Thursday, April 23, 2026
ہومبریکنگ نیوزامریکا-ایران جنگ کے باعث چیلنجز کے باوجود پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ مستحکم

امریکا-ایران جنگ کے باعث چیلنجز کے باوجود پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ مستحکم

کراچی (آئی پی ایس )سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کہا ہے کہ امریکا-ایران جنگ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، فریٹ اور انشورنس اخراجات میں بڑھوتری اور عالمی سطح پر رسک آف رجحان سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے باوجود پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ مستحکم رہی ہے۔

ایس ای سی پی کی مالی سال 26-2025 کی تیسری سہ ماہی کے لیے کیپٹل مارکیٹ کی جائزہ رپورٹ کے مطابق اس رپورٹ میں مارکیٹ کی کارکردگی، سرمایہ کاروں کی سرگرمی، ڈیٹ مارکیٹ، معاشی رجحانات، عالمی عوامل اور اہم اصلاحات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10 سے 13 فیصد اضافہ ہوا، امریکی سافٹ ویئر اسٹاکس میں تقریبا 23 فیصد کمی آئی، ایس اینڈ پی 500 میں 4.3 فیصد، ایم ایس سی آئی یورپ میں 3.2 فیصد، ایم ایس سی آئی ایشیا میں 1.1 فیصد اور ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹس میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ایس ای سی پی نے بتایا کہ اس پس منظر میں پاکستان کا کے ایس ای-100 انڈیکس 14.54 فیصد کم ہوا تاہم مقامی سرمایہ کاروں کی مضبوط شرکت، پرائمری مارکیٹ کی سرگرمی اور ریگولیٹری اصلاحات نے مارکیٹ کے اعتماد کو برقرار رکھا، کے ایس ای-100 انڈیکس سہ ماہی کے آغاز پر 174,054 پوائنٹس پر تھا اور 26 جنوری کو 191,033 کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچا، بعد ازاں 31 مارچ کو 148,743 پوائنٹس پر بند ہوا۔ 19 مارچ کو اس کی کم ترین سطح 144,119 رہی، جو مجموعی طور پر 22.57 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس میں 14.85 فیصد، کے ایس ای-30 میں 15.52 فیصد کمی آئی، جنوری میں مارکیٹ مضبوط رہی اور کے ایس ای-100 میں 5.81 فیصد اضافہ ہوا جبکہ فروری میں بڑھتی لاگت، جغرافیائی سیاسی خدشات اور منافع لینے کے رجحان کے باعث 3.75 فیصد کمی ہوئی، مارچ میں یہ کمی مزید بڑھ کر 11.50 فیصد ہو گئی ہے لیکن اس کمی کے باوجود مارکیٹ سرگرمی مضبوط رہی۔

مزید بتایا گیا کہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 19.69 کھرب روپے سے کم ہو کر 16.53 کھرب روپے ہو گئی، یعنی 3.15 کھرب روپے کی کمی ہوئی، مجموعی طور پر 48.8 ارب شیئرز کا کاروبار ہوا جبکہ لین دین کی مالیت 2.68 کھرب روپے رہی، یومیہ اوسط حجم 791.7 ملین شیئرز اور اوسط مالیت 44.03 ارب روپے رہی، یوں فی سیشن تقریبا 485 کمپنیوں میں ٹریڈنگ ہوئی، جو وسیع شرکت کو ظاہر کرتی ہے، جس کے لیے مقامی سرمایہ کاروں نے اہم کردار ادا کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔