اسلام آباد ، پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی)نے انجینئرنگ کے بڑے منصوبوں میں تنازعات کے حل کیلئے خصوصی ٹربیونلز اور عدالتیں قائم کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ عدالتی نظام میں ‘حقیقی تبدیلی’ اور انصاف کی فوری فراہمی کو بنایا جاسکے۔
تجویز کے مطابق خصوصی کونسل کا ماننا ہے کہ خصوصی انجینئرنگ ٹربیونلز اور عدالتوں کے نیٹ ورک سے انجینئرنگ معاہدوں میں ڈیفالٹس کے الزامات کے حوالے سے قومی احتساب بیورو(نیب)اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)پاس موجود کیسز کی تعداد کم ہوجائے گی، جبکہ اس کے نتیجے میں کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کا خوف بھی ختم ہوجائے گا۔پی ای سی نے کہا کہ عام عدالتیں اور تحقیقاتی ادارے، جہاں انجینیئرنگ معاہدوں سے متعلق تکنیکی کیسز کی تحقیقات اور سماعت ہوتی ہے، انجینئرنگ اور تکنیکی معاملات سے ناواقف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ موثر طریقے سے تحقیقات اور فیصلہ نہیں کر پاتے، نتیجتا ‘ناانصافی’ اور کیسز کے فیصلوں میں تاخر ہوتی ہے اور کثیر الجہتی منفی اثرات سامنے آتے ہیں۔
انجینئرنگ منصوبوں کے کیسز کیلئے خصوصی ٹربیونلز کے قیام کی تجویز
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
