Tuesday, May 12, 2026
ہومکالم وبلاگزپاکستان سے دنیا تک: دعوتِ اسلامی کے شعبہ فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن کی انسانیت دوست خدمات

پاکستان سے دنیا تک: دعوتِ اسلامی کے شعبہ فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن کی انسانیت دوست خدمات

(خدمتِ انسانیت—ایک مشن، ایک جذبہ
ایف جی آر ایف، امید، ہمدردی اور عملی خدمت کی روشن مثال)

مولانا محمد ابو بکر مدنی

دنیا اس وقت مختلف بحرانوں،قدرتی آفات اور آزمائشوں کا شکار ہے۔ ایسے میں وہ ادارے جو بلا امتیاز رنگ و نسل کے خدمت کو اپنا مقصد بناتے ہیں، معاشرے کے لیے امید کی کرن ثابت ہوتے ہیں۔ دعوت اسلامی کا فلاحی شعبہ فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن بھی انہی اداروں میں شامل ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروفِ عمل ہے۔
حالیہ دنوں میں غزہ کی صورتحال نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اور ایسے نازک وقت میں فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن نے جس جذبے اور تیزی کے ساتھ امدادی سرگرمیاں انجام دی ہیں، وہ قابلِ ذکر ہیں۔

غزہ میں جاری بحران نے لاکھوں افراد کو بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا ہے۔ خوراک، پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید کمی نے انسانی زندگی کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں ایف جی آر ایف نے فوری ردعمل دیتے ہوئے امدادی کاموں کا آغاز کیا۔

غزہ میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے اعداد و شمار دیتے ہوئے سید فضیل رضا عطاری جوکہ ایف جی آر ایف یوکے و یورپ کے زمہ دار ہیں انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ عزوجل
فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن کی جانب سے اب تک 90 لاکھ لیٹر سے زائد پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا چکا ہے، جو کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سب سے اہم ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 لاکھ سے زائد افراد کو گرم کھانے فراہم کیے گئے، جس سے بھوک اور غذائی قلت کے شکار افراد کو سہارا ملا۔

مزید برآں، 1 لاکھ 5 ہزار سے زائد خاندانوں میں راشن پیک تقسیم کیے گئے جبکہ 1 لاکھ 25 ہزار کلوگرام سے زائد آٹا بھی مستحقین تک پہنچایا گیا۔ یہ اعداد و شمار صرف امداد نہیں بلکہ ایک منظم اور مربوط کوشش کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے پیچھے ایک مضبوط نیٹ ورک اور مخلص ٹیم کام کر رہی ہے۔

غزہ میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے رہائش کا مسئلہ بھی سنگین ہے۔ ایف جی آر ایف نے 750 سے زائد خاندانوں کو خیمہ رہائش فراہم کر کے ان کے لیے وقتی سکون کا بندوبست کیا۔ بچوں کے لیے دودھ اور ڈائپرز جیسی بنیادی ضروریات بھی فراہم کی گئیں، جس سے 9 ہزار سے زائد بچوں کو فائدہ پہنچا۔ اس کے علاوہ بچوں کی دلجوئی کے لیے 75 ہزار سے زائد تازہ کیک اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد بریڈ لوف تقسیم کیے گئے، جو ایک حساس اور انسانی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔

سرد موسم میں متاثرین کو سردی سے بچانے کے لیے 2000 سے زائد کمبل، 1500 سے زائد گدے اور 23 ہزار سے زائد افراد میں گرم کپڑے تقسیم کیے گئے۔ حفظانِ صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے 5000 سے زائد ہائیجین کٹس بھی فراہم کی گئیں تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

ایف جی آر ایف نے مالی معاونت کے ذریعے بھی متاثرہ خاندانوں کی مدد کی ہے۔ 16 ہزار سے زائد خاندانوں کو نقد امداد دی گئی، جس سے وہ اپنی ضروریات کے مطابق اخراجات پورے کر سکیں۔ اسی طرح 1200 سے زائد خواتین میں حجاب تقسیم کیے گئے، جو نہ صرف ایک ضرورت بلکہ ایک دینی و ثقافتی تقاضا بھی ہے۔

طبی میدان میں بھی ادارے کی خدمات نمایاں ہیں۔ 5000 سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ ملبہ ہٹانے کے لیے 1 لاکھ مربع میٹر سے زائد علاقے میں کام مکمل کیا گیا، جس سے بحالی کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملی۔
غزہ کے اندر تو ایف جی آر ایف کی امدادی سرگرمیاں جاری ہی ہیں غزہ سے ہجرت کرکے دوسرے ممالک جانے والے مہاجرین کو بھی دعوت اسلامی نہیں بھولی بلکہ
مصر میں مقیم غزہ کے مہاجرین کے لیے طبی معائنے جاری ہیں اور انکے لیے ہیلتھ کیئر سنٹر قائم کیا گیا ہے اور 1 لاکھ ڈالر کی نقد امداد تقسیم کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارہ سرحدوں سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد سمجھتا ہے۔

مزید برآں، ایف جی آر ایف دعوت اسلامی کی جانب سے عبادت کے لیے 2 مصلیٰ/شیلٹرز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، جہاں رمضان المبارک اور اس کے بعد بھی نماز کی ادائیگی ممکن بنائی گئی ہے۔ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے 100 سے زائد بچوں کی حفظِ قرآن کی کفالت بھی کی جا رہی ہے، جو ایک اہم روحانی خدمت ہے۔

ایف جی آر ایف کی کامیابی کا راز اس کی منظم حکمتِ عملی، شفافیت اور رضاکاروں کی محنت میں پوشیدہ ہے۔ دنیا بھر میں موجود اس کے رضاکار نہ صرف مالی بلکہ جسمانی طور پر بھی امدادی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ یہی جذبہ اسے دیگر اداروں سے ممتاز بناتا ہے۔

تاہم ایف جی آر ایف کی خدمات صرف غزہ تک محدود نہیں۔ یہ ادارہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہنگامی اور مستقل بنیادوں پر فلاحی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔ پاکستان میں بھی سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران ایف جی آر ایف نے بڑے پیمانے پر امدادی کام کیے، جن میں خوراک، پانی، طبی امداد اور عارضی رہائش کی فراہمی شامل تھی۔
اسی طرح ترکیہ میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد بھی ایف جی آر ایف نے فوری امدادی کارروائیاں کیں۔ ملبہ ہٹانے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور بے گھر افراد کے لیے شیلٹرز قائم کرنے جیسے اقدامات ادارے کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
روہنگیا مہاجرین کے لیے بھی ایف جی آر ایف نے خوراک، پانی اور طبی سہولیات فراہم کیں۔ اس کے علاوہ افریقی ممالک میں صاف پانی کے منصوبے، تعلیمی پروگرامز اور یتیم بچوں کی کفالت جیسے منصوبے بھی جاری ہیں۔
ایف جی آر ایف کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا طویل المدتی وژن ہے۔ ادارہ صرف ہنگامی امداد تک محدود نہیں بلکہ متاثرین کی بحالی اور خود کفالت پر بھی توجہ دیتا ہے۔ صاف پانی کے کنویں، روزگار کے مواقع، تعلیمی اداروں کا قیام اور صحت کے مراکز جیسے منصوبے اسی وژن کا حصہ ہیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایف جی آر ایف موجودہ دور میں انسانیت کی خدمت کا ایک روشن استعارہ بن چکا ہے۔ غزہ ہو یا دنیا کا کوئی اور خطہ، جہاں کہیں بھی انسانیت کو مدد کی ضرورت ہو، ایف جی آر ایف اپنی خدمات کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ ایسے ادارے نہ صرف مصیبت زدہ افراد کے لیے امید کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مثبت مثال بھی قائم کرتے ہیں۔

یہی وہ جذبہ ہے جو دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم حقیقی معنوں میں ایک مہذب اور ہمدرد معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
اگر ہم بات اپنے پیارے ملک پاکستان کی کریں تو ملک پاکستان میں انسانی خدمت کے میدان میں فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن کی ایک نمایاں خدمت تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے لیے خون کی فراہمی ہے۔ پاکستان میں ہزاروں بچے اس موذی مرض کا شکار ہیں اور انہیں باقاعدگی سے خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن اس حوالے سے ایک بڑی خدمت انجام دے رہی ہے۔ ادارے کے تحت اب تک تھیلیسیمیا کے بچوں کو 87 ہزار سے زائد خون کی بوتلیں فراہم کی جا چکی ہیں۔ یہ خدمت نہ صرف ان بچوں کی زندگی بچانے کا ذریعہ بن رہی ہے بلکہ ان کے خاندانوں کے لیے بھی امید کی ایک کرن ثابت ہو رہی ہے۔ خون کے عطیات کے لیے مختلف کیمپس کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں نوجوان اور مخیر حضرات بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور انسانیت کی خدمت کے اس عظیم عمل میں شریک ہوتے ہیں۔

ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں بھی فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن دعوت اسلامی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی آج دنیا کے بڑے مسائل میں شمار ہوتے ہیں۔ درختوں کی کمی ماحولیاتی توازن کو متاثر کرتی ہے اور اسی وجہ سے شجرکاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف جی آر ایف دعوت اسلامی نے بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم کے تحت اب تک پاکستان بھر میں تقریباً 3.5 ملین (پینتیس لاکھ) پودے لگائے جا چکے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف ماحول کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک صحت مند اور سرسبز ماحول فراہم کرنے کی کوشش ہے۔

اسی طرح معذور افراد اور جسمانی مسائل سے دوچار لوگوں کی مدد کے لیے بھی فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن نے عملی اقدامات کیے ہیں۔ اس مقصد کے تحت پاکستان کے چار بڑے شہروں میں فیضان ریہیبلیٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز میں جسمانی معذوری یا دیگر جسمانی مسائل کا شکار افراد کو طبی سہولیات اور بحالی کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان مراکز میں فزیوتھراپی، علاج اور دیگر طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ مریض دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ یہ مراکز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ ادارہ صرف وقتی امداد تک محدود نہیں بلکہ لوگوں کو مستقل سہارا دینے کے لیے بھی کوشاں ہے۔

علاوہ ازیں صحت کے شعبے میں عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے مدنی ہیلتھ کیئر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز میں مستحق اور نادار افراد کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ایسے افراد جو مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، ان کے لیے یہ مراکز ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہے ہیں۔ یہاں مریضوں کو طبی معائنہ، علاج اور ادویات کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے جس سے معاشرے کے کمزور طبقات کو بہت بڑا سہارا مل رہا ہے۔

فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن کی خدمات صرف انہی شعبوں تک محدود نہیں بلکہ قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں میں بھی یہ ادارہ پیش پیش رہتا ہے۔ سیلاب، زلزلے اور دیگر ہنگامی حالات میں متاثرین تک خوراک، پینے کا صاف پانی، خیمے اور دیگر ضروری اشیاء پہنچانے کا عمل بھی اس ادارے کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔
ذرا تصور کیجیے… جب سیلاب آتا ہے تو صرف پانی نہیں آتا، بلکہ لوگوں کے گھر، ان کے خواب اور ان کی ساری جمع پونجی اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے کھلے آسمان تلے بیٹھی ہوتی ہیں، باپ پریشان ہوتا ہے کہ اب اپنے خاندان کو کہاں لے جائے۔ ایسے کٹھن اور آزمائش کے وقت میں اگر کوئی سہارا بن کر سامنے آئے تو وہ یقیناً انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہوتی ہے۔

الحمدللہ! دعوتِ اسلامی نے اس میدان میں ایک عظیم مثال قائم کی ہے۔ 2022 سیلاب متاثرین کے لیے اب تک دعوتِ اسلامی 15,000 سے زائد گھر تعمیر کر کے دے چکی ہے۔ یہ صرف گھر نہیں، بلکہ ہزاروں خاندانوں کے لیے امید کی نئی صبح ہے۔ وہ لوگ جو کل تک بے گھر تھے، آج ان کے سروں پر محفوظ چھت موجود ہے، اور ان کے دلوں سے نکلنے والی دعائیں یقیناً اس خدمت کا سب سے بڑا صلہ ہیں۔
اسی طرح ہمارے ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں لوگ صاف پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترستے ہیں۔ وہاں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو میلوں دور جا کر پانی لانا پڑتا تھا۔ مگر الحمدللہ! دعوتِ اسلامی نے یہاں بھی انسانیت کی خدمت کا بیڑا اٹھایا اور اب تک 5,000 سے زائد واٹر پروجیکٹس مکمل کیے جا چکے ہیں۔ کنویں کھودے گئے، ہینڈ پمپ لگائے گئے اور پانی کی فراہمی کے مختلف منصوبے بنائے گئے تاکہ پیاسے لوگوں کو صاف پانی میسر آ سکے۔

المختصر یہ کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی حضور علیہ السلام کی دکھیاری امت آزمائش کا شکار ہوئی دعوت اسلامی انکی خدمت میں پیش پیش رہی
یہ تمام خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت خالص ہو اور مقصد انسانیت کی خدمت ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑے پیمانے پر کام کیا جا سکتا ہے۔ فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن دعوت اسلامی اسی جذبے کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہی ہے اور معاشرے کے مختلف طبقات کو سہارا فراہم کر رہی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے کے صاحبِ استطاعت افراد اور نوجوان اس طرح کے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور انسانیت کی خدمت کے اس سفر میں اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے افراد ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اس ادارے سے وابستہ تمام افراد کو مزید اخلاص اور استقامت کے ساتھ انسانیت کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔