اسلام آباد :چائنا اِن اسپرنگ ٹائم: پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ، چینی طرزِ جدیدیت کی عالمی اہمیت اور مواقع کے موضوع پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ یہ سیمینار چائنا میڈیا گروپ اور انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے باہمی اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں چین کی ترقیاتی حکمتِ عملی اور اس کے عالمی و علاقائی اثرات، خصوصاً پاکستان کے لیے اس کی اہمیت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی تھے، جبکہ مہمانِ اعزاز پاکستان میں چینی سفارت خانے کے سیاسی و ابلاغی امور کے سربراہ وانگ شونگ جئے تھے۔
تقریب میں سابق سفارتکاروں، تھنک ٹینکس کے نمائندوں، محققین، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ چین کا آئندہ پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ ایک دور اندیش اور مستقبل بین وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس میں جدت، ماحول دوست ترقی اور مصنوعی ذہانت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کا ترقیاتی ماڈل اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی پیش رفت کو پائیدار معاشی نمو کے ساتھ ہم آہنگ کرنا انتہائی اہم ہے۔
اس موقع پر چینی سفارت خانے کے سیاسی و ابلاغی امور کے سربراہ وانگ شونگ جئے نے کہا کہ چین کے پانچ سالہ منصوبوں کی تیاری میں مختلف شعبوں کے ماہرین کی آراء کو کلیدی اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عالمی معیشت میں مثبت اور اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس سال چین کے خلائی پروگرام میں ایک پاکستانی خلا نورد کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین مختلف اہم شعبوں میں پاکستان کی شمولیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کی پیش رفت، خصوصاً فائیو جی نیٹ ورکس کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان میں ڈیجیٹل رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے فعال تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
چین میں پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے کہا کہ چین کی نمایاں ترقی کے پس منظر میں مسلسل اور طویل المدتی منصوبہ بندی کارفرما ہے، جو مختلف پانچ سالہ منصوبوں کے ذریعے جاری رکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین تقریباً 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنے میں کامیاب ہوا ہے، جو عالمی ترقی کی تاریخ کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان چین کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور مؤثر عملدرآمد کے تجربے سے اہم اسباق حاصل کر سکتا ہے۔
سینئر تجزیہ کار و بحریہ یونیورسٹی کے پروفیسر حسان داؤد بٹ نے کہا کہ چین کا ترقیاتی ماڈل غربت کے خاتمے کو ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے اپنے قومی ترقیاتی منصوبوں میں مقررہ اہداف کو مسلسل حاصل کیا ہے اور عالمی چیلنجز کے باوجود اس کی معیشت مستحکم انداز میں ترقی کر رہی ہے۔
یونیورسٹی آف سرگودھا میں
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف چائنا اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان نے کہا کہ چین کی نئی ترقیاتی حکمتِ عملی جدت پر مبنی نظام کی تشکیل پر مرکوز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین خصوصاً مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور الیکٹرک گاڑیوں کے شعبوں میں تکنیکی خود انحصاری کو فروغ دے رہا ہے۔
انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں چائنا پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طلعت شبیر نے کہا کہ چین جدت اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے باعث ایک نئے ترقیاتی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے مصنوعی ذہانت، جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل معیشت پر خصوصی توجہ مرکوز کرتا ہے۔
سیمینار کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چینی صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں چین کی جدت، سبز تبدیلی اور طویل المدتی منصوبہ بندی پر مبنی ترقیاتی حکمتِ عملی نہ صرف چین بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی اہم اسباق فراہم کرتی ہے۔ مقررین کے مطابق اس وژن کے تحت چین اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں جو مشترکہ ترقی اور علاقائی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔
