اور روح کی تباہی
1944 کی نسل کشی کا مقصد صرف ایک قوم کو نہیں بلکہ اس کی روح کو تباہ کرنا تھا۔ جسمانی بے دخلی کے بعد سوویت حکومت نے کریمیا تاتار زندگی کی بنیادوں کو منظم انداز میں تباہ کیا، جن میں شامل تھے:
- 861 اسکول اور تمام قومی جامعات؛
- 1,100 سے زائد کتب خانے اور 2,400 قبرستان؛
- 1,600 قہوہ خانے — جو ان کی سماجی اور ثقافتی زندگی کا تاریخی مرکز تھے۔
قدیم زنجرلی مدرسہ کو نفسیاتی اسپتال میں تبدیل کر دیا گیا، جبکہ 11 ضلعی مراکز اور 327 دیہاتوں کے تاریخی نام مٹا دیے گئے۔ بچ جانے والوں کو “خصوصی بستیوں” میں قید کر دیا گیا — جو درحقیقت محفوظ قید خانے تھے، جہاں حدود عبور کرنے پر 20 سال مشقت کی سزا دی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ خروشیف کے دور کی نام نہاد “نرمی” بھی حقیقی ریلیف نہ لا سکی۔ 1956 کے ایک فرمان نے سخت نگرانی تو ختم کی، مگر کریمیا تاتاروں کو وطن واپسی یا اپنی ضبط شدہ جائیداد واپس لینے سے واضح طور پر منع کر دیا۔ حکومت نے کاغذوں میں “ناانصافی” کا اعتراف کیا، مگر ایک پوری قوم کو جلاوطنی میں ہی چھوڑ دیا۔
ناقابلِ شکست عزم اور واپسی
اس سب کے باوجود کریمیا تاتار قوم ٹوٹی نہیں۔ 1961 میں مزاحمت کی ایک نئی اور شدید لہر اٹھی۔ اگرچہ پمفلٹ تقسیم کرنے پر بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں اور “غنڈہ گردی” کے نام پر جعلی مقدمات چلائے گئے، مگر 1960 کی دہائی میں عوام کے حوصلے مزید مضبوط ہوتے گئے۔ موسیٰ ماموت، جنہوں نے 1978 میں بطور آخری احتجاج خود سوزی کر لی، اس بے مثال جدوجہد کی علامت بن گئے۔
1989 میں بالآخر اجتماعی واپسی کا آغاز ہوا۔ خاندان غاروں اور خیموں میں رہتے تھے، مگر وہ اپنی سرزمین پر واپس آ چکے تھے۔ حکام کی مخالفت کے باوجود انہوں نے 300 نئی بستیاں اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیں۔ جون 1991 میں سمفروپول میں دوسرے قورولتائی نے مجلس کو بحال کیا۔ زندگی نے وقتی طور پر موت پر فتح حاصل کر لی تھی۔
تاریخ کا اعادہ: جدید جبر
آٹھ دہائیوں بعد یہ ڈراؤنا خواب دوبارہ لوٹ آیا۔ 2014 میں جزیرہ نما کے غیر قانونی الحاق کے بعد روسی سکیورٹی فورسز نے، اپنے این کے وی ڈی پیش روؤں کے طریقے اپناتے ہوئے، کریمیا کو مکمل نگرانی اور جبر کی سرزمین بنا دیا۔ کریمیا تاتار گھروں پر چھاپے اب ایک معمول بن چکے ہیں، اور اکثر صبح 4 یا 5 بجے شروع ہوتے ہیں — بالکل انہی اوقات میں جب 1944 میں دروازوں پر رائفلوں کے بٹ مارے جاتے تھے۔ ان چھاپوں کا اصل مقصد ہتھیار ڈھونڈنا نہیں بلکہ کریمیا تاتار برادری کو عوامی طور پر ذلیل اور خوفزدہ کرنا ہے، تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے: “تم پر نظر رکھی جا رہی ہے۔”
2016 میں روسی قابض حکام نے کریمیا تاتار عوام کی مجلس کو “انتہا پسند تنظیم” قرار دے دیا۔ یہ ایک بے مثال اقدام تھا جس نے ایک مقامی قوم کی بنیادی نمائندہ تنظیم کو غیر قانونی قرار دے کر عملاً کریمیا تاتار شناخت کو ہی جرم بنا دیا۔ من گھڑت دہشت گردی کے مقدمات کارکنوں کو خاموش کرانے کا بنیادی ہتھیار بن چکے ہیں۔ اجتماعی طور پر صدیوں پر محیط قید کی سزائیں اس قوم کو صرف اپنی سرزمین سے وفاداری کی قیمت کے طور پر دی جا رہی ہیں۔
ماضی کے مظالم سے سبق لیتے ہوئے روس اب “نرم جلاوطنی” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق 500,000 سے 10 لاکھ تک روسی شہریوں کو غیر قانونی طور پر مقبوضہ کریمیا میں بسایا گیا ہے، جنہیں رعایتی قرضوں اور سبسڈیوں کا لالچ دیا گیا۔ دوسری طرف مقامی آبادی کو مسلسل ظلم، معاشی دباؤ اور روسی فوج میں جبری بھرتی کے ذریعے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ آج انہیں مال بردار ڈبوں میں نہیں بھرا جاتا، مگر ان کی اپنی سرزمین پر زندگی ناقابلِ برداشت بنا دی گئی ہے۔
مشترکہ سانحہ اور یکجہتی
آج تقریباً 250,000 سے 300,000 کریمیا تاتار یوکرین میں آباد ہیں اور یوکرینی قوم کا لازمی حصہ ہیں۔ یوکرینی عوام، جنہوں نے 1932–1933 میں سوویت ساختہ ہولوڈومور نسل کشی کا سامنا کیا، کریمیا تاتاروں کے درد کو گہرائی سے محسوس کرتے اور بانٹتے ہیں۔ یہی مشترکہ سانحہ ان دونوں قوموں کے درمیان ایک ناقابلِ شکست رشتہ قائم کرتا ہے۔
جدید یوکرین میں کریمیا تاتار عوام عوامی، ثقافتی اور سیاسی زندگی میں نمایاں نمائندگی رکھتے ہیں۔ مسلم برادری ریاست کے دفاع اور پائیدار امن کی جدوجہد میں ایک مضبوط، معزز اور قابلِ قدر آواز رکھتی ہے، جو یوکرین کے اتحاد اور اس کے جامع معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔
مستقبل کی جانب نظر
12 نومبر 2015 کو یوکرین نے باضابطہ طور پر 1944 کی جلاوطنی کو نسل کشی قرار دیا — بعد ازاں بالٹک ریاستوں، کینیڈا، پولینڈ اور جمہوریہ چیک نے بھی یہی مؤقف اپنایا۔ یوکرین فعال طور پر کوشش کر رہا ہے کہ اس نسل کشی کو مکمل بین الاقوامی تسلیم حاصل ہو، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ مظلوم قوموں کی یکجہتی ہی مستقبل کے ظالموں کے خلاف سب سے مضبوط رکاوٹ ہے۔
تاہم قانونی اعتراف صرف پہلا قدم ہے۔ جب تک روسی ریاست کے تاریخی اور جاری جرائم کا مناسب قانونی احتساب نہیں ہوتا، کریمیا تاتار قوم کی بقا کو وجودی خطرات لاحق رہیں گے۔ مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے، حقیقی انصاف کا صرف ایک راستہ ہے: کریمیا کا مکمل غیر فوجی و غیر قبضہ شدہ ہونا اور یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل بحالی۔ صرف اسی صورت میں اس کے مقامی باشندوں کے حقوق کی ضمانت دی جا سکے گی، اور صرف تب ہی تمغا دوبارہ آزاد یوکرینی کریمیا پر آزادی کی علامت کے طور پر لہرا سکے گا۔
