Sunday, May 3, 2026
ہومتازہ ترینچین-پاکستان زرعی تعاون میں “چھوٹے مگر خوبصورت” منصوبے نئی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں

چین-پاکستان زرعی تعاون میں “چھوٹے مگر خوبصورت” منصوبے نئی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں

ووہان،(سب نیوز) وسطی چین کے صوبہ ہوبے کے شہر ووہان کے حالیہ دورے کے دوران، جہاں پاکستانی میڈیا کے نمائندوں اور تھنک ٹینک کے ارکان کا ایک وفد موجود تھا، میری بس میں ایک پاکستانی صحافی سے گفتگو ہوئی۔ میں نے اسے بتایا کہ میں اس سفر کے دوران چین-پاکستان تعاون کی کوئی ایسی “چھوٹی مگر خوبصورت” کہانی تلاش کرنا چاہتا ہوں جو اس اسٹریٹجک شراکت داری کے عملی اثرات کو واضح کر سکے۔ جب وفد نے ووہان ہائی ٹیک بائیو ایگریکلچرل پارک کا دورہ مکمل کیا تو وہ صحافی مسکراتے ہوئے بولا: “میرا خیال ہے آپ کو اپنی مطلوبہ کہانی مل گئی ہے۔”

ووہان چنگفا ہیشینگ ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے دفتر میں داخل ہونے سے پہلے وفد کے چند ہی افراد کو اندازہ تھا کہ اس سادہ نظر آنے والی عمارت میں چین-پاکستان زرعی تعاون کی کتنی کہانیاں پوشیدہ ہیں۔ ہائبرڈ چاول اور کینولا کو پاکستان میں متعارف کرانے، مقامی اقسام کی افزائش اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے تحقیقی فارم قائم کرنے، اور پاکستانی زرعی ماہرین کے لیے تربیتی پروگرام چلانے جیسے اقدامات بظاہر بڑے یا نمایاں نہیں، لیکن یہ کسانوں کی آمدنی، غذائی تحفظ اور عوامی فلاح سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ یہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، خصوصاً چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت “چھوٹے مگر خوبصورت” منصوبوں کی نمایاں مثالیں ہیں۔

نمائش گاہ میں موجود مختلف بیجوں — ہائبرڈ چاول، ریپ سیڈ، تربوز، کدو، مرچ اور پھول گوبھی — کو دیکھتے ہوئے جنگ میڈیا گروپ کے سینئر منیجر نور اللہ نے کہا کہ ان بیجوں کے ذریعے پاکستانی کسان فی ایکڑ پیداوار اور اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں غذائی تحفظ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

انہوں نے جذباتی انداز میں کہا، “یہ صرف بیج نہیں ہیں بلکہ امید کے بیج ہیں جو چین-پاکستان تعاون ہماری زمین میں بو رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دونوں ممالک ان بیجوں سے بہتر خوراک اور میٹھے پھل حاصل کریں گے۔”

وفد کے اراکین کے تاثرات سے یہ بات واضح ہوئی کہ وہ صرف نئی زرعی ٹیکنالوجی میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ پاکستان میں زرعی جدیدکاری کو تیز کرنے کے خواہاں بھی ہیں۔ اس سال چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-30) کا آغاز ہو رہا ہے جبکہ پاکستان بھی اپنے “اڑان پاکستان” وژن کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک بطور ترقی پذیر اور گلوبل ساؤتھ کے اہم ارکان، مشترکہ ترقیاتی ترجیحات رکھتے ہیں، جن میں زراعت ایک نہایت اہم شعبہ ہے۔

حالیہ برسوں میں چین-پاکستان زرعی تعاون کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں چینی سفارتخانے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت مسلسل تین سال سے ایک ارب ڈالر سے زائد رہی ہے، جبکہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں اس میں 22.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس شعبے کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم زرعی ملک ہے، جہاں وسیع قابلِ کاشت زمین، متنوع موسمی حالات اور طویل فصلوں کا دورانیہ موجود ہے۔ یہ نہ صرف اناج کی مستحکم پیداوار بلکہ نقد آور فصلوں، پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کے لیے بھی موزوں ہے۔ دریائے سندھ کا آبپاشی نظام زرعی ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے جبکہ وافر دھوپ اور حرارت مرچ، تل، آم اور چیری جیسی فصلوں کی پیداوار میں مددگار ہیں۔ نوجوان آبادی زرعی جدیدکاری کے لیے اہم انسانی وسائل فراہم کرتی ہے۔

چین کے لیے بھی پاکستان ایک امید افزا زرعی شراکت دار ہے۔ چین کے پاس ہائبرڈ بریڈنگ، پانی کی بچت والی آبپاشی، زرعی مشینری، اسمارٹ فارمنگ، ای کامرس لاجسٹکس اور مکمل صنعتی سلسلے کے انضمام کا وسیع تجربہ ہے، جبکہ پاکستان کو زمین، موسم، زرعی مصنوعات اور علاقائی منڈیوں تک رسائی جیسے فوائد حاصل ہیں۔ یہ باہمی صلاحیتیں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع پیدا کرتی ہیں۔

چین-پاکستان زرعی تعاون کی اہمیت اب دوطرفہ تعلقات سے آگے بڑھ چکی ہے۔ یہ دنیا کو پائیدار بین الاقوامی زرعی تعاون کی ایک عملی مثال فراہم کرتا ہے۔ ایک بیج، ایک فارم، ایک تربیتی پروگرام یا ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے چھوٹے اقدامات اکثر وہ ہوتے ہیں جو زمین میں گہری جڑیں پکڑتے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لاتے ہیں۔

وفد کا دورہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے حالیہ پانچ روزہ دورۂ چین کے ساتھ جزوی طور پر ہم آہنگ تھا۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق اس موقع پر پانی کو قابلِ استعمال بنانے، زرعی ٹیکنالوجی اور چائے کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے تین مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے۔

جیسے ہی وفد پارک سے روانہ ہوا، اراکین جوش و خروش سے بھرپور تھے اور بیجوں کی تحقیق اور مستقبل کے امکانات پر گفتگو کر رہے تھے۔ ایک پاکستانی صحافی نے اپنے فون پر ایک بڑے تربوز کی تصویر دکھاتے ہوئے پوچھا: “کیا ایسا تربوز پاکستان میں اگایا جا سکتا ہے؟” اس سوال پر سب ہنس پڑے، مگر اس ہنسی کے پیچھے ایک سچی امید چھپی تھی — کہ پاکستان کی زمین سے بھی ایسے نئے اور مفید پھل پیدا ہوں جو عوام کے لیے خوشحالی کا باعث بنیں۔

**بشکریہ: گلوبل ٹائمز، ما روئی چیا

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔