Thursday, May 14, 2026
ہومپاکستاناعلی تعلیمی کمیشن نے پورے ملک میں ایم فل/پی ایچ ڈی کی داخلہ پالیسی تبدیل کردی

اعلی تعلیمی کمیشن نے پورے ملک میں ایم فل/پی ایچ ڈی کی داخلہ پالیسی تبدیل کردی

اسلام آباد (آئی پی ایس )اعلی تعلیمی کمیشن اسلام آباد نے ملک بھر میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی داخلہ پالیسی تبدیل کر دی ہے۔نوٹیفیکیشن کے مطابق نئی پالیسی کے تحت تمام سرکاری و نجی جامعات کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلہ ٹیسٹ لینے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ اب کوئی بھی یونیورسٹی ایم فل اور پی ایچ ڈی داخلوں کے لیے خود ٹیسٹ لینے کی اہل نہیں ہوگی۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کا داخلہ ٹیسٹ اب ایچ ای سی خود لے گی۔نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ پالیسی کا اطلاق فال 2026 سے ہوگا۔ گریجویٹ پروگرامز، لیول 7 ایم فل اور لیول 8 پی ایچ ڈی میں داخلوں کے لیے HEC-ETC کے ذریعے GRE/HAT جنرل اور متعلقہ سبجیکٹ ٹیسٹ لازمی قرار دے دیے گئے ہیں۔

اعلی تعلیم میں معیار، شفافیت، یکسانیت اور میرٹ پر مبنی داخلوں کو یقینی بنانے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے لیول 7 اور لیول 8 پروگرامز کے موجودہ داخلہ طریقہ کار کا جائزہ لیا، جس کے بعد قومی سطح پر ایک یکساں اور قابلِ اعتماد امتحانی نظام کی ضرورت محسوس کی گئی۔مجاز اتھارٹی کے مطابق فال 2026 کے داخلوں سے تمام سرکاری و نجی اعلی تعلیمی اداروں میں لیول 7 (MS/MPhil یا مساوی) اور لیول 8 (PhD یا مساوی) پروگرامز میں داخلے صرف ایچ ای سی کے منظور شدہ ادارے ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ETC) کے ذریعے منعقدہ GRE/HAT جنرل اور متعلقہ سبجیکٹ ٹیسٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔نوٹیفیکیشن میں تمام جامعات اور اعلی تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ جامعات GRE/HAT جنرل کے متبادل کے طور پر داخلہ اہلیت کے لیے اپنے علیحدہ داخلہ ٹیسٹ منعقد نہیں کریں گی۔

پالیسی کے تحت گریجویٹ ایجوکیشن پالیسی 2023 کی بعض شقیں فوری طور پر واپس لے لی گئی ہیں۔ مساوی ایم فل پروگرامز میں داخلے کے لیے 50 فیصد پاسنگ اسکور کے ساتھ سخت داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ جامعات کی جانب سے پی ایچ ڈی کے لیے GRE/HAT جنرل کے مساوی ٹیسٹ میں 60 فیصد پاسنگ اسکور کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔یہ نوٹیفیکیشن مجاز اتھارٹی کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے، جبکہ پالیسی میں تبدیلی کی تصدیق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد نے بھی کی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔