Thursday, April 23, 2026
ہومبریکنگ نیوزخیبرپختونخوا: اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کو تاحیات مراعات، گرفتاری و قانونی کارروائی سے استثنا کے لیے قانون سازی

خیبرپختونخوا: اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کو تاحیات مراعات، گرفتاری و قانونی کارروائی سے استثنا کے لیے قانون سازی

پشاور (سب نیوز )خیبر پختونخوا اسمبلی میں اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کی مراعات بڑھانے، تاحیات سہولیات، سیکیورٹی اور دیگر مراعات میں اضافے کے لیے قانون سازی کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے ترمیم کی تجویز پیش کردی ہے۔خیبر پختونخوا اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے مراعات اور الانسز ایکٹ میں ترمیم کے لیے باقاعدہ تجویز جمع کرا دی ہے، جس کے مطابق اسمبلی اجلاس میں ایکٹ میں ترمیم کی تجویز کو متفقہ طور پر کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے اس حوالے سے 6 اپریل اور 13 اپریل کو دو اجلاس کیے۔ کمیٹی کے 7 ارکان میں اپوزیشن کے ارکان بھی شامل ہیں، جنہوں نے متفقہ طور پر ترمیم کی سفارشات اپنی رپورٹ میں پیش کردی ہیں۔

اسٹینڈنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں، مراعات اور الانسز کے ایکٹ میں ترمیم کی سفارش کی ہے، جس میں ان کے مراعات اور الانسز بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ مراعات میں مزید اضافے کی سفارش بھی شامل ہے۔اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے صوابدیدی فنڈز میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ اس کا اختیار فنانس کمیٹی کو دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ اس سے قبل اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کو پاکستان میں سرکاری دوروں کے لیے فرسٹ گریڈ افسر کا درجہ حاصل تھا، تاہم نئی ترمیم میں دیگر صوبوں کے سرکاری دوروں پر وی وی آئی پی پروٹوکول دینے کی تجویز شامل ہے۔

اسپیکر کو 2 کے بجائے 3 گاڑیوں کا اختیار دینے، خصوصی سیکیورٹی اور پولیس کی تعیناتی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ ترمیم میں اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کو بیرونِ ملک دوروں پر ایک کے بجائے دو نجی ملازمین ساتھ لے جانے کی اجازت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔نئی ترمیم کے بعد اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کو خصوصی قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ اسٹینڈنگ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے گھروں پر نہ تو چھاپے مار سکیں گے اور نہ ہی انہیں گرفتار کر سکیں گے، جبکہ موجودہ قانون میں یہ استثنا حاصل نہیں تھا۔

ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں میں اضافے کے طریقہ کار کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس وقت تنخواہوں میں اضافہ گریڈ 20 کے افسر کے برابر ہوتا ہے، تاہم اس طریقہ کار کو ختم کرکے قانونی ترمیم کے ذریعے نیا طریقہ کار متعارف کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اسپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 45 ہزار روپے ہے، جبکہ دیگر مراعات اور الانسز اس کے علاوہ ہیں۔

نئی ترمیم میں اسپیکر کے لیے تاحیات مراعات کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کے مطابق سبکدوش ہونے والے اسپیکر کو اسمبلی سیکریٹریٹ سے ایک پرائیویٹ سیکریٹری (بی پی ایس-17 سے کم نہ ہو)، ایک اسسٹنٹ، ایک باورچی، ایک نائب قاصد اور ایک ڈرائیور فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے بی کیٹیگری سیکیورٹی فراہم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ نئی ترمیم کے مطابق سبکدوش ہونے والا اسپیکر تاحیات سابق اسپیکر کا عنوان استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں صوبائی اسمبلی کے ارکان کو پولیس سیکیورٹی فراہم کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جس کے مطابق ہر رکن کو حکومت کی جانب سے دو پولیس اہلکار فراہم کیے جائیں گے۔

اسٹینڈنگ کمیٹی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تمام ارکان نے سیکیورٹی کو انتہائی اہم قرار دیا اور اسے ترمیم میں شامل کرنے کی سفارش کی۔ ان کے مطابق اس وقت قانون میں سیکیورٹی کی کوئی واضح گنجائش نہیں، اس کے باوجود بھی کئی ارکان کے ساتھ 2 سے 3 اہلکار موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ترمیم کے بعد پولیس سیکیورٹی کی فراہمی یقینی ہو جائے گی اور کسی سفارش کی ضرورت نہیں رہے گی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور ارکان کی مراعات اور الانسز میں اضافے کی تجویز دی، تاہم تنخواہوں میں اضافے کی سفارش شامل نہیں کی گئی۔ ایک رکن کے مطابق ابتدائی طور پر تنخواہوں میں اضافے پر بات ہوئی، لیکن حکومتی ارکان نے اس پر اتفاق نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مراعات اور الانسز میں اضافے کے ذریعے فائدہ دینے کی کوشش کی ہے، جبکہ ممکنہ سیاسی مخالفت کے باعث تنخواہوں میں اضافے کی تجویز شامل نہیں کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت ارکان کی تنخواہ 80 ہزار روپے جبکہ سیشن الانس ایک ہزار روپے ہے، جس میں اضافہ کرنے کی خواہش موجود ہے۔ان کے مطابق 2024 تک خیبر پختونخوا اسمبلی صوبائی حکومت کے ایک ذیلی محکمہ کے طور پر کام کر رہی تھی، جہاں حکومتی قواعد لاگو ہوتے تھے، حالانکہ اسمبلی ایک خودمختار قانون ساز ادارہ ہے۔ بعد ازاں 2024 میں قانون سازی کے ذریعے اس میں ترمیم کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی اور دیگر کیسز کے بعد حکومت کو یہ ترمیم لانے کی ضرورت پیش آئی، کیونکہ قانون سازی نہ ہونے کے باعث منتخب ارکان کے خلاف ایف آئی آرز درج ہیں اور گرفتاری کا خدشہ موجود ہے۔ ان کے مطابق نئی ترمیم کے بعد کسی بھی قانونی کارروائی کے لیے اسپیکر کی اجازت لازمی ہوگی، جبکہ اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر گرفتاری اور دیگر قانونی کارروائی سے محفوظ ہوں گے اور ان کے گھروں پر بھی چھاپہ نہیں مارا جا سکے گا۔ترمیم کے ذریعے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کو خصوصی قانونی تحفظ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس حوالے سے وزیر قانون خیبر پختونخوا سے موقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔