اسلام آباد(آئی پی ایس) وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے سولر صارفین کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے 25 کلو واٹ تک کے سسٹم نصب کرنے والے صارفین کے لیے لائسنس فیس ختم کرنے کی سفارش کر دی ہے۔
پاور ڈویژن نے اس حوالے سے نیپرا کو باضابطہ درخواست ارسال کر دی ہے جس میں لائسنس فیس کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کا موقف ہے کہ حکومت بیوروکریٹک رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے متحرک ہے اور اس سے قبل بھی نیپرا کو نئے ریگولیشنز کے مضر اثرات سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈسکوز کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کی درخواستوں کی منظوری صارفین کے لیے مالی ترغیب کا باعث تھی، تاہم حالیہ تبدیلیوں پر عوامی سماعت کے دوران شراکت داروں اور سولر انڈسٹری نے سخت اعتراضات کیے اور نئے ریگولیشنز کو مسترد کر دیا تھا۔
وزیرِ توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ لائسنس فیس جیسے فیصلے حکومت کی “قابلِ تجدید توانائی” کی پالیسی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ عوام کے لیے سولر سسٹم کی تنصیب کو آسان بنایا جائے تاکہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کی جا سکے۔
