Sunday, May 3, 2026
ہومکالم وبلاگزکالمزجب فریب بنا جوازِ جنگ

جب فریب بنا جوازِ جنگ

تحریر: محمد محسن اقبال
بزرگوں سے یہ بات سننے میں آتی رہی ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ مگر زمانے میں کچھ ایسے بھی ادوار آتے ہیں جب جھوٹ کو اس قدر مہارت، صبر اور مکاری کے ساتھ بُنا جاتا ہے کہ سچائی خود ایک مدھم سایہ بن کر رہ جاتی ہے اور فریب کی جرا?ت مند پیشانی کے سامنے لڑکھڑاتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ جھوٹ جو وقتی جذبات کی تپش میں نہیں بلکہ خاموش کمروں میں سوچی سمجھی سازش کے تحت گھڑے جاتے ہیں—کسی دشمن کو زخم دینے کے لیے، جارحیت کو انصاف کا لبادہ پہنانے کے لیے، یا مخالف کو رسوائی کے اندھیرے میں دھکیلنے کے لیے—انہیں انگریزی میں فالس فلیگ آپریشنز کہا جاتا ہے۔ ہماری اردو میں یوں کہیے کہ یہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ہنر ہے، جس میں عقل کو دھندلا کر شرارت کا ہاتھ اپنا کام کر گزرتا ہے۔
فالس فلیگ کی اصل روح یہ ہے کہ نقصان یا ڈرامائی کارروائی اس انداز میں ترتیب دی جائے کہ اصل کردار پرد? خفا میں رہے اور الزام کسی اور پر ڈال دیا جائے—چاہے وہ کوئی حریف ریاست ہو، کوئی بے چین گروہ، یا چند نام نہاد شدت پسند۔ اس کا مقصد محض شرارت نہیں ہوتا بلکہ عوامی جذبات کو بھڑکانا، ہمدردی کی لہر پیدا کرنا، اور اس کے ذریعے جنگ، انتقامی کارروائی، داخلی پابندیوں یا سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ایک موزوں جواز پیدا کرنا ہوتا ہے۔
اس اصطلاح کی جڑیں سولہویں صدی کے بحری معرکوں تک جاتی ہیں، جب جنگی جہاز کسی غیر جانبدار یا دشمن ملک کا جھنڈا لہرا کر دھوکے سے قریب آتے اور پھر اچانک حملہ کر دیتے۔ آج کے دور میں اس کا مفہوم کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے، جس میں سیاسی و عسکری سازشوں کی وہ تمام صورتیں شامل ہیں جو خفیہ طور پر ترتیب دی جاتی ہیں—کچھ تو سرکاری دستاویزات کے افشا ہونے پر تسلیم بھی ہو چکی ہیں، جبکہ کچھ اب بھی بحث و تکرار کی دھند میں لپٹی ہوئی ہیں۔
تاریخ کے اوراق ایسے فریبوں کی دردناک داستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ 1939 کے موسم خزاں میں نازی جرمنی نے گلیوِٹز واقعہ نہایت سفاکی سے ترتیب دیا۔ 31 اگست کی رات ایس ایس کے اہلکار، الفریڈ نویاکس کی قیادت میں، پولینڈ کی وردیوں میں ملبوس ہو کر ایک جرمن ریڈیو اسٹیشن پر حملہ آور ہوئے۔ انہوں نے پولش زبان میں جرمنی مخالف جھوٹی نشریات کیں، تخریب کاری کے شواہد چھوڑے، اور ایک مقتول کو پولش کارکن کے بھیس میں وہاں رکھ دیا۔ یہ سب”آپریشن ہملر”کا حصہ تھا۔ اگلے ہی دن ایڈولف ہٹلر نے اسے پولینڈ پر حملے کا جواز بنا کر دوسری جنگ عظیم کی آگ بھڑکا دی۔ بعد ازاں نیورمبرگ ٹرائلز میں خود سازش کے معماروں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا۔
اسی طرح 1931 میں جاپان کی کوانٹونگ آرمی نے منچوریا میں مکڈن کے قریب ایک معمولی دھماکے کو چینی قوم پرستوں کے سر تھوپ کر پورے علاقے پر قبضے کا بہانہ بنایا۔ چند ہی ماہ میں منچوریا جاپان کے قبضے میں چلا گیا اور”مانچوکو”نامی کٹھ پتلی ریاست قائم کر دی گئی۔ لیگ آف نیشنز نے اپنی رپورٹ میں اس فریب کو بے نقاب کیا، مگر جاپان نے اسے رد کر کے عالمی برادری سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
مشرقِ وسطیٰ بھی ایسے سائے سے محفوظ نہ رہا۔ 1954 میں”لاوون افیئر”کے نام سے معروف ایک خفیہ منصوبے کے تحت اسرائیلی انٹیلی جنس نے مصر میں بم دھماکوں کی سازش کی، جن کا الزام مقامی گروہوں پر ڈالنا مقصود تھا تاکہ برطانیہ کو نہر سویز سے اپنی فوج نہ ہٹانے پر آمادہ کیا جا سکے۔ مگر ایک بم وقت سے پہلے پھٹ گیا اور پوری سازش بے نقاب ہو گئی۔ کئی گرفتاریاں ہوئیں، سزائیں سنائی گئیں، اور برسوں بعد اسرائیل نے اس میں اپنے کردار کو تسلیم کیا۔
حتیٰ کہ اتحادی ممالک کے درمیان بھی ایسے تنازعات جنم لیتے رہے ہیں۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران امریکی بحری جہاز”یو ایس ایس لبرٹی”پر اسرائیلی حملہ ایک متنازعہ باب ہے۔ اسرائیل نے اسے غلطی قرار دیا، مگر متاثرین اور بعض مبصرین آج تک اسے دانستہ کارروائی سمجھتے ہیں۔ اس واقعے نے تاریخ میں ایک مستقل سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہے۔
برصغیر میں بھی یہ سلسلہ ایک دردناک مانوسیت کے ساتھ دہرایا گیا ہے، اور اکثر ہمسایہ ممالک کے درمیان بداعتمادی کی خلیج کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ فروری 2007ء میں سمجھوتہ ایکسپریس—جو دہلی اور لاہور کے درمیان دوستی کی علامت سمجھی جاتی تھی—ایک ہولناک سانحے کا شکار ہوئی، ان میں اکثریت ان پاکستانی شہریوں کی تھی جو اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے، جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوئے۔ ابتدا میں انگلیاں پاکستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کی جانب اٹھیں، مگر بعد ازاں بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے تحقیقات کا رخ ہندو انتہا پسند تنظیم ابھینو بھارت سے وابستہ عناصر کی طرف موڑ دیا۔ اعترافات میں انتقام کی ایک ہولناک منطق سامنے آئی—”بم کے بدلے بم”—اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی خواہش بھی آشکار ہوئی۔ اگرچہ مقدمات قائم ہوئے، مگر 2019ء میں ایک خصوصی عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر مرکزی ملزمان کو بری کر دیا۔ پاکستان بارہا اپنے جاں بحق شہریوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتا رہا، مگر یہ مقدمہ آج بھی اس تلخ حقیقت کی علامت بنا ہوا ہے کہ کس طرح الزامات کا رخ بدلتا رہتا ہے اور متاثرین کو کبھی مکمل انصاف نصیب نہیں ہوتا۔
نومبر 2008ء کے ممبئی حملے، جنہیں بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان سے آنے والے مبینہ طور پر لشکرِ طیبہ کے دس مسلح افراد نے انجام دیا اور تین دن تک بھارت کے تجارتی مرکز کو نشانہ بنایا—آج بھی اجتماعی حافظے میں گہرے نقوش چھوڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے سرکاری سطح پر اس سانحے کی مذمت کی، مگر کچھ حلقوں نے اسے فالس فلیگ قرار دینے کا دعویٰ بھی جاری رکھا۔
اس سے بھی قبل 1971ء میں بھارتی فضائی کمپنی کے طیارے”گنگا”کا اغوا، جسے کشمیری علیحدگی پسندوں نے لاہور لے جا کر اتارا، ایسے وقت میں پیش آیا جب پاکستان داخلی بحران سے گزر رہا تھا۔ اس واقعے نے بھارت کو پاکستانی فضائی حدود پر پابندی لگانے کا جواز فراہم کیا۔ بعد ازاں پاکستان میں ہونے والی بعض تحقیقات نے اس میں بھارتی خفیہ ہاتھ کے امکان کی طرف اشارہ کیا، اگرچہ بھارت نے ہمیشہ اسے ایک حقیقی عسکری کارروائی ہی قرار دیا۔
ان متعدد مثالوں کے درمیان اپریل 2025ء میں پہلگام کا سانحہ پاکستان کے لیے ایک خاص طور پر گونج رکھنے والا واقعہ بن کر ابھرا۔ اسی ماہ کی بائیسویں تاریخ کو، بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے پُرفضا مقام پہلگام کے قریب سبزہ زار کے گرد پھیلے چیڑ کے جنگلات سے مسلح افراد اچانک نمودار ہوئے۔ یہ میدان، جو صرف پیدل یا گھوڑوں کے ذریعے قابلِ رسائی ہے اور عرص? دراز سے سیاحوں کے لیے جنت کا ایک ٹکڑا سمجھا جاتا تھا، یکایک خوف و ہراس کی تصویر بن گیا۔ جدید ہتھیاروں سے لیس اور جزوی طور پر فوجی انداز کے لباس میں ملبوس حملہ آوروں نے پُرسکون فضا میں محوِ سیاحت افراد پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس ہولناک حملے میں چھبیس بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے—جبکہ بیس کے قریب افراد زخمی ہوئے۔ چند ہی منٹوں میں یہ قیامت خیز منظر خاندانوں اور سیاحوں کی خوشیوں کو سوگ میں بدل گیا۔
بھارت نے اس قتلِ عام کا الزام پاکستان سے تعلق رکھنے والی تنظیم کے عناصر پر عائد کیا اور سخت اقدامات کا اعلان کیا، جبکہ پاکستان کی قیادت نے اس واقعے کو بھارت کی جانب سے ترتیب دیا گیا فالس فلیگ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ یہ سانحہ کشمیر میں مزید کریک ڈاؤن کو جواز دینے، پانی کے تنازعات کو ہوا دینے اور داخلی سطح پر پاکستان کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے رچایا گیا۔ اپنے دوٹوک ردِعمل میں پاکستان نے واضح کیا۔ بعد ازاں اس ردعمل کو ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا جس نے افواج پاکستان کی چوکسی اور عزم کو مزید تیز کر دیا۔
ان تمام واقعات کے پس منظر میں یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کیا ہر فریب کا پردہ کبھی مکمل طور پر چاک ہو سکے گا؟ اس کا فیصلہ وقت اور دیانت دار تحقیق کے سپرد ہے۔ کچھ جھوٹ وقت کے ساتھ حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں، جبکہ بعض ثبوت اور ضمیر کی روشنی میں ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔ مگر بزرگوں کی وہی پرانی نصیحت آج بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ جھوٹ چاہے کچھ عرصہ مستعار قدموں پر چل لے، سچائی میں ایک خاموش مگر پائیدار قوت ہوتی ہے۔ ریاستوں کے بڑے معاملات ہوں یا عام انسان کی روزمرہ زندگی، دانائی اسی میں ہے کہ ہم اپنی آنکھوں میں ڈالی گئی دھول کو پہچانیں، جذبات کو فریب کا جواز نہ بننے دیں، اور ہر دعوے کو تحقیق و بصیرت کی کسوٹی پر پرکھیں۔ تبھی ممکن ہے کہ انصاف—خواہ مکمل نہ سہی—اپنی راہ تلاش کر سکے اور سچائی ان سایوں کو چیرتی ہوئی نمودار ہو جو ہمارے بے چین عہد پر چھائے ہوئے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔