اسلام آباد (سب نیوز)چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت سنگین مالی و معاشی بحران کا سامنا ہے اور عوام مہنگائی کے دبا سے شدید متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ پیپلزپارٹی نے بجٹ اور معاشی امور پر حکومت سے مذاکرات کے لیے چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
اسلام آباد میں پارٹی کے پارلیمانی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ این ایف سی کی ٹیکنیکل کمیٹی سے متعلق بات چیت ہوئی ہے تاہم آئینی ترمیم کے حوالے سے پیپلزپارٹی سے کوئی باضابطہ مشاورت نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق بات انہوں نے خود کی ہے اور اس پر سنجیدہ غور و خوض کی ضرورت ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک کو اس وقت مالی اور معاشی بحران کا سامنا ہے اور عوام مہنگائی کے بم برداشت کر رہے ہیں، جس کے باعث عام شہری شدید مشکلات میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے صوبوں سے مہنگائی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کی درخواست کی ہے، جبکہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیٹرول پر ریلیف دیا جا رہا ہے تاکہ عام آدمی کو کچھ سہولت مل سکے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کو مل کر عوام کو ریلیف دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ معاشی دبا میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پیپلزپارٹی نے بجٹ سے متعلق حکومت سے مذاکرات کے لیے چار رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے، جس میں راجہ پرویز اشرف، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان اور نوید قمر شامل ہیں۔ یہ ٹیم آئندہ بجٹ کے حوالے سے حکومتی سطح پر بات چیت کرے گی۔اسلام آباد میں پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جنگی اور علاقائی بحران جیسے معاملات قومی ایشوز ہوتے ہیں، جن پر پوری قوم یکجہتی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں پاکستان کے عوام اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہوتے ہیں اور محب وطنی کے جذبے کے تحت متحد رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پاکستان خاص طور پر ایران میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت کی ہے جبکہ جی سی سی ممالک میں بھی حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں گامزن ہے اور اسے ہمیشہ قومی مفاد کو سامنے رکھ کر تشکیل دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات انتہائی اچھے ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں ممالک کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہوں گے اور امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کا موقف متوازن اور ذمہ دارانہ ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور آنے والا بجٹ بھی چیلنجز سے بھرپور ہوگا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے لیے موثر فیصلے کیے جائیں کیونکہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے دباو کا سامنا کر رہے ہیں۔
