مصنف: ایسل الہام، کلائمٹ گورننس اینالسٹ،
MPhil میڈیا اسٹڈیز، impactchroniclesmedia@outlook.com
چین کی وسیع شجرکاری مہم نے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ جنگلات محض منظرنامہ نہیں بلکہ زندہ ڈھانچہ ہیں جو پانی کے چکر کو ازسرِنو ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دہائیوں کے دوران اربوں درخت بنجر زمینوں پر لگائے گئے، خصوصاً شمالی خشک علاقوں میں، جس کے نتیجے میں زمین مستحکم ہوئی، گرد و غبار کے طوفان کم ہوئے اور بارش و بادلوں کے نظام پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ تاہم چین کا تجربہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پانی کی کمی والے علاقوں میں ضرورت سے زیادہ شجرکاری خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، جہاں گھنے جنگلات پہلے ہی محدود وسائل پر دباؤ ڈال دیتے ہیں۔ پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلی کے محاذ پر کھڑا ہے، بڑھتے درجہ حرارت، غیر متوقع مون سون، تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور تباہ کن سیلابوں کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔ اس پس منظر میں سبق واضح ہے: شجرکاری کو ماحولیاتی باریکیوں اور دیرپا پائیداری کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔
ہمارے “بلین ٹری سونامی” اور “ٹین بلین ٹری سونامی” منصوبوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے، لیکن اگلا مرحلہ محض تعداد سے آگے بڑھنا چاہیے۔ پاکستان کو یکساں نوعیت کے جنگلات کے بجائے حیاتیاتی تنوع رکھنے والے، موسمیاتی لحاظ سے موزوں جنگلات درکار ہیں جو ہر صوبے کی جغرافیائی خصوصیات کے مطابق ہوں۔ پنجاب میں نہری کناروں پر اگروفاریسٹری کے ذریعے ککر اور مورنگا جیسے مقامی درخت لگائے جا سکتے ہیں تاکہ زیرِ زمین پانی دوبارہ بھر سکے اور بخاراتی نقصان کم ہو۔ سندھ میں انڈس ڈیلٹا کے مینگرووز کو بڑھا کر کراچی کو سمندری طوفانوں سے بچایا جا سکتا ہے، جبکہ تھر میں خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام کو کمیونٹی کی شراکت سے ڈرِپ ایریگیشن کے ساتھ متعارف کرایا جائے۔ بلوچستان میں آبی گزرگاہوں پر شجرکاری، ایکیشیا اور زیتون کے درختوں کے ذریعے چراگاہوں کو مستحکم اور آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں کمیونٹی جنگلات کو مضبوط بنا کر چیڑ اور بلوط کے درختوں سے پہاڑی علاقوں کو دوبارہ سرسبز کیا جا سکتا ہے۔ گلگت بلتستان میں جونیپر اور بید کے جنگلات گلیشیئرز کے پگھلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی پٹی کا کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں دریاؤں کے کناروں پر جنگلات اور ڈھلوانوں پر گہرے جڑوں والے درخت لگانے سے لینڈ سلائیڈنگ اور پن بجلی کے منصوبوں میں سلٹ جمع ہونے کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔
شہری علاقوں کو بھی سبز راہداریوں کے ذریعے ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا جو شہروں کو ٹھنڈا کریں، ہوا کو صاف کریں اور بارش کے پانی کو سنبھالیں۔ جنگلات کو محض آرائش نہیں بلکہ ماحولیاتی ڈھانچے کے طور پر دیکھنا ہوگا، جو پانی کے نظم و نسق، آفات کی منصوبہ بندی اور شہری ڈیزائن میں جُڑے ہوں۔ اس کے لیے حکومت کے تمام اداروں کو یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو وزارتِ آبی وسائل، صوبائی جنگلاتی محکموں اور مقامی کونسلوں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کرنی ہوگی، جبکہ جامعات، مقامی برادریاں اور ماہرینِ موسمیات اس عمل میں رہنمائی فراہم کریں۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلز کے ذریعے نگرانی ناگزیر ہے تاکہ ماحولیاتی نتائج کو وقتاً فوقتاً جانچا اور بہتر بنایا جا سکے۔ سب سے بڑھ کر پاکستان کی نوجوان نسل کو اس تبدیلی کے مرکز میں رکھنا ہوگا۔ جامعات میں “ری وائلڈنگ” منصوبے، اسکولوں میں جنگلاتی سرپرستی کے پروگرام اور عوامی مہمات کے ذریعے یہ بیانیہ بدلنا ہوگا کہ درخت لگانا خیرات نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، نمائشی اقدام نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی ہے۔ اگر چین کے جنگلات آسمان کو بدل سکتے ہیں تو پاکستان کے جنگلات مستقبل کو بدل سکتے ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب ہم دانشمندی سے لگائیں، دیانتداری سے حکمرانی کریں اور احتیاط سے پروان چڑھائیں۔
