اسلام آباد(آئی پی ایس )سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آپ کی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا، کہیں ایسا نہ ہو کہ پشتون علاقوں میں بھی علیحدگی کا نعرہ نہ لگ جائے۔یہ بات انہوں ںے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس، سابق سینیٹر مشتاق احمد، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر اور دیگر قائدین موجود تھے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک اس وقت خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر سات پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، جنہوں نے جمہوریت کو روندا وہ مجرم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کی طرح ساری جماعتیں بیٹھیں، نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر آپ آگے نہیں آئیں گے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں سے زیادہ قیدی پاکستان کی جیلوں میں ہیں، آپ کی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا، کہیں آپ کی پالیسیوں سے پشتون علاقوں میں بھی علیحدگی کا نعرہ نہ لگ جائے۔ان کا کہنا تھا کہ چھبیسویں ترمیم اور ستائیسویں ترمیم کو ووٹ دینے والوں نے ظلم کیا آئین پاکستان ہی پاکستان کو جوڑے ہوئے ہے، آئین نہ رہا تو خدانخواستہ پاکستان کو خطرہ لاحق ہو جائے گا، اپوزیشن کو حکومت پھر پارلیمنٹ کو بھاڑ میں جانے کا کہنے پر مجبور کررہی ہے بتایا جائے دہشت گردی کی وجوہات کیا ہیں؟ وجوہات دور کریں پھر جو دہشت گردی کرے کچل دو۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ سینیٹر مشتاق احمد نے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کی، مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرنے پر ان پر رشک آتا ہے، ہم سینیٹر مشتاق احمد کو خوش آمدید کہتے ہیں، پاکستان اس وقت مقبوضہ پاکستان ہے، اس وقت پاکستان آزاد پاکستان نہیں ہے، عدلیہ، الیکشن کمیشن، پارلیمان آزاد نہیں ہیں، ہماری پارلیمنٹ اول جماعت کے بچوں کی طرح ہے، اس وقت پارلیمان میں عزت و غیرت ختم ہوگئی ہے، پارلیمان قبرستان بن گیا ہے وہاں جاکر فاتحہ پڑھنی چاہیے۔
