تل ابیب(سب نیوز) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خطے کے چھ ممالک نے اسرائیل کو گھیرنے اور ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کے بقول ہم نے ہی انہیں کمزور کر دیا ہے اور ابھی مزید کرنا باقی ہے۔یہ بیان انہوں نے مشرقِ وسطی کے نقشے کے سامنے کھڑے ہو کر دیا، جسے تجزیہ کار ایک سخت اور جارحانہ پیغام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ان کے اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔دوسری جانب سفارتی سطح پر اہم پیش رفت بھی سامنے آ رہی ہے، جہاں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کے درمیان واشنگٹن ڈی سی میں منگل کے روز مذاکرات متوقع ہیں۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ماہرین کے مطابق نیتن یاہو کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی پالیسی میں سختی برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب مذاکرات کا آغاز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتی حل کی کوششیں بھی جاری ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیانات میں سختی ہے، تاہم واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات خطے میں ممکنہ کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہو سکتی ہے۔قبل ازیں سرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیلی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے لبنان کے ساتھ امن مذاکرات کی منظوری دی ہے تاہم اسی پیغام میں انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ ایران کے خلاف مہم ابھی ختم نہیں ہوئی اور کہا کہ ہم اب بھی ان سے لڑ رہے ہیں۔بنیامین نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔نیتن یاہو نے اسرائیل کی فوجی مہم میں حاصل کی گئی متعدد کامیابیوں کی فہرست بھی پیش کی، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کا دعوی بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں، ایران میں اب بھی جوہری پروگرام کے لیے افزودہ مواد موجود ہے، اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا، اسے ہٹانا ضروری ہے، یا تو یہ معاہدے کے ذریعے ہٹایا جائے گا یا پھر کسی اور طریقے سے ہٹایا جائے گا۔
